کالم نگاری

فضل حکیم، احتساب اور منشور

ایڈووکیٹ نصیراللہ خان

✍️ کالم نگار: ایڈووکیٹ نصیراللہ خان



اشتہار / Advertisement
ایڈووکیٹ نصیراللہ خان ہائی کورٹ پشاور اور سوات کی زیریں عدالتوں کے ممتاز قانون دان، کالم نگار اور قانونی ماہر ہیں۔ آپ سول و تجارتی قوانین، معاہدی تنازعات، جائیداد کے مقدمات، ریکوری امور اور کاروبار و تجارت سے متعلق قانونی چیلنجز کے حل میں وسیع تجربہ اور منفرد مہارت رکھتے ہیں۔ باخبر سوات میں آپ کے کالمز آئینی، قانونی اور معاشرتی اصلاحات پر مبنی ہوتے ہیں۔

سابقہ ایم پی اے فضل حکیم پی کے ۵ نے اپنے آپ کو ڈسٹرکٹ بار روم میں معزز وکلا صاحبان کے سامنے خود احتسابی کے لیے پیش کیا۔ موصوف نے تحریک انصاف اور اپنی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔ سوالات و جوابات کا سیشن ہوا۔موصوف نے اس موقع پر وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ وکلا صاحبان معاشرے کے قابل اور ذہین لوگ ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ دیگر پارٹیوں کے ساتھ وابستگی رکھتے ہوں۔اس طرح آپ کو قائل کرنا آسان کام نہیں بلکہ آپ پہلے سے ہی کسی کام کے سلسلے یا ووٹ کی بابت اپنی ذہن سازی کرلیتے ہیں۔ بہرحال میں اپنے آپ کو اس معاشرے کا فرد سمجھتے ہوئے آپ کے پاس اپنا پروگرام لے کر آیا ہوں۔
سیشن میں ڈسٹرکٹ بار روم سوات کے کیبنٹ، صدر اختر منیر صاحب نے موصوف کا استقبال نہایت گرمجوشی سے کیا اور موصوف کی بار کے لیے خدمات کو سراہا۔ جس میں بار روم فرش اور اور وکلا کار پارکنگ، پریذیڈنٹ لاج کا کام سرِفہرست ہے۔
موصوف نے کہا کہ سوات کے وکلا کو صوبائی حکومت نے چھے کروڑ روپے ترقیاتی کاموں کا گرانٹ بھی جاری کیا ہے۔
صدر ڈسٹرکٹ بار روم سوات نے مزید مینگورہ کے مسائل کی نشاندہی کی اور کہا کہ جب آپ دوبارہ (اگر اہلیت ہوئی) اور ایم پی اے منتخب ہوئے، تو بار روم کے لیے کئی مزید کام کریں گے۔ جس میں کینٹین، بار روم ہال کی ایکسٹینشن اور مؤکلین کے لیے جگہ کی تعمیر کا ذکر کیا۔
سابقہ ایم پی اے نے صدر اور بار روم کی وکلا برادری کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ایک ایک سوال کا تسلی بخش جواب دیا۔ پہلے طور پر بار روم کے لیے مزید کام کے سلسلے میں فرمایا کہ اگر دوبارہ میں ایم پی اے منتخب ہوا، تو میں وعدہ تو نہیں کرتا لیکن ضرور اپنی استطاعت کے مطابق کام کروں گا۔ اس نے ایک سوال کے جواب میں عرض کیا کہ مجھے معلوم ہے کہ مینگورہ میں پانی کا مسئلہ ہے۔ ہم نے اس کے لیے خاطر خواہ اقدامات بھی کیے ہیں۔ ملوک آباد، گنبد میرہ کی واٹر سپلائی کے لیے چار عدد ٹیوب ویل بمقام فضاگٹ بنائے۔ اس کے لیے جنریٹروں کا انتظام کیا، لیکن لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پانی کی رسد جو تیس پینتیس منٹ میں لوگوں کے گھروں تک ہوتی ہے، کی وجہ سے مسئلہ پیچیدہ ہوا۔ اس طرح لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بھی مسئلہ نے شدت اختیار کی ہے۔ اس کے لیے اگر خدا نے موقع دیا، تو اس مسئلہ کے حل کے لیے مزید کوششیں کریں گے۔
سیدو ہسپتال کے نئے تعمیر شدہ ہسپتال کی بابت سوال کے جواب میں موصوف نے بتایا کہ ہسپتال میں نناوے فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ اربوں روپے اس کے ڈویلپمنٹ پر لگائے گئے۔ اب صرف ڈاکٹر بھرتی (جو کہ حکومتی وقت نہ ہونے کے سبب رُکی ہوئی ہے) اور ’’ایکسپریس ایلکٹریسٹی لائن‘‘ 77 لاکھ کے آلات کی گرانی کی وجہ سے (مطلب واپڈا کی وجہ سے) کام ملتوی کیا گیا ہے۔
وکیلِ محترم قاضی ہدایت اللہ صاحب نے سوال اٹھایا اور جواب بھی دیا کہ ’’سوات نیوز‘‘ والوں نے ایک شخص جو پریس کلب کے ساتھ وَٹوں (پشتہ جات) کو گرا رہا تھا، رپورٹ کیا اور اس کی تعریف کی کہ فضل حکیم کے ترقیاتی کاموں کو کیوں گرا رہے ہو؟ کسی اور کرپٹ کو کچھ کیوں نہیں کہتے؟ مینگورہ خوڑ کے آس پاس جنگلوں اور وَٹوں کی تعمیر خوش آئند قدم ہے۔ تمام قبرستانوں کو دیواروں کے ساتھ محفوظ بنایا گیا ہے۔ سنٹرل ہسپتال میں ڈینٹسٹری اور نیورو سرجری وارڈ کو شروع کیا گیا۔ ہسپتال کی تعمیر نو پر کروڑوں روپے لگائے گئے۔ صفائی کا نظام ٹھیک کیا گیا لیکن ہسپتال انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے صفائی کا مسئلہ ٹھیک طریقہ سے حل نہیں ہوسکا ہے۔مذکورہ ہسپتال میں بحریہ ٹاؤن کے منتظمین کے توسط سے مریضوں اور اس کے لواحقین کے لیے دسترخوان یعنی فری خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔ ہسپتال کی ایمرجنسی میں دوائیاں فری ملتی ہیں۔ تقریباً ہر سکول گیا اور وہاں پر اساتذہ اور تعلیم کی بابت طالب علموں کی شکایات سنیں اور ان کو دور کیا۔ اس مد میں تقریباً 80 دفعہ مختلف سکولوں کا دورہ کیا ہے۔ مریضوں کے مسائل حل کرنے کی خاطر دن رات ہسپتال کا وزٹ کیا ہے۔ اس طرح ’’واسا پروجیکٹ‘‘ شروع کیا ہے۔ اس کے لیے خود کار طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے۔ کسی بھی وقت اس کے نمائندوں سے مسئلوں کے حل کے لیے بات چیت کی جاسکتی ہے۔ مینگورہ سیدو شریف کے لئے بیوٹیفکیشن پراجیکٹ شروع کیا گیا۔ پانی کے مسئلے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے صوبائی اسمبلی سے سال دو ہزار سترہ؍ اٹھارا کے اے ڈی پی میں سات ارب کا منصوبہ جس کا پی سی ون منظور ہوچکا ہے، کو شروع کیا جائے گا۔ اس سے مینگورہ سٹی کے پانی کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ کئی امور کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا۔ساتھ سابقہ ایم پی اے صاحب نے یہ بھی کہا کہ میں حضرت عمررضی اللہ عنہ تو نہیں بن سکتا، البتہ اس کی نقل ضرور کرسکتا ہوں۔ میں نے ایک پیسے کی کرپشن کی ہے اورنہ میرے اُوپر اس کا کوئی الزام ہے۔ یاد رہے کسی دیگر سیاسی پارٹی کے ممبر نے سوات بار روم میں اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش نہیں کیا اور نہ اپنا منشور ہی پیش کیا ہے ۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبائی حکومت نے چالیس ہزار اساتذہ بھرتی کروائے جو کہ این ٹی ایس کے شفاف طریقے سے بھرتی ہوتے ہیں۔ اساتذہ کی بھرتی ایک تاریخی مرحلہ تھا۔اساتذہ کو وقت کا پابند بنایا گیا۔ اس طرح ڈھائی ہزار نئے ڈاکٹرز بھرتی کروائے گئے۔
پولیس اصلاحات بارے سوال کی بابت بتایا کہ ’’ہم نے پولیس کے حکامِ بالا کو بتایا ہے کہ پولیس اپنے دائرہ کار کے اندر رہ کر اور قانون کے توسط سے آزاد اور خود مختار ادارہ ہے۔ ادارہ کو چاہیے کہ بلاامتیاز سارے شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔ غریب اور مالدار کو جرم کی نسبت یکساں طور پر قانون کی گرفت میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سوات میں جیل، وکلا صاحبان اور ملزمان کے رشتہ داروں اور علاقہ مکینوں کی شدید خواہش تھی، جس کے لیے صوبائی حکومت نے کروڑوں روپے کے فنڈ جاری کیے۔ اب اس پر کام تیزی سے جاری ہے اور تقریباً ساٹھ ستر فیصدی کام ہوچکا ہے۔
موصوف نے وکلا سے کہا کہ بے فکر رہیں، ہم آپ کی خدمت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔
آخر میں سابقہ ایم پی اے فضل حکیم خان صاحب نے بار روم میں ’’پی ٹی آئی لائرز فورم‘‘ اور دیگر وکلا ممبران صاحبان کے ساتھ چائے نوش کی اور بارروم کا دورہ کرکے آخر میں رخصت ہونے کی اجازت طلب کی۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔