ساجد امانکالم

مسٹر طوطا

کہتے ہیں بہت ترقی ہوگئی، کیا کیا ایجاد ہوگیا…… ٹرانسسٹر سے تھری ڈی، کسب گر سے آئی فون، تانگے سے فورتھ جنریشن طیارے، و علی ہذا القیاس۔
ویسے اتفاق سے اس ترقی میں ہمارے معاشرے کا کوئی قصور نہیں۔ ہمارے بھروسے ہوتے، تو صبح نتھنے کالے ہی ہوتے اب تک اور گورے انگریز کالے نتھنوں میں بڑے عجیب لگتے۔
خیر، شہرِ مینگورہ میں ’’ٹیکنالوجی جنریشن‘‘ منھ بنا بناکر برانڈز کے نام لیتی ہے اور فیشن کا ذکر کرتی ہے۔ مینگورہ کے ماضی پر طنز کرتی ہے۔ ترقی، الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور فاسٹ نام لیتی ہے۔ ایسے میں ایک مسکراہٹ ویسے ہی میرے لبوں پر آجاتی ہے۔ چلیں، تھوڑی دیر کے لیے مینگورہ کے ماضی میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
’’مسٹر طوطا‘‘ نام دوستوں میں مشہور تھا۔ عام لوگ اُنھیں طوطا کہتے تھے۔ جہاں آج کل قسائی مارکیٹ اور چھوٹی سبزی منڈی ہے، یہ جگہ کسی زمانے میں مینگورہ کا آباد محلہ، قدیم آبادی اور پوش ایریا تھی۔ جی ہاں ’’محلہ وزیر مال!‘‘
یہاں ایک افسانوی شکل کے خوب رُو، سلیقہ مند، تہذیب یافتہ، فیشن ایبل اور تعلیم یافتہ نوجوان رہتے تھے۔ ماں باپ نے نام محمد غفار رکھا، مگر شکل و صورت، عادات و اطوار، نشست و برخاست، نفاست پسندی اور اچھے مطالعے کی بنیاد پر دوست اُنھیں ’’مسڑ‘‘ پکارنے لگے۔ جو دوست نہیں تھے، وہ ’’طوطا‘‘ (یعنی مٹھی، پیاری اور تہذیب یافتہ باتیں کرنے والا) پکارنے لگے۔
مسٹر کے والد صاحب کا نام اسلمی پاچا تھا۔ مسٹر نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی تھی۔ اُس وقت یہ بہت بڑی تعلیم تھی۔ انڈین سنیما کا دور تھا راج کمار اور دلیپ کمار کے چرچے تھے۔ مسٹر سیر و سیاحت اور فطری نظارے دیکھنے کے شوقین تھے۔ عہدِ جوانی میں وہ ’’کلاس سٹرگل‘‘ کے حامی ہوگئے۔ ماؤزے تنگ سے متاثر ہوئے۔ معاشرے میں مساوات اور برابری کے قائل ہوئے۔ سوشل ازم کو اچھی طرح سمجھ گئے اور اس کو انسانیت کی بھلائی اور سرمایہ دارانہ نظام سے خلاصی کی تدبیر سمجھنے لگے۔ ترقی پسند خیالات رکھتے تھے۔ رجعت پسندی سے نفرت تھی۔ نسلی امتیاز کے خلاف تھے اور اسے انسانیت کے خلاف جرم سمجھتے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) آمد ہوئی، تو اس کو اپنے نظریات کے بہت قریب پایا۔ پیپلز پارٹی کے سوات میں بانی اراکین میں رہے اور پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔
مسٹر واقعی مسٹر تھے۔ خوش لباس، باذوق، خوش بیان اور ہنس مکھ۔ اوپر سے جدید فیشن کی علامت بنے۔ اپنے ہم عمر اور کم عمر لڑکوں کے لیے نفاست کا استعارہ بنے۔ اُن کا لباس، ہئیر سٹائل، نشست و برخاست اور گفتار اُس دور کے جوان اُن سے کاپی کرتے۔کسی بھی محفل میں اُن کی آمد اُس محفل کی رونق میں اضافہ کرتی۔ بچے، بڑے اور بزرگ اُن کی آمد کے منتظر رہتے۔
مسٹر طوطا بالواسطہ طور پر اپنے دور میں ’’انٹرنیشنل ہیپی موومنٹ‘‘ سے بھی متاثر تھے۔ 60ء کی دہائی کے وسط میں امریکی حکومت اور کارپوریٹ امریکہ کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز ہوا۔ امریکی کاروباری اداروں پر امریکی عوام کی برین واشنگ کا الزام عائد کیا گیا۔ ان احتجاجی مظاہروں کی تقریروں کے مطابق عوام کو کنٹرول کرتے ہوئے سرمایہ دار نہ صرف پیسا بنا رہے تھے، بل کہ عوام کی توجہ ویت نام کی غیر قانونی جنگ سے بھی ہٹائی جا رہی تھی۔ 60ء کی دہائی میں اپنی ذات کو تلاش کرنے اور خود کو کرپٹ سرمایہ دارانہ نظام سے آزاد کرنے کی تحریک زور پکڑتی گئی اور اسی تھیوری کی وجہ سے امریکہ میں بعد ازاں ’’ہیپی موومنٹ‘‘ کا آغاز ہوا۔ اپنی آزادی اور سامراجی طاقتوں سے نفرت کی ’’ہیپی موومنٹ‘‘ نے مسٹر کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ اپنی شخصیت کے حصار میں رہے اور اس کو سنوارتے رہے۔ اپنے اردگرد کے لوگوں کی مدد کرتے رہے، حتی کہ ٹیوشن تک پڑھاتے اور وہ بھی بلامعاوضہ۔
احترامِ انسانیت کی بات کرتے۔ ہر بندھن اور نظریے کو چیلنج کرتے جو انسان کو محدود، مفلوج یا کسی کا زیرِ نگیں کرتا۔ خوش رہتے اور خوشی بانٹتے۔ اپنے نظریات پر مرتے دم تک قائم رہے، حتی کہ شادی بھی نہ کی۔ زندگی بھر شکرگزار رہے۔ ایک خوش گوار تعلق کی ترویج کرتے رہے۔ اپنے بیانیے میں سامراج اور استعمار مخالفت کو جگہ دی اور انسانیت کے لیے اعلا اقدار اور خوش گوار معاشی ماحول کی تبلیغ کرتے رہے۔
ذرا چشمِ تصور میں لائیے کہ ایک ہاتھ میں اخبار، دوسرے میں دھوپ کا چشمہ، چہرے پر مسکراہٹ، آواز میں اعتماد، خوب صورت تراشے ہوئے بال، صاف ستھرے اور نفیس کپڑے…… اس جدید فیشن میں مسڑ طوطا ہوا کرتے تھے، جن کی کھکھلاتی ہنسی اُن کی خوش آوازی کی غماز ہوتی۔
مینگورہ شہر کا ہر وہ فرد جو مسٹر طوطا کو جانتا تھا، اب اُسے یاد کرکے یقینا دل میں ایک میٹھی سی کسک محسوس کرے گا اور اُن کی جدائی کو ایک عہد کا خاتمہ کہے گا۔
عدم برداشت، بے ہنگم پھیلاو، ہجوم، شور، نفسا نفسی میں گھرا ہوا ہمارا آج ہمارے کل سے کتنا ترقی یافتہ ہے، جواب اس سوال کا کیا ہوگا؟ مین بازار مینگورہ، مینگورہ کا صدر بازار جہاں خوب صورت لوگوں کا ملن ہوتا، محفل جمتی، پُرسکون مین بازار مینگورہ جہاں باتیں کرتے ہمایوں خان، رسول خان حاجی صاحب، خیرالامان تحصیل دار صاحب، مسڑ طوطا، محمد قاسم جیفور پیپلے، سید قاسم باچا، غلام غوث اور کئی دوستوں کی بیٹھک ہوتی۔ یہاں سے لوگ اندازِ گفت گو سیکھتے، ادب آداب سیکھتے، طور اطوار سیکھتے۔
مسٹر طوطا، ہمایوں خان ، رسول خان حاجی صاحب، خیرالامان تحصیل دار صاحب اور ایم جی آر منوں مٹی تلے دب گئے۔ جیفور خان نہایت کم زور ہوگئے ہیں۔ غلامِ غوث علیل رہتے ہیں۔ سید قاسم باچا مینگورہ چھوڑ چکے ہیں۔ اب مینگورہ شہر کا اصل رنگ اُتر چکا ہے۔ بھیڑ میں تنہائی ہوگئی ہے۔ اب گھٹن سی ہوتی ہے۔ یار دوست اسے ترقی گردانتے ہیں۔
شاید ہو……مجھے تو نہیں ایسا نہیں لگتا!

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں