(باخبر سوات ڈاٹ کام)تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سٹی مئیر شاہد علی خان، تحریک انصاف کو خیر باد کہہ کر سوات واپس آگئے۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے دیگر رہنماوں کے ساتھ سٹی مئیر شاہد علی خان بھی تھانہ سیدو شریف اور تھانہ مینگورہ میں درج دو ایف آئی آروں میں نامزد تھے جس کے بعد سے وہ روپوش تھے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اس دوران شاہد علی خان کے قریبی دوست اور سرکاری محکموں کے اہلکاروں کے درمیان مذاکرات جاری تھے، لیکن سرکاری ادارے بضد تھے کہ سٹی مئیر تحریک انصاف سے استعفا دے گا۔ اگر سٹی مئیر پارٹی سے استعفا دے دیتے، تو اس کے بعد ان کی سٹی مئیر شپ بھی ختم ہوجاتی۔ سٹی مئیر کے قریبی دوست اور سوات کی اہم شخصیت کے درمیان مذاکرات میں بعد میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سٹی مئیر دورانِ عہدہ تحریک انصاف کا نام اور جھنڈاا ستعمال نہیں کریگا۔ تحریک انصاف کے کسی اجلاس یا سرگرمی میں شریک بھی نہیں ہوگا۔ مئیر کی مدت ختم ہونے کے بعد تحریک انصاف سے باقاعدہ استعفا دے گا جس کے بعد سٹی مئیر کو سوات آنے دیا گیا۔ اس بارے سٹی مئیر نے سرکاری اداروں کو بیان حلفی بھی جمع کرائی ہے جس میں ان تمام شرائط پر سٹی مئیر نے رضامندی کا اظہار کرکے دستخط کئے ہیں۔سوات آنے کے بعد سٹی مئیر شاہد علی خان نے تھانہ سیدو شریف میں انسدادِ دہشت گردی دفعات اور تھانہ مینگورہ میں درج مقدمات میں عدالتوں سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی۔
Swat
