کالم نگاری

مادری زبانوں کا عالمی دن،گوالیرئی میں تقریب

مہران خان

✍️ کالم نگار: مہران خان

اشتہار / Advertisement

  اکیس فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1999ء میں بنگلہ دیش نے 28 ممالک کے ساتھ مل کر یونیسکو میں قرارداد پیش کی جو منظور ہوگئی اور سال 2000ء سے باقاعدگی سے 21 فروری کو یہ دن منایا جانے لگا۔ یونیسکو کے مطابق زبان کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق نہیں کی جاسکتی۔ پاکستانی آئین بھی اس حوالے سے بہت واضح ہے۔ آرٹیکل 251 جہاں اُردو بطورِ قومی زبان مانی گئی ہے، تو صوبائی اسمبلیوں کو علاقائی زبانوں کی ترویج کے لیے قانون سازی کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
یہ دن چوں کہ عالمی طور پر منایا جاتا ہے، تو اس سلسلے میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی تقریبات ہوتی ہیں۔ ضلع سوات کی تحصیل مٹہ کی دور دراز پہاڑیوں کے دامن میں واقع تاریخی اور مزاحمت کے نشان گاؤں ’’گوالیرئی‘‘ میں بھی ’’سپین سر ادبی تڑون‘‘ اور ’’ویخ زلمیان‘‘ کے زیرِ انتظام مادری زبان پشتو کے حوالے سے ’’سٹیپ اَپ ایجوکیٹری سکول‘‘ میں ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقے کے نوجوان، سرکاری اہل کار، شعرا، طلبہ اور سیاسی اکابرین کے ساتھ سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ خصوصی مہمانوں میں پیپلز پارٹی کے رہنما سید اکبر خان، انور زمان، سیاسی و سماجی شخصیت رشید عالم عرف غٹ خان اور معروف سماجی شخصیت ڈاکٹر امجد علی خان بھی تھے جو کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی رہنما بھی ہیں۔
سٹیج کے انتظامات 19سالہ معراج افغان نے شروع سے لے کر آخر تک نہایت عمدہ طریقے سے سنبھالے۔ حاضرین سے انھیں خوب پذیرائی ملی۔اس کا جذبہ اس بات کا ثبوت تھا کہ نوجوان اپنی مادری زبان سے محبت میں کسی سے پیچھے نہیں۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز ’’سٹیپ اپ ایجوکیٹری سکول‘‘ کے چھوٹے طالب علم ریان کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوئی۔ اس کے بعد تنظیم کی نئی کابینہ کے نئے منتخب شدہ صدر قاری فرمان اللہ یوسف زئی نے مہمانوں اور تمام آنے والوں کو خوش آمدید کہا اور اس بات پر زور دیا کہ اپنی قوم کی ثقافت و روایات اور زبان کی خدمت ان کے نزدیک دنیا کا سب سے مقدس کام ہے۔ انھوں نے مادر ی زبان کی اہمیت پر جامع گفت گو کی ۔
اس کے بعد تنظیم کے سرپرستِ اعلا اور سماجی شخصیت خیراللہ خان نے ’’سپین سر ادبی تڑون‘‘ کی سرگرمیوں پر مختصر سی روشنی ڈالی اور مادری زبان کے عالمی دن کے منائے جانے کے پیچھے چھپی تاریخ اور تاریخی محرکات پر تفصیلی گفت گو کی۔ پاکستان میں مادری زبانوں کو درپیش مسائل اور ریاستی بے توجہی بھی زیرِ بحث رہی ۔
خیر اللہ خان نے گفت گو ختم کرنے کے بعد بحیثیتِ سر پرستِ اعلا سپین سر ادبی تڑون کی نئی منتخب شدہ کابینہ سے حلف لیا اور مہمانوں نے مل کر منتخب صدر قاری فرمان اللہ یوسف زئی کو پشتونوں کی روایتی پگڑی پہنائی۔ یاد رہے کہ وہ تیسری بار مسلسل سپین سر ادبی تڑون کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔
حلف براداری کے بعد تنظیم کے جنرل سیکرٹری جوہر اقبال جوہرؔ نے اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے داد وصول کی۔
جوہرؔ کے اشعار کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما انور زمان نے مائیک سنبھالا ۔ انھوں نے نوجوانوں کی پشتو زبان سے دوری پر افسوس کا اظہار کیا اور سامعین کو یہ باور کروایا کہ ان سے جتنا بن سکے گا، وہ اپنی مادری بولی کی خدمت کریں گے ۔
انور زمان کے بعد سوشل ایکٹیوسٹ امداد اللہ نے ان باتوں زور دیا کہ اپنی زبان سے ظلم ہم خود کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں کے نام پشتو میں رکھیں۔انھیں پشتو کی بول چال اور لکھائی سکھائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹوں اور دکانوں کے سائن بورڈ ہمیں پشتو میں پشتو میں لکھنے چاہئیں۔ جب تک ہم اپنی ماں بولی کے لیے خود نہیں سوچیں گے، تب تک یہ فروغ نہیں پاسکتی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما سید اکبر خان اور سماجی و سیاسی شخصیت رشید عالم نے بھی مادری زبان کی اہمیت پر بات کی۔ اس طرح وی سی روڑینگاڑ کے چیئرمین سیراج خان نے اپنی تینوں سکولوں میں پشتو کو بطورِ مضمون پڑھانے کا عہد کیا ۔
پشتونئی سے تعلق رکھنے والے عبدالغفور استاذ صیب نے بھی قائد اعظم کی ڈھاکہ میں اُردو کو قومی زبان بنانے کی تقریر سے لے کے ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ کے احتجاج اور بعد میں عالمی طور پر مادری زبان کے دن کی منظوری تک کے سفر کو اپنے لفظوں میں مختصراً مگر جامع انداز میں بیان کیا۔ انھوں نے بھی مادری زبان کی اہمیت پر واضح گفتگو کی۔
بیچ میں رشید احمد شلمانیؔ، خیبر خان خیبرؔ اور باچا زادہ بیتابؔ نے اپنا کالم حاضرین کے گوش گزار کرکے داد سمیٹی۔ راقم الحروف نے بھی پشتو زبان کی اہمیت اور اس کو درپیش مسائل اور اس کی ترویج پر مختصر گفت گو کی۔ اس کے بعد پیپلزپارٹی کے صوبائی رہنما ڈاکٹر امجد علی خان نے تفصیلی گفت گو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے خوشی کے ساتھ ساتھ افسوس کی بات بھی ہے کہ ہم یہ دن منارہے ہیں۔ خوشی کی بات اس لیے کہ ہم میں اتنا شعور آگیا ہے کہ ہم اپنی ماں بولی کی خاطر سوچ رہے ہیں…… اور افسوس اس بات کا کہ ریاست پھر بھی نہیں سمجھ رہی۔ کیوں کہ جن وجوہات کی بنا پہ ہم سے بنگال جدا ہوا ، وہ وجوہات آج بھی ملک کے بیشتر علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ انھوں نے سب کو یہ باور کروایا کہ ہر کوئی چاہے جس مضمون میں بھی اہلیت رکھتا ہوں، اسے چاہیے کہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکے اس مضمون کے علم کو پشتو میں ترجمہ کرے۔ اس کے علاوہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں جتنے انقلابات یا بڑی ارتقائی تبدیلیاں آئی ہیں، ان سب کے پیچھے کہیں نہ کہیں ادیبوں کا ہاتھ ہے۔ انھوں نے تاریخ سے ڈھیر ساری مثالیں دلیل کے طور پر دیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کسی قوم کی ترقی کا راز ان کی زبان کی ترقی سے جڑا ہوتا ہے، مگر افسوس ہم پشتون ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے قابل نہیں رہے۔ اگر ہم ایسے ہی رہے، تو ہماری ماں بولی تڑپ تڑپ کے مرجائے گی اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے۔ آخر میں انھوں نے سب سے عہد لیا کہ اگلے سال یہ دن ہم بطورِ احتجاج منائیں گے۔
آخر میں سپین سر ادبی تڑون کے صدر قاری فرمان اللہ یوسف زئی نے سب کا شکریہ ادا کیا اور دعا کی کہ خدا ہم سب کو اپنی ماں بولی کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
قارئین! اس بے مثال تقریب کی روداد کے بعد اب مَیں بھی پشتو کے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ
پردیٔ جبہ زدہ کول کہ لوئی کمال دے
خپلہ جبہ ھیرول بے کمالی دہ

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔