کالم نگاری

عمران خان، وعدوں کو وفا کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے

ایڈووکیٹ نصیراللہ خان

✍️ کالم نگار: ایڈووکیٹ نصیراللہ خان



اشتہار / Advertisement
ایڈووکیٹ نصیراللہ خان ہائی کورٹ پشاور اور سوات کی زیریں عدالتوں کے ممتاز قانون دان، کالم نگار اور قانونی ماہر ہیں۔ آپ سول و تجارتی قوانین، معاہدی تنازعات، جائیداد کے مقدمات، ریکوری امور اور کاروبار و تجارت سے متعلق قانونی چیلنجز کے حل میں وسیع تجربہ اور منفرد مہارت رکھتے ہیں۔ باخبر سوات میں آپ کے کالمز آئینی، قانونی اور معاشرتی اصلاحات پر مبنی ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی حکومت سنبھالنے سے پہلے اور بعد میں سیاسی تقریری وعدوں پر تجزیاتی طور پر تعمیری تنقید کا جواز پیدا کیا جاسکتا ہے۔ تقریری وعدوں کے مندرجات پربحث بھی ممکن ہے اور تنقید کا دروازہ بھی کھلا ہے۔مثبت تنقید کو برداشت کیا جانا چاہیے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ ایسا کیاہے جو وزیر اعظم کچھ غلط بول گئے ہیں؟ نوے دن میں سب کچھ کرنے کا وعدہ۔ایک کروڑ سستے گھر اور پچاس لاکھ ملازمتیں،ساتھ سب کا کڑا احتساب، متحدہ اپوزیشن کے اے پی سی کے لیے راہیں ہموار کرلی گئی ہیں۔ حکومت کو ٹف ٹائم ملنے کا قوی اندیشہ ہے۔ حکومت کو اپوزیشن سے مذکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے گفت و شنید کو آگے بڑھانا چاہیے۔ اس ملک میں راتوں رات تبدیلی کے خواب دیکھنا دیوانہ پن ہے اور جو لوگ تنقید کر رہے ہیں، انہوں نے دہائیوں تک حکومتیں کی ہیں لیکن ان سے کچھ نہ بن پایا۔ البتہ قوم کو قرضوں اور سود میں ڈبو دیا ہے۔دراصل وزیر اعظم عمران خان کے وعدوں پر تنقید کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ یہ الگ بات ہے کہ عمران خان پہلی بار وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان ہوئے ہیں، تو ان صاحب کو حکومتی مسائل ووسائل کا اتنا پتا نہیں تھا، لیکن عوام کو سبز باغ دکھانے کے لیے وعدے ضرور کیے جو شائد ہی پورے ہوں۔ حکومت میں آتے ہی جب اس کو بریفنگ دی گئی، تو اس کے اور اس کی پوری ٹیم کے اوسان خطا ہوگئے۔ خیبر پختونخواہ، سندھ اور بلوچستان کے مسائل حیران کردینے والے ہیں۔ حکومت کو اس سال کے مالی اور معاشی بحران سے نکلنے کے لیے بیل آوٹ پیکیج لینا ضروری ٹھہر چکا ہے۔ شاید نئے پاکستان میں تبدیلی نئے ٹیکسز، گرانی وغیرہ کی تبدیلی تھی۔ عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں اور سود کے انبار ہیں جن کو حکومت پاکستان کولازمی دینا ہوگا۔ پہلے ہی بے چینی ہے اب مزید بے چینی بڑھے گی۔
اس وجہ سے اپوزیشن پارٹیاں حکومت کو آڑے ہاتھوں لینا چاہتی ہیں۔ البتہ ایک بات خوش آئند ہے کہ وزیر اعظم نے پچھلی حکومتوں کی طرح دوغلی پالیسی نہیں اپنائی، بلکہ سیدھا ہی ملکی اداروں کی حالت عوام الناس کے سامنے رکھ دی ہے۔ بعض افراد کی ہذیانی کیفیت اور نفسیاتی مرض کا سبب، حکمرانوں کے پروردہ خاص اور حکومتی مراعات کے مزے لوٹنے والے اس کو قطعی طور پر برداشت نہیں کرسکتے۔ بغضِ عمران میں یہ لوگ پاگل ہوگئے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ خارجہ پا لیسی واضح نہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی پر کوئی بات نہیں کرتا۔ کوئی کہتا ہے حکومت کے پاس کوئی معاشی فارمولا نہیں۔ کوئی تو یہ بھی کہتا ہے کہ سیکورٹی اداروں کے خلاف کچھ اقدام نہیں کرسکتا اور یہ ان کا سلیکٹڈ ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ دفاعی پالیسی پر موقف مبہم ہے۔ میرے خیال کے مطابق ذہن کو صاف کیے بغیر وزیر اعظم عمران خان کے عدوں کو سمجھنا مشکل ہے۔ دوسری بات یہ کہ عمران خان اب کسی پارٹی کا رہبر نہیں رہا بلکہ وہ پاکستان کا وزیر اعظم ہے۔ اس لیے وہ آپ کا بھی وزیر اعظم ہے اور تحریک انصاف والوں کا بھی۔ اپنے وعدے پورے نہ کرنے کی پاداش میں ان پر بجا طور پر تنقید کی جاسکتی ہے، لیکن اس موقع پر تو اس کو چارج سنبھالے ہوئے مشکل سے تین مہینے ہی ہونے کو ہیں۔ ایسے حالات میں مثبت اور تعمیری تنقید کی بجائے حسد سے آگ بگولا ہونا اس ملک اور قوم کو نقصان پہنچانے کے مترداف ہوگا۔
قارئین، فرض کرتے ہیں کہ عمران خان اپنی پالیسیوں میں ناکام ہوجاتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں ہوگاکہ عمران خان کی نیت اور بصیرت پر شک کیا جائے ۔ معروضی حالات اس کے شاہد ہیں کہ پاکستان میں سرکاری اہلکاران کی ایک ماہ کی تنخواہ بھی نہیں۔
اس طرح خارجہ پالیسی ایک دن میں نہیں بنتی۔ اس کے لیے سوچ بچار کرنا ہوتا ہے۔ ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ان کے رویوں کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں۔ اب اگر کوئی آپ کے ساتھ دوستی تو درکنار، الٹا دشمنی پر اُتر آئے، تو اس کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا کیامعنی رکھتے ہیں۔ حالاں کہ وہ خود یا کسی اور ذریعہ سے اس میں بہتری کے اثار آجائیں ۔
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانیوں کے مائنڈ سیٹ پر کام کرنا چاہیے۔ ان کو دقیانونسی، مذہبی جنونیت اور فرقہ واریت سے نکالناچاہیے۔
اس کے پسِ پشت محرکات کو جاننا بھی اہم ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اس ذہنیت کو معاشی ترقی کے ذریعے شکست دی جاسکتی ہے، لیکن اس کے لیے سسٹم میں ریفارمز کرنا ہوتے ہیں۔ ذہن سازی صرف دعوؤں سے نہیں ہوسکتی ہے۔
’’ون ونڈو آپریشن‘‘ کے لیے ترقی کے اہداف سر کرنے ہیں۔ اداروں میں ریفارمز اور غریبوں کو مالداروں کے برابر لانے کے قانون کو بہتر کیا جانا ضروری ہے۔ سویلین سپر میسی اور قانون کی حکمرانی کے اصول لاگو کرنے ہوں گے۔ تمام آوٹ ڈیڈٹ قوانین کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نئے منصفانہ قوانین کی اشد ضرورت ہے۔
ملک میں انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے فیڈریشن کو مضبوط کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کے سد باب کے لیے اس کے جڑوں تک جانا ہوگا۔ اداروں کو قانو ن کے تابع لانا اہم ہے۔ سادہ زندگی کے اصول لازمی ہیں۔ طرزِ حیات میں تبدیلی ہی اصل تبدیلی ہوگی ۔ پاکستان معاشی طور پر انتہائی کمزور دور سے گزر رہا ہے۔ معاش کے علاوہ پانی اور توانائی کے مسائل دیگر ہیں۔ غربت کی شرح روزبروز بڑھتی جا رہی ہے۔ ڈیڑھ کروڑ بچوں کو تعلیم کا نہ ملنا المیہ ہے۔ سٹریٹ چلڈرن کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔کلایمٹ چینج سے گرمی کاد ور دورہ ہے۔ گلیشئر پگل رہے ہیں۔ صفائی اور ناقص خوارک یا خوراک کی کمی کے مسائل درپیش ہیں۔
من حیث القوم غریبوں کی زندگی دگرگوں ہے۔ کسان اور دہقان کو نہ بہتر سہولیات اور رقم میسر ہے اور نہ بہترین زراعت کی ٹریننگ اور وسائل ہی موجود ہیں۔ گندگی پاکستان کے شہروں کا خاصا بن چکی ہے۔اس لیے ان مذکورہ مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔