
مروجہ سیاست لڑائی جھگڑے، لوٹ کھسوٹ، فریب کاری، چال بازی اور وسائل لوٹنے کی نفسیاتی جنگ ہے۔ اس جنگ میں قومیں خوں خوار دروندوں کی طرح ایک دوسرے کے برخلاف صف آرا ہیں۔ دست بدست لڑائی کا زمانہ گزر گیا۔ اب سائنسی، سیاسی، معاشی، اقتصادی اور عدالتی طور پر مخالفین کو زچ کیا جاتا ہے۔ سرمایہ داری، قبائلی عصبیت، مذہب اور قومی تفاخر اس کا ہتھیار ہے۔ ہنر مندی، شرافت اور ایمان داری جیسی اصطلاحات صرف اپنی قوم کے تحفظ کے طور پر مانی جاتی ہیں۔ عصبیت، نفرت کی علامت بن چکی ہے۔ نسلی اور قومی سیاست درحقیقت امتیازات کا وہ سلسلہ ہے جس سے کشت و خون و کشت کا بازار گرم ہوتا رہتا ہے۔
سیاست جو مجموعی اقوام کے مفادات کا تحفظ کرتی تھی، آج کل کرپشن، نفرت، امتیاز، قتل و غارت، لوٹ کھسوٹ، فریب اور چالبازی کا نام ٹھہرائی جا چکی ہے۔ اقوام پر معاشی پابندیاں، نفسیاتی حربے اور دھونس دباؤ کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ ’’ٹیکنالوجیکل ترقی‘‘ اور کاغذی پیسے کے زور پر اقوام کو یرغمال بنالیا گیا ہے۔ اقوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے گھٹ جوڑ اور وسائل لوٹنے کے نئے پیمانے مقرر کیے گئے ہیں۔ خام مال اور انسانی مزدور اس مرحلے کو سر انجام دینے کے لیے کام آتے ہیں۔ مفلوک الحال انسانوں کو مختلف طریقے سے غلام بنایا جاتا ہے۔ سیاست، اشرافیہ کا مقدر ٹھہر چکی ہے۔ غریب کو مشقت کی بھٹی میں جھونکا جا چکا ہے۔ دراصل مذہبی ٹھیکیداروں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے مفادات پوری دنیا میں ایک جیسے ہیں۔ البتہ یہ اور بات ہے کہ دوسرے ممالک میں ان کو حیثیت کے مطابق تنخواہیں ملتی ہیں اور ان کو قانونی تحفظ بھی ملتا ہے۔ دوسری طرف تمام حاجتمندوں، سائلین، محرومین، طوائف اور غربا وغیرہ کے مفادات یکساں ہوتے ہیں۔ مذہبی خود ساختہ پیمانے اوّل الذکر کو تقویت دینے کا باعث بنتے ہیں۔ مستقل آہنی شکنجے بنائے گئے ہیں، جس کی مثال سرمایہ داری تعلیم، قانون اور صحت ہے۔ اس کے علاوہ طرزِ زندگی، اعلیٰ ٹرانسپورٹ، ہوائی سفری جہاز، چارٹرڈ طیارے اورملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں ۔
نظریات کو بالا ئے طاق رکھنے کا پروگرام ہوچکا ہے۔ مذہب کو مفادات کے تحفظ کے لیے آلہ کے طور پر آزمودہ نسخہ گرد انا گیا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ماسکہ ہے جس پر قوموں کو رام کیا جاتا ہے۔ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر اعلیٰ طبقات کے لیے اقتدار جائز ہوچکا ہے۔ نچلے طبقات کو غلامی کا طوق پہنایا جاچکا ہے۔ جمہوری نظام کے ذریعے اشرافیہ مال و زر اور جدید سہولیات کی مستحق قرار پاگئی ہے۔ نا اہل اور کرپٹ حکمران مافیا سائنسی اورجھوٹے طریقے سے الیکشن میں کامیاب ہوتا ہے۔
قارئین، ایک مثالی حالت میں ریاست کے تمام اہم ادارے اپنے دائرہ کار کے اندر رِہ کام کرتے ہیں۔ سیاست در اصل معیشت کی مجتمع شدہ شکل ہے۔ تاریخ میں تمام سیاسی تجزیوں کی بنیاد معیشت رہی ہے۔ سیاست میں ہی اقوام کی تقدیریں بنتی بگڑتی ہیں۔ مروجہ سیاست میں تبدیلی کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے، سبز باغ دکھا کر سادہ عوام کو گمراہ کیا جاتا ہیا ور بے بنیاد پروپیگنڈا کرکے عوام کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جب تک یہ سیاسی ’’سیٹ اَپ‘‘ برقرار رہتا ہے، اس وقت تک صرف بے بنیاد باتوں سے عوام کو ٹرخایا جائے گا۔ فرسودہ نظام میں پیوند کاری سے کسی حد تک تو فائدہ مل جاتا ہے لیکن نظام میں مزید خرابی در آتی ہے۔ یہ گلا سڑا نظام اب نچلے اور محکوم طبقات کا مرہم نہیں بن سکتا۔ دراصل یہ کارپوریٹ سیاسی پارٹیاں اپنے مفادات کے لیے ’’الیکشن الیکشن‘‘ کھیلتے ہیں۔ ایسے حالات میں مروجہ سیاسی پارٹیاں دہشت گردی، گرانی، بے روزگاری، بے چینی اور امن و امان کی ذمہ دار ہیں۔
آئیے، ہم عہد کرتے ہیں کہ ان مروجہ سیاسی پارٹیوں سے ان کے منشور کی بابت پوچھیں گے۔جس نے ہمیں قائل کیا، ووٹ اُس کا۔ اور اگر کوئی ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو صاف بتائیں گے کہ آپ کی پارٹی نے اپنے منشور اور وعدوں پر کتنا عمل کیا ہے؟ ضروری نہیں اگر کسی کو لگتاہے کہ ان نمائندوں میں کوئی اس کا اہل نہیں کہ اس کو ووٹ دیا جائے، تو اپنے ضمیر کی بات کو سنتے ہیں۔ کسی کو ووٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں پوچھنا چاہیے کہ آپ کی سیاسی پارٹی کا منشور مفت تعلیم اور صحت کے لیے کتنا سود مند اور کامیاب ہے؟ اسے بتائیں کہ صرف راستوں کی پختگی، ٹرانسفارمر، پانی کے پائپ سے ہم مرعوب نہیں ہونے والے۔ یہ عوام کے ٹیکس کے پیسے ہیں، کوئی لیڈر اپنے جیب سے نہیں دیتا۔ اگر تو وہ اپنی جیب سے بھی دیتا ہے، تو اس کی نیت پر شک کیا جا نا چاہیے۔ ان سیاسی بازی گروں کو ہم پالیسی سازی کے لیے پارلیمان میں بھیجتے ہیں۔ اب ہم پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ بھائی آپ کیا پالیسی بنانے جا رہے ہیں؟ آپ کے پاس ملک وقوم کے تابندہ مستقبل کے لیے کیا ٹھوس قانون اور پالیسی ہے؟ آپ کے نزدیک تعلیم اور صحت کا بجٹ کتنا رکھنا سود مند ہے؟ کیا عوام پر مزید گرانی کا بم گرانے کاارادہ تو نہیں؟ آپ نئے کون سے منصوبے بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے لیے آپ کے پاس پلاننگ کیا ہے؟ سوال کرنا ہوگا۔جواب لینا ہوگا۔کسی کی تسبیح، نماز اور عمرے کو کسی نمائندے کی پارسائی پر محمول مت کیجیے۔بے روزگاری کے خاتمہ اور بجلی اور پانی کے لیے آپ ’’ملکی خادموں‘‘ نے کیا منصوبہ بنایا ہے؟ اب صرف وعدے وعید سے کام نہیں چلے گا۔کیا سرکاری نوکریاں میرٹ کو نظر انداز کرکے آپ صرف ووٹر، اپنے سیاسی کارکن کا صوابدیدی حق مانتے ہیں اوربھرتی صرف روپوں کے عوض کرتے ہیں؟ سوچیے، ووٹ ہمارے پاس آئندہ نسلوں کی امانت ہے۔ چور اچھکوں اور سستی شہرت کے حامل، کاروبار کی ترقی کے لیے سیاست کو زینہ بنانے والے خاک عوام کی خدمت کریں گے؟ یاد رکھیے، الیکشن میں پیسے لگا کر ہزار گنا کمائی صرف اسی ملکی سیاست میں ممکن ہے۔ اب ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔