
گیارہ ذی الحج 1440ھ عیدالاضحی کے دوسرے دن کا سورج طلوع ہونے میں چند لمحے باقی ہیں۔ آذان فجر کا وقت قریب ہے۔مکہ المکرمہ کے ایک بڑے اسپتال کے سرجیکل یونٹ میں داخل ایک حاجی مریض کی حالت اچانک بگڑنے لگی۔ مریض کے دل کی دھڑکن بند اور سانسوں کا بندھن ٹوٹ چکا تھا۔ فوری طبی مدد فراہم کرنے کا نظام (کوڈ بلیو) فعال کیا جاچکا تھا۔ طبی عملہ بھی موقعہ پر پہنچ چکا تھا۔ 30 منٹ کی ماہرانہ طبی کوششوں کے باجود ہم سب مریض کوبچانے میں ناکام ہوگئے۔ 50 سالہ بنگلہ دیشی حاجی اپنی زندگی کا سفر مزید جاری نہ رکھ سکا۔ ان کی روح قفس عنصری سے آزاد ہوچکی تھی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے تھے۔ فریضہ حج ادا کرنے کی غرض سے رخت سفر باندھ کر بیت اللہ کی طرف پہلی قدم نے ان کے گناہوں کا بوجھ اتار دیا تھا۔ وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ یہ ان کی زندگی کا آخری سفر ہے۔ اس سے آگے وہ سفر آخرت پر روانہ ہوکرکبھی پلٹ کر واپس نہیں لوٹ سکیں گے۔ یہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ وہ عام موت نہیں مرے بلکہ انہیں شہادت کا بلند مرتبہ بھی نصیب ہوا۔ شاید وہ کوئی بہت ہی نیک انسان تھا اور شاید اللہ کے ہاں ان کا شمار برگزیدہ اور پسندیدہ لوگوں میں سے تھا۔
سنا ہے اللہ کے نیک بندے اس دنیا میں مختلف آزمائشوں سے گزرتے ہیں اور دنیاوی مصائب اور تکالیف سے اکثر ان کا واسطہ پڑتا ہے۔ جو دنیا کی پریشانیوں اور تکالیف پر صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، تو آخرت کی کامیابی ان کا مقدر اور جنت کی زمین ان کی قدم بوسی کیلئے ترستی ہے۔اس حاجی کی کہانی پڑھ کر شاید آپ کو یہ اندازہ ہوجائے گا کہ بلد آمین اب بلدآمین نہیں رہا۔ یہاں بھی ہر قسم کے جرائم نے سر اٹھایا ہوا ہے۔ یہاں مختلف جرائم پیشہ گروہ سرگرم رہتے ہیں جن کے شر سے اللہ کے مہمان بھی محفوظ نہیں۔ پرانے زمانے میں حجاج کرام جب پیدل حج کے سفر پر روانہ ہوتے تو مختلف علاقوں میں ان کے قافلوں کو اکثر لوٹا جاتا تھا۔ فریضہ حج کی ادائیگی آسان کام نہیں۔ حج میں درپیش ہرقسم کے مصائب و تکالیف کو صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرنا ہی مقبول حج اور کامیابی ہے۔ یہ حاجی جن کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا، اپنی بیوی کے ساتھ جب حجاز مقدس کیلئے حج کے سفر پر روانہ ہوئے تو انہیں قطعاٌ یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کا یہ سفر ان کیلئے کئی تکالیف اور حوادث کا باعث بنے گا۔ وہ دونوں تو بس حج کی سعادت حاصل کرنے کیلئے بیتاب تھے۔ وہ محنت مزدوری کرکے حج کیلئے تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کرکے اپنی جمع پونجی سے حج کی سعادت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ان کے پاس اتنی رقم جمع ہوئی جس سے وہ فریضہ حج ادا کرنے کے قابل ہوئے، تو امسال اللہ نے بھی ان پر خصوصی کیا اورحج کیلئے ان کے نام کا قرعہ نکل آیا۔ دونوں میاں بیوی اپنے آپ کو دنیا کے خوش قسمت ترین اور اللہ کے محبوب انسان سمجھ رہے تھے۔ ان کی زبان رب الکریم کے ذکر اور شکریہ کلمات سے ہر وقت تر رہتی تھی۔ ان کی خوشی دیدنی تھی۔ جوں جوں فاصلہ سمٹ رہا تھا اور اللہ کا گھر قریب آرہا تھا،وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ اللہ کے اس احسان پر وہ سجدہ شکر بجا لاتے۔ وہ بے حد مسرور تھے۔ کعبہ شریف پر پہلی نگاہ پڑی، دیدار کعبہ نصیب ہوا۔ خوش بختی جاگ اٹھی،گناہوں سے پاک ہوئے۔
یہ قبولیت کی گھڑی تھی جس میں شاید حاجی صاحب نے اپنے لئے شہادت کی موت مانگی ہو اور ان کی یہ دعا محض خواہش نہ رہی ہو بلکہ شرف قبولیت حاصل کر چکی ہو۔حاجی صاحب دوسرے حاجیوں کی طرح یہاں مکہ المکرمہ کی مقدس اور پرامن سرزمین پر خود کو مکمل محفوظ تصور کر رہے تھے۔اور کرنا بھی چاہئے کہ یہ امن کا شہر ہے مگر بدقسمتی سے ایسا ہرگز نہیں۔ یہاں آپ محفوظ ہوتے ہیں اور نہ آپ کا سامان۔ یہاں بھی لٹیروں نے مختلف شکلوں میں ڈھیرے جما رکھے ہیں۔ ایک طرف اگر حج و عمرہ کی ایجنسیاں حاجیوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہوتی ہیں تو دوسری طرف یہاں کے ٹیکسی ڈرائیورز بھی کسی سے کم نہیں۔ جو دس ریال کے فاصلہ کو مختلف گلیوں کوچوں میں گھماپھراکر طویل بناتے ہیں اور حاجیوں سے سو دوسو ریال وصول کرتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ اکثر حجاج کرام سے قربانی کے نام پر پیسے وصول کئے جاتے ہیں جبکہ عملاً ان کے لئے قربانی نہیں کی جاتی بلکہ یہ ان کے قربانی کے پیسوں سے ہی اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ کوئی جیب تراش کر لوٹتا ہے تو کوئی زور زبردستی، زخمی یا تشدد کرکے۔یہ نہ صرف لوٹتے ہیں بلکہ کئی حجاج کرام سے تو ان کی زندگی تک چھین لی جاتی ہے۔ کسی کو علم نہیں ہوتا کہ یہاں مسلمانی کے نام پر لٹیرے ہر طرف حجاج کرام کو شکار بناکر انہیں نوچنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ اکثریت ان حجاج کرام کی جیب پر نظر رکھے ہوئی ہے جبکہ قلیل لوگ ایسے ہیں جو ان حجاج کرام کی خدمت کو سعادت سمجھتے ہیں۔شومئی قسمت کہ جن حاجی صاحب کی میں بات کررہا ہوں، ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا واقعہ پیش آیا۔حاجی صاحب مکہ المکرمہ کے مختلف مقامات کی زیارت پر نکلے تھے کہ دو چار لٹیروں نے انہیں پکڑلیا۔وہ انہیں پہاڑی کی طرف لے گئے اور ان کے پیٹ پر چاقو اور خنجر سے پے درپے وار کرکے شدید زخمی کردیا۔ ان کے پیٹ پر کئی گہریں ضربیں لگائی گئی تھیں اور ان کے پاس جو بھی موجود تھا،اسے زبردستی چھین لیا گیا تھا۔ ان ظالم وحشی درندوں نے ضیوف الرحمن (اللہ کے مہمان) کو بیدری سے لوٹ لیا تھا۔ مکہ جسے بلد آمین کہا گیا ہے،بھی شریروں کی شر سے محفوظ نہیں رہا (یہ کسی ایک حاجی کی کہانی نہیں بلکہ یہاں کئی حجاج کرام مختلف مصیبتوں اور پریشانوں کا سامنا کرتے ہیں)۔ حاجی صاحب کو زخمی حالت میں اسپتال لاکر ایمرجنسی وارڈ سے فوری طور پر آپریشن تھیٹر منتقل کردیا گیا۔ حج سے دو دن قبل پیٹ کا آپریشن ہوگیا تھا۔ آئی سی یو میں داخل مریض اور وینٹیلیٹر لگے مریضوں کے علاوہ دوسرے تمام حاجی مریضوں کو سعودی حکومت قافلہ کی شکل میں طبی عملہ اور سیکورٹی کی زیرِنگرانی وقوف عرفات کیلئے لیکر جاتے ہیں اور انہیں شام کو واپس لایا جاتا ہے۔ لیکن پچاس سالہ بنگلہ دیشی بزرگ حاجی کو قافلہ میں بھی محض اس لئے شامل نہیں کیا گیا کہ وہ اسپتال کے ڈائریکٹر کو حالت پوچھنے پر کوئی جواب نہیں دے پائے تھے۔ یہ حاجی صاحب اچانک درپیش حادثہ کے سبب شدید ذہنی صدمہ سے دوچار ہوگئے تھے اور وہ کسی سے بھی بات چیت نہیں کرتے تھے۔
وہ اپنے جسم تک کو چھونے سے ڈرتے اور انہیں چھونے سے جسم میں اکھڑاہٹ پیدا ہوجاتی تھی۔ ماہر نفسیات سے ان کامعائنہ کروا دیا گیا تھا مگر دو چار دن میں ذہنی صدمہ سے نکلنا ممکن نہیں تھا۔ مریض کوئی شے حلق سے نیچے نہیں اتارتا تھا اور بذریعہ ورید غذائی کمی کو پوار کیا جا رہا تھا۔ انہیں گہری ذہنی چوٹ لگی تھی اور اس اچانک رونما ہونے والے واقعہ نے انہیں بری طرح جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ اپنی بیوی تک کو پہچاننے سے قاصر تھے۔
اس حالت کو”پوسٹ ٹراماٹیک شاک“ بھی کہا جاتا ہے۔وہ شدید ذہنی تناؤ (ڈپریشن) یا ذہنی صدمہ برداشت نہ کرسکے اور عید کے دوسرے دن علی الصباح چار بجے،تمام تر کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہوسکے۔ ان کے ساتھ آئی ہوئی ان کی بیوی غم کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ وہ آہ وزاری اور فریاد کر رہی تھی۔ رو رو کر ان کا برا حال ہوگیا تھا۔ ان کی فریاد میں مسلمانوں سے شکوہ تھا اور مسلمانوں کے رویوں پر کئے سوالات، جن کے جواب دینے سے ہم سب قاصر تھے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی فریاد اور عرش الہٰی میں کوئی پردہ حائل نہ ہوا ہوگا۔مگر اللہ بہت صابر بادشاہ ہے ورنہ اللہ کے مہمانوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ہر شخص کو اسی وقت زندہ زمین میں دھنسا لینا چاہئے۔ لیکن اللہ کے ہاں حساب کتاب کا ایک دن مقرر ہے۔ سب کو وہاں جاکر حساب دینا ہے۔ ان پردیارِغیر میں جو گزری اور جو تلخ تجربہ وہ ساتھ لیکر جار ہی ہے، اس سے ہم مسلمانوں کے سر شرم سے ضرور جھک جانا چاہئے۔دونوں میاں بیوی اللہ کے معزز مہمان تھے اور اللہ کے ان مہمانوں کو لٹیروں نے نہ صرف لوٹا بلکہ ان میں سے ایک کی جان بھی لے لی۔ یہ کسی ایک انسان کاقتل نہیں بلکہ پوری انسانیت کا قتل ہے۔کہ آمن و آشتی کے اس شہر کو بھی ہم مسلمانوں نے چند ٹکوں کی خاطر اللہ کے مہمانوں کیلئے خون آلود بنا دیا۔ اللہ ایسے دردندہ صفت انسانوں سے حرمین شریفین کو پاک کرے اور ان ظالموں کے شر سے حجاج کرام اور عامہ المسلمین کو حفظ و امان نصیب کرے۔
حاجی صاحب کویوم عرفہ عرفات کا وقوف نصیب نہیں ہوا۔ انہوں نے عرفات نہ جاکر بھی مقبول حج ادا کردیا لیکن یوم محشر جب ان کا ہاتھ مجرمین کے گریبانوں پر ہوگا اور وہ اپنے قتل کا حساب مانگ رہے ہوں گے، تو وہ لوگ اللہ اور اللہ کے اس نیک بندے کو کیا جواب دیں گے؟ جو ان کی حج میں رکاوٹ بنے اور جن کے دیئے ہوئے زخموں سے وہ موت کی وادی میں چلے گئے؟ اپنے معصوم بچوں کو ان کی ماں کیا جواب دے گی؟ ان مجرمین کے جرم کی سزا کے تصور سے ہی میری روح کانپ اٹھتی ہے اور میرے پیروں تلے زمین کھسک جاتی ہے۔حرمین کے تقدس کو پامال کرنا اللہ کی نافذ کردہ حدود کے خلاف بغاوت کرنے کے مترادف ہے۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرب قیامت میں لوگ حدود حرم کے تقدس کو اس طرح پامال کریں گے جیسے وہ حٍل (حلال علاقہ) میں رہ رہے ہوں اور لوگ حرم کو بھی حٍل سمجھنے لگیں گے۔ آج حرمین کی سرزمین پر ہر ناپسندیدہ عمل کیا جاتا ہے۔ عمرہ و حج کی آڑ میں پاکستان سے خصوصاً ایسے گروپ لائیں جاتے ہیں جن کا مقصد حج و عمرہ ادا کرنا نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاکر بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ جو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ وہ حج یا عمرہ کیلئے آئے ہوئے ہیں۔ کسی نے ان کا پرس چھین لیااور اب وہ خالی ہاتھ ہیں۔ اس طرح مالی مدد مانگ کر وہ بھی حجاج کو لوٹ رہے ہیں۔ اس منافع بخش دھندے میں کئی عمرہ ایجنسیاں بھی ملوث ہیں۔یہ دھندا حرمین شریفین میں بڑے زور و شور سے چل رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ خواتین کی سپلائی تک ہوتی ہے۔ خوف خدا ختم ہوچکا ہے اور حلال و حرام کی تمیز باقی نہیں رہی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ کیا واقعی ہم مسلمان ہیں؟