کالم نگاری

غالبؔ و اقبالؔ کے لطیفے

امجدعلی سحابؔ

✍️ کالم نگار: امجدعلی سحابؔ


اشتہار / Advertisement
کامریڈ امجد علی سحابؔ لفظونہ ڈاٹ کام کے بانی مدیر ہیں۔ اس کے ساتھ روزنامہ آزادی سوات/ اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے بھی ایڈیٹر ہیں۔ اس کے علاوہ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ ڈان اُردو سروس کے ساتھ بلاگر کے طور پر کام کر رہے ہیں، جب کہ وی نیوز اُردو کے ساتھ فری لانس جرنلسٹ کے طور پر وابستہ ہیں۔ درس و تدریس کے شعبے سے بھی عرصہ 25 سال سے وابستہ ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دل چسپی رکھتے ہیں۔

پرسوں ایک کتاب ”شاعروں، ادیبوں کے لطیفے“ از شاہد حمید ہاتھ لگی۔ کتاب کافی ضخیم ہے اور دلچسپ بھی۔ بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ کیوں نہ ایک سلسلہ شروع کیا جائے، جس میں قارئین کرام کے ہونٹوں پر تھوڑی مسکراہٹ بکھیری جائے۔ سرِ دست چچا غالبؔ اور علامہ اقبالؔ کے دو دو لطیفے ملاحظہ ہوں:
٭ مرزا غالبؔ کے پاس اکثر گمنام خطوط گالیوں سے بھرے ہوئے آیا کرتے تھے، جن میں ان کی شاعری پر اعتراض کیے جاتے تھے اور اس کا مذاق اُڑایا جاتا تھا۔ ایک روز اسی قسم کا ایک خط آیا جس میں ان کو ماں کی گالی دی گئی تھی، پڑھ کر کہنے لگے:”اس اُلو کو گالی دینی بھی نہیں آتی۔ بوڑھے یا ادھیڑ عمر آدمی کو بیٹی کی گالی دیتے ہیں، تاکہ اس کو غیرت آئے۔ جوان کو جورو کی گالی دیتے ہیں، کیوں کہ اسے اپنی بیوی سے زیادہ تعلق ہوتا ہے۔ بچے کو ماں کی گالی دیتے ہیں، کیوں کہ وہ ماں کے برابر کسی سے مانوس نہیں ہوتا۔ یہ بے وقوف جو 72 سال کے بوڑھے کو ماں کی گالی دیتا ہے، اس سے زیادہ حماقت اور کیا ہوگی!“
٭ غالبؔ ایک روز کسی سے کہنے لگے: ”کیوں صاحب، ہم تو مرد ہیں۔ ہمارا نماز پڑھنا ٹھیک ہے۔ ہم نماز پڑھتے ہیں، تو اس لیے کہ ہمیں حوریں ملیں، غلماں ملیں۔ یہ عورتیں آخر کیوں نماز پڑھتی ہیں، انہیں کس کی تلاش ہے؟“
٭ علامہ بچپن ہی سے بذلہ سنج اور شوخ طبیعت واقع ہوئے تھے۔ ایک روز جب ان کی عمر گیارہ سال کی تھی، انہیں سکول پہنچنے میں دیر ہوگئی۔ ماسٹر صاحب نے پوچھا: ”اقبال تم دیر سے آئے ہو!“ اقبال نے بے ساختہ جواب دیا: ”جی ہاں! اقبال ہمیشہ دیر سے آتا ہے۔“
٭ سکول کے زمانے میں اردو کے استاد نے املا لکھواتے ہوئے ایک لفظ ”غلط“ لکھوایا، تو علامہ محمد اقبال نے ”غلط“ کو ”ط“ کے بجائے ”ت“ سے لکھ دیا۔ استاد نے جب دیکھا، تو کہا: ”اقبال میاں، آپ نے لفظ غلط لکھا ہے۔“ اس پر علامہ اقبال نے سنجیدگی سے کہا: ”ماسٹر صاحب! آپ نے یہ لفظ پڑھا ہی غلط تھا، تو مَیں نے بھی غلط لکھ دیا۔“ استاد صاحب حیران ہوئے اور بولے: ”مَیں نے غلط کیسے پڑھا تھا؟“ اس پر علامہ نے اپنے لکھے ہوئے لفظ ”غلت“ کی طرف توجہ دلائی اور عرض کیا: ”آپ نے اس کو کیا پڑھا تھا؟“ استاد صاحب نے لامحالہ ”غلت“ کو ”غلت“ ہی پڑھا، تو شاگرد نے فوراً جواب دیا: ”جناب! جو آپ نے پڑھایا اور لکھوایا، وہی مَیں نے لکھ دیا۔“ کم سن علامہ اقبال کی یہ ظریفانہ حرکت استاد صاحب کو مسکرانے پر مجبور کرگئی۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔