کالم نگاری

پشتون قبیلہ ’’وردک‘‘ تاریخ کے آئینہ میں

امجدعلی سحابؔ

✍️ کالم نگار: امجدعلی سحابؔ


اشتہار / Advertisement
کامریڈ امجد علی سحابؔ لفظونہ ڈاٹ کام کے بانی مدیر ہیں۔ اس کے ساتھ روزنامہ آزادی سوات/ اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے بھی ایڈیٹر ہیں۔ اس کے علاوہ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ ڈان اُردو سروس کے ساتھ بلاگر کے طور پر کام کر رہے ہیں، جب کہ وی نیوز اُردو کے ساتھ فری لانس جرنلسٹ کے طور پر وابستہ ہیں۔ درس و تدریس کے شعبے سے بھی عرصہ 25 سال سے وابستہ ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دل چسپی رکھتے ہیں۔

وردک دراصل کرلانڑی قبیلہ کی شاخ ہیں۔ کچھ لوگ غلطی سے انہیں سیّد گردانتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں سیّد پشتونوں میں نہیں ہوسکتے جیسا کہ اب ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ سیّدوں کا اگر اک آدھ خاندان کسی گاؤں میں ہو بھی، تو اس حوالہ سے گاؤں والوں کو معلوم ہوتا ہے ۔ وردکوں میں جس گاؤں میں سیّد آباد ہیں، ان کے بارے میں سب کو علم ہے اور لوگ ان کا احترام بھی کرتے ہیں۔ تمام وردک اب سیّد ہیں، نہ اس سے پہلے کبھی تھے ۔ اس حوالہ سے خورشید جہان نے تاریخ میں جو کچھ چھوڑا ہے ، وہ افسانے کے علاوہ کچھ نہیں۔
وردک کی قِبلہ کی طرف سرحد ہزارہ کے علاقوں سے لگی ہوئی ہے اور باقی تینوں اطراف کی سرحدیں غلجی کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ ان کا علاقہ پہاڑوں کے بیچ واقع ہے۔ مشرق اور قبلہ رُخ پہاڑ ہی پہاڑ ہیں۔ تنگی، شیخ آباد، سید آباد، خوات، سہ آب، جغتو، تکیہ اور چک یہاں کے مشہور گاؤں ہیں۔ وردکوں کا علاقہ اچھا اور آباد ہے ۔ فصلِ خریف مقدار میں تھوڑی سی ہوتی ہے۔ چاول بھی یہاں پیدا ہوتا ہے۔ اس علاقہ کا موٹا چاول بطورِ خاص مشہور ہے۔ یہاں کے لوگ مضبوط تن و توش کے مالک اور غیرت مند ہیں۔ یہاں نامور لوگ ہو گزرے ہیں، جن میں محمد جان خان غازی قابلِ ذکر ہیں۔ محمد جان خان غازی دوسری افغان انگریز جنگ کے مشہور فاتح غازی کہلائے، جنہیں بعد میں امیر عبدالرحمان نے شہید کیا۔
وردکوں میں میرخیل تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہیں۔ ان کے بعد مہیاروں اور نورزی یا نوری قبیلہ کی تعداد زیادہ ہے ۔
وردک کے بعض لوگ موضع چچ (چچ ہزارہ) میں بھی بستے ہیں۔ بعض کنڑ (افغانستان) کے علاقہ ’’اسمار‘‘ میں بھی بستے ہیں۔
(م، ج سیال مومند کی تالیف شدہ کتاب ’’د پختنو قبیلو شجری‘‘ ناشر یونیورسٹی بک ایجنسی پشاور دوسرا ایڈیشن فروری 2015ء، صفحہ 252 تا 254 کا اردو ترجمہ)

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

3 تبصرے

  1. B
    Binyamin
    11 July 2024 9:00 pm

    گلگت میں بھی چند لوگ آپنے آپکو وردگ کہتے ہیں ۔لیکن ان میں وردگ ہونے کی کوئی خصوصیت نہیں ہے ۔یہاں کے لوگ انکو اوچھے بولتے ہیں

    اردو تبصرہ
  2. س
    سید شہنشاہ حسنی زیدی مشوانی
    19 July 2024 9:04 am

    وردگ علاقے کا نام ہے ۔جس طرح بخارا ،ترمذ ،اور گیلان وغیرہ ہیں ترمذ کے سارے باشندے سید نہیں اسی طرح بخارا کے سارے باشندے سید نہیں ۔بات شجرہ نسب کی ہے جن کے پاس مستند شجرہ نسب مستند کتابوں میں موجود ہے وہ سید ہے۔پختون مورخین عربی زبان اور۔ فارسی زبان کی کتابوں کو سمجھتے نہیں ۔عربی نسابین کی کتابوں میں سید محمد گیسودراز اول کا ذکر موجود ہے۔سید
    محمد گیسودراز کو عربی کتب میں دراز الکیسہ یا درازگیسو کہتے ہی چار سو ھجری کے
    سید ہیں جو زید بن حسن بن علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد میں سے تھے ۔چارسو ھجری
    تا اب تک کا زمانہ بہت طویل ہے ۔لہذا سید محمد گیسودراز اول کی اولاد کی تعداد
    زیادہ ہوگی ۔خواجہ غریب نواز آ ٹھ سو ھجری کے ہیں جو گیسودراز دوم ہے

    اردو تبصرہ
  3. ب
    بخت روان وردک
    12 April 2025 8:36 am

    مگر دیر اپر دیر لوئر میں وردک قبیلہ اباد ہے خاص کر اپر دیر خیبرپښتونخوا میں تحصیل شرینگل گانشال بالا میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہے حمزہ خیل ذیلی شاخ وردک آباد ہے

    اردو تبصرہ

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔