کالم نگاری

مینگروال بنجاریان

ساجد امان

✍️ کالم نگار: ساجد امان

اشتہار / Advertisement

  مینگورہ شہر میں آباد ایک قدیم محلہ جو اَب بھی باقی شہر کے برعکس اپنی انفرادیت اور بنیادی ڈھانچا قائم رکھے ہوئے ہے محلہ بنجاریان ہے۔ اس میں قائم بنجاریان مسجد جس میں کسی وقت احمدین طالب بہ حیثیت طالبِ علم مقیم تھے، اس کی زمین باچا صاحب نے وقف کی اور بنجاریانوں (بنجاریوں) نے مسجد آباد کی، جس میں احمدین طالب اپنی پوری فطرت پرستی کے ساتھ مقیم رہے۔ یہاں آدھی صدی تک تگا استاد صاحب امام مسجد رہے۔ سرخ و سپید خوب صورت افغان امام اور اُن کے بعد پچھلی چار دہائیوں سے مولانا شمس الحق صاحب امامت کر رہے ہیں۔ غالباً 1950ء میں اس کچی مسجد کو اسماعیل اور اسحاق حاجی صاحب نے از سرِ نو تعمیر کیا۔
بنجاریان کون ہیں اور کہاں سے آئے؟ تو اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ مینگورہ میں اطہر خیل بنجاریان کے دو گھرانے ڈھائی سو سال سے زیادہ عرصے سے آباد ہیں۔ نوشہرہ میں ایک پہاڑی ہے، اُس پہاڑی کو کنڈر (کھنڈر) کہتے ہیں۔ جی ٹی روڈ کے ساتھ ساتھ اس پہاڑی کے اوپر ایک بزرگ کا مزار ہے، جو ’’بنجاری بابا‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ بنجاری گھرانوں کا شجرۂ نسب بنجاری بابا سے جاکر ملتا ہے، مگر آگے کوئی معلومات نہیں۔ مینگورہ کے بنجاری گھرانوں کی کچھ کڑیاں بھی ٹوٹی ہوئی ہیں، جن کو جتنا ممکن تھا سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بنجاری شجرۂ نسب فارسی زبان میں رمزیہ شکل میں موجود تھا، مگر بے توجہی نے کہیں ضائع کر دیا۔
ستم بالائے ستم یہ کہ پروفیسر سلیمان (مرحوم) نے بنجاری تاریخ پر کافی کام کیا تھا، مگر ان کے بیش تر ذخیرۂ کتب کی طرح یہ بھی کہیں بے توقیری میں کھو گیا۔
کوشش ہے کہ دونوں گھرانوں کے سلسلے الگ الگ بیان کیے جائیں اور ماضی میں جہاں سے ممکن ہے، حال تک پہنچایا جائے۔
مینگورہ کو آباد کرنے والے اور آباد رکھنے والے یہ باشندگان مینگورہ شہر کا اٹوٹ انگ ہیں اور آج بھی یہاں قدریں موجود ہیں۔ پرانا شہر موجود ہے۔ پرانے وقت کے لوگ موجود ہیں۔ ڈھیر سارا خلوص اور اپنائیت موجود ہے۔
پہلے بنجاری خاندان کے ایک شجرے کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس میں لالی بابا کے نام کی معلومات تک پہنچ پائے ہیں، جن کی قبر محمد گل شہید مینگورہ قبرستان میں ہے۔ اُن کے بیٹے نور احمد بھی وہیں آسودۂ خاک ہیں۔
نور احمد کے چار بیٹوں کے نام یہ ہیں: امیر احمد، علی احمد، اجون، فوجون ( فوجون یا پوجون کی شادی احمد گل بابا کی بیٹی کے ساتھ ہوئی۔ یوں دونوں خاندانوں میں رشتے شروع ہوئے۔ اب بہت ساری رشتے داریاں ہیں۔)
امیر احمد کے دو بیٹے تھے: گل محمد اور پیر محمد۔ گل محمد کی اولاد نہیں تھی، جب کہ پیر محمد کے بیٹوں کے نام یہ ہیں: شمس الواحد گوگا استاد، اکبر خان بابو چاٹئی ملائی والا مین بازار، خائستہ محمد کپڑے والا، شیر محمد نیشنل سنٹر/ ڈاک خانہ۔
شمس الواحد گوگا استاد صاحب کے بیٹوں کے نام یہ ہیں: عمر واحد، فضل واحد، عصمت علی اور یوسف علی۔
اکبر خان بابو چاٹئی ملائی والا مین بازار کی اولاد نہیں تھی۔
خائستہ محمد کپڑے والا کے بیٹوں کے نام یہ ہیں: اعجاز علی، فہد علی اور جواد علی۔
شیر محمد نیشنل سنٹر ڈاک خانہ کے بیٹوں کے نام یہ ہیں: اختر علی، محمد اجمل، بلال اور حمزہ۔
نور احمد بابا کے دوسرے بیٹے علی احمد کے بیٹوں کے نام یہ ہیں: گل احمد استاد صاحب، صنوبر مرزا صاحب ، نذیر گل، شاہ گل عنبر، جان محمد اور تاجی رحمان۔
گل احمد استاد صاحب کے بیٹوں کے نام یہ ہیں: پروفیسر سلیمان (مرحوم)، اُن کے بیٹے سجاد، نیاز اور اظہار،محمد رفیق اُن کے بیٹے فیاض اور توصیف، زاہد حسین سوات الیون اور اُس کا بیٹا اویس۔
صنوبر مرزا صاحب کے بیٹوں کے نام یہ ہیں: کپتان الطاف حسین،عنایت حسین ، ابرار حسین ، صلاح الدین۔
نذیر گل کے بیٹوں کے نام ہیں: عنایت الرحمان اور اُن کے بیٹے واجد، کاشف، باسط وکیل صاحب۔
مجیب الرحمان اُن کے بیٹے فواد، وسیم اور عادل۔
عطاء الرحمان تاخانے کے بیٹے فہد۔
شمس الرحمان کے بیٹے ڈاکٹر عاقب، اعزاز (سی اے)۔
رفیع اللہ کے بیٹے منصور احمد۔
سہیل کے بیٹے بلال اور جلال۔
شاہ گل عنبر کے بیٹے سیراج الدین واپڈا، اُن کے بیٹے شہزاد، ساحل اور ماجد۔
آفتاب الدین، اُن کے بیٹے سبیل، بزقیل، نبیل۔
ناصر الدین کے بیٹے حمزہ، طلحہ اور راحیل۔
شہاب الدین کے بیٹے عبید اور سمیع اللہ۔
نظام الدین کے بیٹے کانام ضیاء الدین (مرحوم) ہے۔
آفتاب علی کے بیٹوں کے نام سفیان، رحمان اورروحان ہیں۔
جان محمد کے بیٹے محمد عالم ، محمد عمان، اقبال حسین اور ڈاکٹر برکت حسین ہیں۔
تاجی رحمان کے بیٹے افتخار ، وقار اور شیراز ہیں۔
آجون بابا کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
فوجون دادا کے بیٹوں کے نام گل روز، شمروز، بہروز، نمروز ، شمس التبریز ہیں۔
گل روز کے بیٹے شمس القمر، شمس العارفین، محمد فاروق،محمد شعیب، محمد ریاض بابو، امجد علی اورارشد علی ہیں۔
شمروز کے بیٹوں کے نام محمد ظہیر، محمد طاہر عرف ببوگے اور محمد زبیر ہیں۔
بہروز کے بیٹوں کے نام فضل مولا، فضل کرم اور بخت کرم ہیں۔
نمروز کے بیٹوں کے نام رحمت علی، لیاقت علی، حیات علی اور مراد علی ہیں۔
تبریز کے بیٹوں کے نام محمد صاحب، پرویز، رحمت حیات عرف مساوات، محمد علی، شاہد علی اور فیصل صالح حیات ہیں۔
٭ بنجاریان دوسرا گھرانا:
بدقسمتی سے اس گھرانے کی معلومات بھرپور کوشش کے کم ہی دست یاب ہیں اور جو دست یاب ہیں، ان کے مطابق:
رحمت گل بابا، اُن کے بیٹے معصوم گل ، جمعہ گل اور محمد گل ہیں۔
معصوم گل کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ محمد گل کے بیٹے تازہ گل اور سیراج ہیں۔
تازہ گل، اُن کے بیٹے ایوب خان چونگی والا، یعقوب سوات الیون، محمد عالم نمے، افضل پینٹر اور وزیر ہیں۔
سیراج کے بیٹے سلطنت خان پولیس، ناصر خان اور آصف خان ہیں۔
جمعہ گل کے بیٹے بہار گل، گل بشر، عمرگل طوطا اور شیرین ہیں۔
بہار گل کے بیٹے مختیار حسین (جہانزیب کالج) اور حیدر علی ہیں۔
گل بشر کے بیٹے معتبر خان، فیض علی خان (شہید)، سیف اللہ خان طوطا (المعروف شینا طوطا) اور عمرا خان ہیں۔
عمر گل طوطا نے شادی نہیں کی۔ فائر بریگیڈ میں تھے۔ پھر سماجی خدمات کے لیے زندگی وقف کی۔
شیرین کے بیٹے شجاعت علی اور ممتاز علی ہیں۔
محمد گل کا بیٹا شیر علی (پلوشہ سنیما) ہے۔
یہ تو وہ نام ہیں جو معلومات کرکے حاصل کیے گئے ہیں۔ بنجاریان محلہ کے ’’پورے راپورے بنجاریان‘‘ (یعنی گلی کے اُس طرف رہنے والے اور اِس طرف رہنے والے) سب اس میں شامل ہیں۔ یہ دونوں گھرانے ایک جگہ مکس رہتے چلے آرہے ہیں۔ کئی ایک یہاں سے چلے بھی گئے ہیں، مگر بنجاریوں کی اکثریت یا تو موجود ہے، یا اُن کے مکان موجود ہیں۔

اشتہار / Advertisement

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔