
وزیراعلیٰ صاحب کے اپنے آبائی علاقہ تحصیل مٹہ کے تین بڑے گاوؤں شور، گوالیرئی، راحت کوٹ اور ملحقہ گاوؤں کے ایک لاکھ سے زائد مکینوں کو صحت کی بنیادی سہولیات میں مشکلات کا سامناہے۔ ان یونین کونسل کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ایک ”بیسک ہیلتھ یونٹ“ پر ہزاروں لوگوں کا بوجھ ہے۔ زیادہ تر بیسک ہیلتھ یونٹ میں ڈاکٹرز اور ادویہ موجود نہیں ہوتیں۔ ان علاقوں میں مستند ڈاکٹر یا پرائیویٹ اسپتال بھی موجود نہیں۔ علاقے کے لوگ غیر تربیت یافتہ یا اسپتالوں میں کلاس فور اور خاکروب کی ڈیوٹی کرنے والوں سے علاج کرانے پر مجبورہیں۔ مختلف گاوؤں میں عطائی ڈاکٹر غیر معیاری ادویہ لوگوں کو دے رہے ہیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولنس کی سہولت موجود نہیں۔ لوگ پندرہ کلومیٹر دورمٹہ اسپتال اور زیادہ تر پچپن کلومیٹر دور سیدوشریف اسپتال جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔
مٹہ کے شور یونین کونسل جس کی کل آبادی تین ہزار سے زائد ہے، کے رہائشی امان خان کا کہناہے کہ شور کے علاقے میں تین ہزار سے زائد آبادی کے ساتھ منسلک درجنوں گاؤں ہیں، جن کی مجموعی آبادی دس ہزار سے زائد بنتی ہے۔ ان تمام لوگوں کے لیے ایک بیسک ہیلتھ یونٹ ناکافی ہے۔ ان کاکہناہے کہ شور کے ساتھ منسلک درجنوں گاؤں کے رہائشی اسی ایک بیسک ہیلتھ یونٹ سے علاج کرانے آتے ہیں، مگر زیادہ ترلوگ بغیر علاج ہی کے واپس جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کیوں کہ یہاں پرایک ڈاکٹر کی ڈیوٹی ہوتی ہے جو صبح تا شام کام کرتاہے۔ اس کے پاس مناسب ادویہ موجود نہیں ہوتیں۔ اس کے ساتھ ایمرجنسی کی صورت میں کسی بھی قسم کی امداد نہیں دی جاسکتی۔ ڈاکٹر صرف معائینہ کرتے ہیں اور ادویہ تجویز کرتے ہیں۔ علاقہ میں کوئی باقاعدہ میڈیکل سٹور بھی موجود نہیں۔ ”بیسک ہیلتھ یونٹ میں لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں۔ زچکی کے کیسوں میں بھی خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین کو دیگر امراض میں شدید مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ہمارے علاقے پسماندہ ہیں۔ روایات اور کلچر کی وجہ سے خواتین، مرد ڈاکٹروں کے پاس بڑی مشکل سے جا پاتی ہیں۔ نیز ان کے سامنے اپنا مسئلہ بیان بھی نہیں کرسکتیں۔ اک معمولی حادثے کی صورت میں بھی لوگ پندرہ کلومیٹر دور تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال مٹہ جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔“
امان خان کا مزید کہناہے کہ ان کے دادا جان کو تکلیف ہوئی، توا نہیں بی ایچ یو لے جایا گیا، جہاں پر ڈاکٹر نے آرام کی دوا لکھ کر دی، مگر درست تشخیص نہ ہوسکی۔ ”ہم نے ان کو پندرہ کلومیٹر دور مٹہ تحصیل ہیڈکواٹر اسپتال منتقل کردیا، جہاں پرہمیں بتایاگیا کہ ان کے گردوں میں مسئلہ ہے اور کڈنی اسپتال ریفر کیا۔ جب ہم نے ان کو کڈنی اسپتال پہنچایا، تواسی اثنا میں خاصی دیر ہوچکی تھی جس کی وجہ سے وہاں دادا جان جاں بحق ہوگئے۔ کڈنی اسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایاکہ ان کی موت انہیں یہاں دیر سے لانے کی وجہ سے ہوئی۔ ہمارے مرحوم دادا جان کے جسم میں وقت زیادہ گزرنے کی وجہ سے زہریلا مواد پھیل گیا تھا۔ اگر ان کی بروقت اور درست تشخیص ہوئی ہوتی، تو ان کے بچنے کے امکانات بہرحال موجود تھے۔ اس طرح سیکڑوں لوگوں کو مشکلات کا سامناہے۔ ان علاقوں میں زیادہ ترلوگ مقامی عطائی ڈاکٹروں کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔“
ان کا مزید کہنا ہے کہ علاقے کے لوگوں کو صحت کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ علاقے کے لوگ زیادہ تر غریب ہیں۔ اس لیے وہ اپنا معیاری علاج بھی نہیں کر پاتے۔
تحصیل مٹہ کا ”گوالیرئی یونین“ کونسل بھی صحت کے حوالے سے متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ گوالیرئی کے سماجی کارکن جوہراقبال اپنے دیگر ساتھیوں سمیت بتاتے ہیں کہ گوالیرئی میں ایک ”بیسک ہیلتھ یونٹ“ موجود ہے، مگر اس یونٹ میں سرے سے ڈاکٹر ہی نہیں۔ پہلے جو ایک ڈاکٹرموجود تھا، اس کا تبادلہ ہوگیاہے، اس کی جگہ دوسرے کو تعینات نہیں کیاگیا۔ جوہر اقبال کے بقول:”بی ایچ یو گوالیرئی پر یونین کونسل برتھانہ اور بہا کے ہزاروں لوگوں کا بھی انحصار ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ گوالیرئی کی سولہ ہزار آبادی کے ساتھ مجموعی طورپر چالیس ہزار کے لگ بھگ لوگ گوالیرئی بی ایچ یو سے علاج کراتے ہیں، مگریہ یونٹ اتنی بڑی آبادی کے لیے ناکافی ہے۔ لوگوں کو عام امراض کھانسی، پیچش، درد، بخار وغیرہ کے لیے پندرہ کلومیٹر دور مٹہ اسپتال جانا پڑتا ہے۔ یا پھر زیادہ تر لوگ مقامی غیر تربیت یافتہ بابو، میڈیکل ٹیکنیشن اور اسپتالوں میں دیگر ڈیوٹیاں دینے والوں سے علاج کرانے پر مجبور ہیں۔“ جوہر اقبال کا مزید کہنا ہے کہ مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں ہپٹائٹس کے امراض بڑھ رہے ہیں جو کہ لوگوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں متبادل علاج موجود ہی نہیں۔ زچکی کے دوران کئی خواتین جان سے ہاتھ دھو چکی ہیں۔ علاقے کے لوگ زیادہ تر زمین دار ہیں، غریب ہیں، ان کے پاس اتنے وسائل موجود ہی نہیں کہ اپنی گاڑی میں مریضوں کو بروقت شہر کے اسپتال میں منتقل کریں، یا شہر میں پرائیویٹ ڈاکٹر سے علاج کرائیں۔ ان کے مطابق کئی مرتبہ اعلیٰ حکام اور سیاسی رہنماؤں سے علاقے میں کٹیگری بی اسپتال کی تعمیر کا مطالبہ کیاگیا ہے، مگر تاحال اس پر کسی قسم کا عمل درآمد نہیں ہوا۔”الیکشن کے دوران متوقع منتخب نمائندوں سے وعدے لیے جاتے ہیں،مگر کامیاب ہونے کے بعد وہ لوگ اپنے کیے ہوئے وعدے بھول جاتے ہیں۔“
مٹہ کے ایک اور بڑے یونین کونسل راحت کوٹ میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ویسے تو علاقے کی آبادی تیرہ ہزار بتائی جا رہی ہے، مگر اس کے ساتھ منسلک درجنوں گاؤں ہیں، جن میں بھی صحت کی سہولیات ناکافی ہیں۔ مقامی صحافی نویداختر کا کہناہے کہ راحت کوٹ میں سرے سے ”بیسک ہیلتھ یونٹ“ موجود ہی نہیں ہے، جب کہ پورے یونین کونسل میں مستند ڈاکٹر بھی کوئی موجود نہیں جو پرائیویٹ طور پر لوگوں کو علاج کی سہولیات دے سکے۔ ”ہزاروں کی آبادی کے لیے کسی ایک بھی لیڈی ڈاکٹر کی کوئی سہولت نہیں۔ ہزاروں لوگ یاتو عطائی ڈاکٹروں، یا پھر غیر تربیت یافتہ میڈیکل ٹیکنیشنز سے علاج کرانے پر مجبور ہیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں علاقے کے لوگ پندرہ کلومیٹر دور مٹہ تحصیل ہیڈ کواٹر اسپتال میں علاج کرانے پر مجبورہیں جب کہ علاقے کے زیادہ تر لوگ غریب ہیں۔ اپنے لیے ادویہ تک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اگر حکومت کم ازکم علاقے میں ایک ”بیسک ہیلتھ یونٹ“ قائم کردے، تو اس سے علاقے کے ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہوگا۔“
سوات میں محکمہئ صحت کی طرف سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق پورے ضلع کے 65 یونین کونسلوں کے لیے 41 بیسک ہیلتھ یونٹس قائم ہیں، جن میں آٹھ سے نو تک میڈیکل سٹاف کام کرتا ہے۔ قانون کے مطابق ایک مستند ڈاکٹر، دو ایل ایچ وی، ایک دایہ باقی کلاس فور جن میں چوکیدار بھی شامل ہے، ایک ایل ایچ وی کو سالانہ اوسطاً ڈھائی سے تین لاکھ روپے مالیت کی ادویہ اور طبی سہولیات دی جاتی ہیں۔
اس طرح سوات میں ایک یونین کونسل کے لیے ایک بی ایچ یو دیا جاتاہے، جس کی آبادی بارہ سے سولہ ہزار نفوس پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق اس وقت سوات کے دوردراز علاقے جن میں کالام، اتروڑ، برشور بشمول ایسے دس بی ایچ یوز ہیں جن میں سرے سے کوئی ڈاکٹر موجود نہیں۔ کوئی بھی ڈاکٹر وہاں ڈیوٹی دینے پر راضی نہیں جب کہ عالمی ادارہئ صحت کے اصولوں کے مطابق پانچ ہزار کی آبادی کے لیے ایک ڈاکٹر ہونا ضروری ہے۔ اس طرح سوات کے تمام ”بی ایچ یو ز“ میں لیبر روم بھی موجود نہیں۔ زچگی کے لیے صرف ابتدائی طبی امداد دی جاتی ہے، جب کہ ”بی ایچ یو“ ایک ہی شفٹ میں کام کرتا ہے، وہ بھی صبح آٹھ بجے سے دوپہر دوبجے تک۔ اس پر طرہ یہ کہ سرکاری چھٹی بھی کی جاتی ہے۔
خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ کے آبائی حلقے کے تین بڑے یونین کونسلوں اور ملحقہ علاقوں کو طبی سہولیات کے بارے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سوات ڈاکٹر اکرام شاہ سے رابطہ کیا گیا، تو انہوں نے کہاکہ گوالیرئی میں ڈاکٹر کی تعیناتی کے لیے کام ہو رہا ہے۔ وہ وہاں بہت جلد کام شروع کرے گا۔ گوالیرئی، راحت کوٹ اور شورمیں بی ایچ یو موجود ہے، جس میں سٹاف بھی ہے۔ علاقے کے لوگوں کو دستیاب وسائل کے مطابق طبی امداد دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر اکرام شاہ مانتے ہیں کہ تمام بی ایچ یو زمیں پالیسی کے مطابق صبح نو سے شام پانچ بجے تک کام ہوتاہے، پھر بند کردیاجاتاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت سے باقاعدہ دس بی ایچ یوز کے لیے لیبر روم کا مطالبہ کیا گیا ہے جوکہ چوبیس گھنٹے کام کریں گے۔ تاکہ خواتین کو زچگی کے دوران طبی امداد مہیا ہو۔