کالم نگاری

قوت ارادی

محمد وہاب سواتی

✍️ کالم نگار: محمد وہاب سواتی

اشتہار / Advertisement

قوتِ ارادی کیا ہے؟ اس کا حصول کیسے ممکن ہے؟ قوتِ ارادی انسان کے اندر عزم، ہمت اور ارادہ مضبوط کرنے کا نام ہے۔ یہ خود اعتمادی میں اضافہ کرتی ہے۔ مقصد کا حصول اور اس کے پیچھے لگا رہنا قوت ارادی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
قارئینِ کرام! اللہ تعالیٰ پر توکل، اعتماد اور یقین، قوتِ ارادی کو مضبوط تر کرنے کے لیے بے حد ضروری ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو انسان کی زندگی کا رُخ موڑ دیتی ہے۔ جہدِ مسلسل، مستقل مزاجی اور قوتِ ارادی سے کامیابی آپ کی قدم چوم لیتی ہے۔ سوچ سمجھ کر اور اچھے طریقہئ کار کے تحت اپنا منزل متعین کریں، اور اسی کے حاصل کرنے کے لیے پختہ ارادہ کریں۔ چوں کہ ہمارا نقطہئ نظر مطالعہ ہے، لہٰذا ان تمام چیزوں اور کاموں کی ایک فہرست تیار کریں جو مطالعہ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ان چیزوں کی بھی فہرست مرتب کریں جو مطالعہ نہ کرنے کی وجہ بن جاتی ہیں۔ منصوبہ بندی کیجیے، جس میں مطالعہ کرنے والی چیزوں میں بہتری آئے اور مطالعہ ترک کرنے والے کاموں میں کمی آئے۔ پہلے پہل یہ کام مشکل ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ مطالعہ آپ کی زندگی کا لازمی جز بن جائے گا، اور ساتھ میں ان کاموں کا بھی خاتمہ ہوجائے گا جو پہلے مطالعہ نہ کرنے کی وجہ بنتے تھے۔ اسی طرح اس مشق سے آپ کی قوتِ ارادی کو تقویت مل جائے گی۔ آپ کو اپنی منزل سامنے دکھائی دے گی۔
قوتِ ارادی، ثابت قدمی کی ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ مطالعہ میں پیش آنے والی رکاوٹوں سے منھ نہ پھیرنا اور مشکلات سے نہ گھبرانا ہی اصل میں قوتِ ارادی کے ذریعے ممکن ہے۔
قوتِ ارادی پیدا کیسے کی جائے؟ چوں کہ اس کا تعلق دل و دماغ سے ہے، اس لیے سب سے پہلے آپ کو غور و فکر کرنا چاہیے۔ کسی پُرسکون اور آرام دہ جگہ پر بیٹھ کر کسی مثبت موضوع پر غور و فکر کریں، جیسے کہ مطالعہ۔ اس کے بارے میں منصوبہ بندی کریں۔ یہ نہ صرف ذہنی توانائی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ کم کرنے میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے۔ مثلاً یہ سوچا جائے کہ مطالعہ میری زندگی پر کیسے اثر انداز ہوگا؟ اگر میں مطالعہ کروں گا، تو کیا حاصل ہوگا؟ کون کون سے کام ہیں جو مطالعہ پر اثرانداز ہوتے ہیں؟
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنے الٹے ہاتھ کو استعمال میں لایا جائے۔ دن میں کبھی کبھار اس کو استعمال کرنے کی عادت ڈالیں۔ مثلاًآپ دائیں ہاتھ سے لکھتے ہیں، تو کچھ وقت کے لیے بائیں ہاتھ کو لکھنے کی زحمت دیں۔ ایسا کرنے سے خود اعتمادی اور قوتِ ارادی دونوں میں اضافہ ہوگا۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تمام تر طاقتیں صرف کرنے کے باوجود انسان کو واضح منزل نہیں مل پاتی۔ ایسا ہونے پر آپ کی قوتِ ارادی میں کمی نہیں ہوتی ہوگی، مگر آپ کی منصوبہ بندی میں کوئی کمی رہ گئی ہوگی۔ خود آگہی کی کوشش کریں۔ خود آگہی کی صورت میں قوتِ ارادی بھی مرکز پکڑے گی۔ قوتِ ارادی کو ہمیشہ بیدار اور برقرار رکھیں۔ کامیابی آپ کا مقدر بن جائے گی۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔