Swat

سفارتکاروں سمیت مختلف ممالک کے بدھ مت پیروکاروں کا سوات کا دورہ

(باخبر سوات ڈاٹ کام)جرمنی اور نیپال کے سفارتکاروں سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بدھ مت پیروکاروں نے سوات کا دو روزہ دورہ کیا۔ دورہ کے پہلے روز انہوں نے تین ہزار سال پرانے قدیم شہر ”بازیرہ“ کا دورہ کیا۔ وزیر مملکت اور گندھارا ٹورازم پر وزیر اعظم کی ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے بدھ کے روز سوات اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں مذہبی سیاحت کو فروغ دینے پر زور دیا، تاکہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے اور آمدنی حاصل کی جاسکے۔ انہوں نے یہ بات خیبرپختونخوا میں وادئی سوات کی تحصیل بریکوٹ میں بدھ مت کے آثار قدیمہ کے مقامات کے اپنے دو روزہ دورے کے پہلے دن کہی۔ اس دورے میں جرمنی اور نیپال کے سفیر اور سفارت کار بھی ان کے ہمراہ تھے۔ غیر ملکی سیاحوں کی سہولت کے لیے اس موقع پر جرمن امبیسی کی ہیڈ آف کمیونی کیشن اینڈ کلچرل افیئرز ڈوروٹا بیریزکی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوات ایک پرامن جگہ ہے۔ مقامی یا غیر ملکی سیاحوں کے لیے کوئی سیکورٹی رسک نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سوات نہ صرف ثقافتی ورثے سے مالا مال ہے، بلکہ سوات کے لوگ مہمان نواز بھی ہیں اور اپنے مہمانوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔نیپال کے سفیر، تاپس ادھیکاری نے کہا کہ غیر ملکی دنیا میں لوگ زمین کی اہمیت کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادئی سوات میں مذہبی سیاحت کے لیے بہت زیادہ پوٹنشل موجود ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ غیر ملکیوں خصوصاً بدھ مت کے عقیدت مندوں کو سہولیات فراہم کرے۔ دو روزہ قیام کے دوران وفد سوات میوزیم، بت کڑہ اسٹوپا 1 اور 2، سیدو اسٹوپا اور ملم جبہ ہل اسٹیشن کا بھی دورہ کرے گا۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔