کالممہران خان

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

ریاست اور شہریوں کے درمیان جب فاصلے بڑھ جائیں، تو پھر نفرت کی ایک نہیں کئی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ نفرت ہمیشہ بغاوت کو جنم دیتی ہے اور بغاوت کے نتائج ریاست اور شہریوں دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
بلوچستان میں انسانی حقوق کی جنگ لڑنے والی تحریکوں کا بیانیہ سمجھنے کے لیے بلوچستان کے حوالے سے چند سوالات پر غور کرنا نہایت ضروری ہے۔ کیا ریاست نے کبھی ان تاریخی غلطیوں کا اِزالہ کرنے کی کوشش کی، جن کی وجہ سے بلوچستان مسلسل جلتا رہا؟
کیا ریاست (ماں) نے کبھی بلوچستان کو ممتا کی نظر سے بھی دیکھا ہے، یا ہمیشہ سے ریاست کی نظر اُن کے وسائل پر ہی رہی ہے؟
بلوچستان میں حقوق کے لیے اٹھائی گئی تحریکوں کی ضرورت کیوں پیش آئی اور ان تحریکوں نے علاحدگی کی تحریک تک کا سفر کیسے طے کیا؟
بلوچوں نے پارلیمانی سیاست (جس سے تقریباً آدھے پاکستانیوں کا اعتماد اُٹھ چکا ہے) سے مزاحمتی سیاست کا رُخ کیوں کیا یا اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
کیا ہمارے ریاستی عہدے دار انسانی عقل و شعور کے مینار پر کھڑے ’’فریڈرک نطشے‘‘ کے ’’سپر مین‘‘ ہیں، جن سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوسکتی اور سارا قصور بس بلوچستان کے عوام ہی کا ہے؟
کیا بلوچستان پاکستان کو جہیز میں ملا تھا، جو اس کے شہری نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی بنیادی انسانی حقوق کے لیے ترس رہے ہیں؟
کیا ’’جہاں وسائل وہاں مسائل‘‘ کے رو سے بلوچستان کے مسائل کو بلا وجہ طول تو نہیں دیا جارہا ہے…… اور اگر ایسا نہیں، تو اَب تک بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟
کیا بلوچستان کا اپنے وسائل پر کوئی حق نہیں…… اور اگر ہے، تو وہ اس کے لیے اب تک ترس کیوں رہے ہیں؟
شاید اُردو لغت میں ان کی محرمیوں کو ایک لفظ میں بیان کرنے لیے کوئی اچھا لفظ موجود نہیں! کیا بیرونی ہاتھ واقعی میں اتنا طاقت ور ہے کہ وہ بلوچستان میں جو چاہے کرتا پھرے یا کچھ غفلت ہماری طرف سے بھی برتی گئی ہے، یا پھر ہم دوسروں پر اپنے کیے کا ملبہ تو نہیں ڈال رہے ہیں؟
کیا تمام فوجی آپریشنوں میں بیرونی ہاتھوں اور شرپسند عناصر کا خاتمہ کیا گیا تھا، یا پھر نہتے عوام بھی بربریت کا نشانہ بنے تھے؟ اگر نشانہ بنے تھے، تو کیا کبھی ریاست کو ان کے سر پر ہاتھ رکھنے کی ضرورت بھی محسوس ہوئی یا نہیں؟
قانون کی کون سی کتاب کے تحت شہریوں کو اُٹھاکے لاپتا کیا جاتا ہے اور لاپتا افراد کے لیے آواز اٹھانے والوں کو بھی لاپتا ہی کیا جاتا ہے، لاپتا افراد سے لاپتا افراد تک کا یہ لامتناہی سلسلہ کب تک چلتا رہے گا ؟
عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے والے پُرامن اور محب وطن آوازوں کو غدار ٹھہرانے سے کیا ثابت کرنا مقصود ہے؟ اس غدار لفظ کے کیچڑ سے تو مادرِ ملت کا دامن بھی نہیں بچا تھا، تو کیا وہ بھی غدار تھی اور آئین کو روندنے والا محب وطن تھا؟
عدم تشدد کی قائل ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جو پُرامن طریقے سے بلوچ عوام کی آئینی حقوق کی جنگ لڑی رہی ہے، اُسے اٹھا کے کیا ثابت کرنا مقصود ہے کہ اٹھانے والے بلوچ دشمنوں کے آلۂ کار ہیں؟ کیا بلوچستان کے سارے لوگ ریاست مخالف ہیں، سوائے ان کے جو ایوانوں میں بیٹھے ہیں؟ ایوانوں میں بیٹھے ہوؤں کو کیا اصل مسائل کا ادراک بھی ہے، یا وہ خود عوام کے ووٹ کے بہ جائے پیراشوٹ کے ذریعے ایوانوں میں اتارے گئے ہیں؟
اس ملک کی روایت یہی رہی ہے کہ سوالوں کا گلہ مروڑ کے انھیں کوڑے دان میں پھینکا جاتا ہے۔ ہاں وہی کوڑے دان جس میں کچھ آمروں نے آئین کو بھی پھینکا تھا، لیکن نہ آئین ادھر پڑا رہا اور نہ سوال! البتہ آئین اب ان کا منھ نہیں نوچتا، لیکن سوال ویسے کا ویسے بے لاگ اور بے باک ہے۔ سوال اُٹھانے والے بھی بے باک ہوتے ہیں، تبھی تو سوال اُٹھانے والوں یعنی بولنے والوں کو ڈرایا جاتا ہے، دھمکایا جاتا ہے، انھیں توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے…… لیکن جب کچھ نہ بنے، تو یا تو انھیں لاپتا کیا جاتا ہے، یا ان کی لاش کہیں پھینک دی جاتی ہے۔ لیکن کچھ لوگ جبر کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑے رہتے ہیں۔ ’’بلوچ یک جہتی کمیٹی‘‘ کی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی ان لوگوں میں سے ایک ہے۔ وہ بندوق اُٹھانے، بندوق اُٹھانے والی علاحدگی پسند تحریکوں کا ساتھ دینے کے بہ جائے ریاست اور شرپسند دونوں کی بندوقوں کے آگے سینہ تھان کے خالی ہاتھ کھڑی ہے۔ اس کی آواز میں اس کے لوگوں کا درد جھلکتا ہے، اس کے الفاظ بلوچستان کی محرمیوں کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ اُس کے دلائل ایک ہتھوڑے کی طرح خود ساختہ ریاستی عظمت کے بت کو توڑ رہی ہے۔ وہ طاقت کے پجاریوں اور وقت کے ظالموں کو للکار رہی ہے اور یہ للکار تاریخ کے لا متناہی خلا میں ہمیشہ گونجتی رہے گی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچستان کا اصل چہرہ ہے اور اس کے ساتھ ہونے والا سلوک ریاست کی وہ تصویر ہے، جو لوگ دیکھ کے اس سے نظریں چراتے ہیں، لیکن ظلم و ستم کے مارے پسے ہوئے باشعور لوگ وہ بہت پہلے دیکھ چکے ہیں اور ریاست کو آئینہ دکھا رہے ہیں، لیکن اس کے پاس آئینے کا وقت نہیں۔ مزاحمت ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں زندہ رہتی ہے اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچستان میں اس مزاحمت کی زندہ مثال ہے۔ وقت آگیا ہے کہ آوازوں کو چپ کروانے کے بہ جائے انھیں سنا جائے اور ان چیخنے والوں کی چیخ و پکار پر ریاست لبیک کہے۔ دیر تو پہلے ہی ہوچکی ہے، لیکن خدا نہ کرے کہ بہت دیر ہو جائے!

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں