
شب و روز کے اوقات کے لیے ایک عمل متعین کرنا، آنے والے وقت کے لیے مخصوص عمل کا ترتیب دینا، اور زندگی کے تمام اقات کے لیے کاموں کی ترتیب و تشکیل کے عمل کو ”نظام الاوقات“ کہا جاتا ہے۔ زندگی میں مختلف کاموں اور امور کی ادائیگی ہوتی ہے۔ ان کاموں کو آسان، سہل اور ان سے عہدہ برآں ہونے کی صورت یہی ہے کہ ایک نظامِ عمل تشکیل دیا جائے، اور اس پر پابندی سے عمل پیرا ہوا جائے۔
اوقات کا یہ نظام بناتے وقت کاموں کی نوعیت اور کیفیت کو پیش نظر رکھا جائے، یعنی کہ کون سا کام کس وقت زیادہ بہتر طریقہ سے ادا ہوسکتا ہے، یا کون سا وقت کس عمل کے لیے بہترین اور سازگار موحول فراہم کرسکتا ہے۔
سب سے پہلے جو کام ضروری ہو، جس پر آپ کی زندگی کا انحصار ہو اُسے زیادہ وقت دیجیے۔ طلبہ کے لیے مطالعہ سے اہم کوئی بھی چیز نہیں ہوتی۔ نظام الاوقات کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب پہلے سے ایک پروگرام ترتیب شدہ ہوگا اور آنے والا وقت عملِ مخصوص کے لیے مختص ہوگا، تو ذہن کی توجہ اس جانب مبذول ہوگی۔ ذہنی طور پر انسان پہلے سے تیار ہوتا ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہر کام اپنے مقررہ وقت میں پوری دل جمعی سے ہوتا ہے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے ذمہ بہت سے کام ہوں، اور ان کے لیے ایک خاص وقت مقرر نہ کیا گیا ہو، تو طبیعت میں انجانی سے الجھن پیدا ہوتی ہے۔ ایک کام کی ادائیگی میں ذہن اور طبیعت دوسرے کاموں میں اٹکا ہوتا ہے، جس سے موجودہ اور آنے والے تمام کام متاثر ہوتے ہیں، اور ایک بھی کام صحیح طریقہ سے نہیں ہو پاتا۔
اب طلبہ کس طرح اپنا وقت تقسیم کرسکتے ہیں؟ اس کے لیے ایک خاص نظام یعنی ٹائم ٹیبل بنانا ہوگا۔ اپنی پڑھائی کے لیے وقت مقرر کریں۔ ایسا کرنے سے پڑھائی کے لیے وقت نکالنا آسان ہوگا۔ ورنہ آج کا کام کل پر ٹالتے رہیں گے۔ نظام الا وقات میں ان باتوں کا ضرور خیال رکھا جائے کہ کس وقت پڑھائی کرنی ہے؟ کون کون سے مضامین کو کتنا وقت دینا ہے؟ اس حوالہ سے کھیل کود سمیت دیگر سرگرمیوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ گھر آئے مہمانوں سے ملنا، بیماروں کی عیادت کرنا، خوشی کی تقریبات میں شریک ہونا اور گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانا یہ سب اپنی جگہ اہم امور ہیں۔
اس طرح جو مضمون مشکل ہو، اس کے لیے زیادہ وقت رکھا جائے۔ مزید یہ بات اہم ہے کہ یہ سوچ کر نظام الاوقات بنایا جائے کہ آپ کا دماغ کس وقت زیادہ مشکل کام کرسکتا ہے۔ کچھ لوگ صبح کے وقت زیادہ مشکل کام کو کرنے کے عادی ہوتے ہیں، جب کہ بعض افراد رات کے وقت مشکل کاموں کی سرانجامی میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں اپنا مقابلہ کسی دوسرے سے نہ کریں۔ یہ نہ سوچیں کہ فلاں اس وقت مطالعہ کرتا ہے، مَیں بھی ایسا ہی کروں گا۔ اگر آپ کے بہن بھائی، کزن یا دوست کسی دوسرے وقت مطالعہ کرتے ہیں۔ آپ اس کی فکر نہ کریں۔ آپ خود اپنا نظام وضع کریں۔
مطالعہ کے لیے بہترین وقت کا انتخاب ایک کٹھن عمل ہوتا ہے۔ صبح سکول، کالج یا یونیورسٹی میں گزر جاتا ہے۔ بعد میں کھیل کود اور رات کو پڑھائی کرنی ہوتی ہے۔ ہمارے استادِ محترم جناب حمید اللہ صاحب کے بقول ”نظام الاوقات کے لیے بہترین وقت اللہ نے نماز کی صورت میں ہمیں عطا کیا ہے۔ ہر نماز کے بعد عملِ مخصوص کا انتخاب کریں، اور اگلے نماز کے بعد دوسرا کام۔“
پھر بھی اس حوالے سے تین اوقات ایسے ہیں جس میں آپ بہترین مطالعہ کرسکتے ہیں۔
٭ رات تین بجے سے لے کر صبح کی نماز تک کا وقت:۔ یہ وقت مطالعہ کے لیے بہترین اور پہلے نمبر پر ہے۔ اس وقت انسانی ذہن تازہ دم رہتا ہے۔ تین بجے کا وقت اس وجہ سے کہ امتحانات موسمِ سرما میں ہوتے ہیں، جس میں راتیں لمبی ہوتی ہے۔ نیند پوری ہوتی ہے اور مطالعہ کا وقت زیادہ ملتا ہے۔ نیز اس وقت ماحول میں شور شرابے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کیوں کہ گھر ہو یا ہاسٹل سب افراد سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ مکمل یکسوئی سے مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ یہ وقت تہجد کے لیے مختص ہے۔ امام بخاری کا معمول تھا کہ شب کے آخری پہر میں اٹھتے اور تہجد کی نماز کی ادائیگی کے بعد حدیث لکھتے اور مطالعہ فرماتے۔ اس وقتِ مخصوص کی تعبیرعلامہ اقبال نے یوں کی ہے کہ
واقف ہو اگر لذتِ بیداریِ شب سے
اونچی ہے ثریا سے بھی یہ خاکِ پُراَسرار
٭سورج ابھرنے سے لے کر دن بارہ بجے تک:۔ اس وقت صبح اٹھنے سے دماغ تازہ دم رہتا ہے۔ اگر یہ وقت سکول کالج یا یونیورسٹی میں صرف ہوتا ہے، تو ٹھیک ورنہ اکثر امتحان قریب آنے سے چھٹیاں ہوتی ہیں۔ ان چھٹیوں میں اس وقت بہترین مطالعہ ہو سکتا ہے۔ دن کا آغاز مطالعہ سے ہو، تو سارا دن مطالعہ کیے ہوئے اسباق ذہین نشین رہتے ہیں۔ دوسرا دن کے آغاز میں مطالعہ کیے ہوئے اسباق کی دہرائی دن کے اختتام میں ہوسکتی ہے۔ دن بارہ بجے کے بعد کا وقت کھانا، نمازِ ظہر، آرام اور کھیل کود کے لیے مختص کریں۔
٭ نمازِ عشا سے لے کر رات گیارہ بجے تک:۔ نمازِ عشا کے بعد رات کے گیارہ بجے تک بہترین مطالعاتی دور ہے۔ اس وقت دن بھر کے تمام کام کاج ختم ہوئے ہوتے ہیں۔ انسان ذہنی طور مطمئن رہتا ہے۔ اس وقت اگر سکول اور کالج میں پڑھائے گئے اسباق کی دوہرائی کی جائے، تو کافی حد تک فائدہ مند عمل ہے۔ بعد میں امتحان قریب آنے کے وقت مطالعہ کریں۔ رات کے گیارہ بجے کے بعد کوئی کام نہ کریں۔ جتنا جلدی ہو سکے سو جائیں۔
اب آپ کے پاس وقت کا تعین ہوچکا۔ ان تین وقتوں میں جو بھی آپ کے لیے بہترین ہو، اس وقت مطالعہ کریں۔ لیکن مطالعہ کے لیے وقت نکالنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ طلبہ کو بہرصورت مطالعہ ضرور کرنا ہوتا ہے، لیکن کاروباری حضرات یا والدین اگر مطالعہ کا شوق رکھتے ہیں، تو اکثر وقت کی کمی کا رونا روتے ہیں۔ ایسے میں طلبہ، والدین اور کاروباری حضرات مطالعہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔ دوسرے غیر اہم کام جیسے ٹی وی، گپ شپ وغیرہ کو مطالعہ پر ترجیح نہ دیں۔ جو کام آپ کے بغیر ہوسکتا ہو، وہاں معذرت کردیں۔ گاڑی میں سفر کے دوران میں مطالعہ عادت بنا لیں۔ پانچ دس منٹ کے کاموں میں کو جتنا جلدی ہو سکے کریں۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا کام ہوگا، لیکن ذہنی اضطراب اور بے چینی میں کافی حد تک اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ مختصر اور جامع گفتگو اپنائیں۔ وقت پر فیصلے کریں اور اچھے فیصلے کریں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر ممکن فیصلے کا فائدہ اور نقصان نوٹ کریں اور بہترین فیصلہ کا انتخاب کریں جس میں نقصان کم سے کم ہو۔ مسائل کا حل اور اچھے فیصلے کے انتخاب کے حوالہ سے اِن شاء اللہ آگے لکھیں گے، جس کا براہِ راست تعلق مطالعہ سے ہے۔