فضل رازق شہابکالم

ذمے دار کون؟

مجھے پتا نہیں دوسرے علاقوں میں کیا طریقۂ کار ہے، لیکن ریاستی دور میں جو بھی زمین سکول کی تعمیر کے لیے منتخب کی جاتی، وہ بلا چوں و چرا “Acquire” کی جاتی۔
ادغام کے بعد یوں ہوتا رہا کہ جو کوئی اپنی زمین پرائمری سکول کو عطیہ کرتا، اُس کو اُسی سکول میں کلاس فور کی ملازمت مل جاتی، جو موروثیت کی شکل اختیار کرکے اُسی خاندان میں منتقل ہوتی رہتی۔ البتہ ’’اَپ گریڈیشن‘‘ اور بڑے تعلیمی اداروں کے لیے زمین خریدی جاتی ہے۔
مجھے اپنے گاؤں ابوہا کے گرلز ہائی سکول میں طالبات کی کثیر تعداد اور کمروں کی نہایت قلیل گنجایش کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہو رہا ہے۔ہم لوگ سہولتیں تو مانگتے ہیں، لیکن تھوڑی بہت قربانی دینے کے لیے تیار نہیں۔ اول تو کوئی بھی گاؤں ہو، اجتماعی حصے داری کی بنیاد پر زمین نہیں دی جاتی، اور کچھ لوگ مجبوری سے آمادہ ہو بھی جائیں، تو قبرستانوں کے قریب کچھ خالی اور بے کار سی جگہ عطیہ کرتے ہیں، جس میں صرف پرائمری سکول ہی بن سکتا ہے۔ پھر آگے جب حکومت ’’اَپ گریڈیشن‘‘ کروانا چاہتی ہے، تو اُسی جگہ میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتی ہے۔
ہمارے گرلز ہائی سکول میں بچیوں کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ ایک ایک کلاس روم میں سو ڈیڑھ سو بچیاں ٹھونس دی جاتی ہیں۔ پھر اس گرمی کی شدت اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ان کی حالت مزید قابلِ رحم ہوجاتی ہے۔
اگر یہ سکول مقبرہ کے بہ جائے کہیں اور تعمیر ہوتا، تو “Extention” کے لیے کمروں کی تعداد اور سائز میں اضافہ ممکن ہو جاتا۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے گرلز ہائی سکول میں کسی بھی صورت مزید کمرے تعمیر کرنے کا تصور ناممکن ہے۔ دو طرف قبرستان، ایک طرف سرکاری ٹیوب ویل اور ایک طرف جنازگاہ۔ اس کا تو صرف ایک ہی حل ہے کہ یا تو اگر موجودہ عمارت تیسری منزل کا بوجھ برداشت کرسکتی ہو، تو چند کلاس روم بنوائے جائیں، تاکہ طالبات ذرا سکون سے بیٹھ کر پڑھ سکیں، یا پھر ہائی سکشن کے لیے زمین خرید کر نئی عمارت بنائی جائے۔
زمین کی قیمت بھی اتنی بڑھ گئی ہے کہ حکومت چاہے بھی تو ’’ایفورڈ‘‘ نہیں کرسکتی اور نہ سرکاری ریٹ پر کوئی بہ رضا و رغبت زمین دینے کو تیار ہی ہوگا۔
ایکسپرس وے کے لیے جو نرخ حکومت نے مقرر کیے ہیں، وہ تو اونٹ کے منھ میں زیرے کے برابر ہے۔ بھلا 2 ہزار روپے فٹ والی زمین 2 سو روپے میں کون دے گا؟
بہتر حل یہ ہوگا کہ گاؤں میں جس سرکاری عمارت میں عارضی طور پر اسسٹنٹ کمشنر کا دفتر قائم کر دیا گیا ہے، اُسے خالی ہونے پر گرلز سکول کے “Annexe” بنا کر کچھ کلاسیں اُدھر منتقل کی جائیں ۔
یہ سطور تحریر کرتے وقت مجھے ایک بات یاد آگئی۔ ہم اُس وقت ودودیہ سکول سیدو شریف میں پڑھتے تھے۔ بریکوٹ میں جہاں پر آج کل یہ پمپ اور دُکانیں ہیں، یہ ایک خالی زمین تھی۔ اسی میں ہائی سکول بریکوٹ کی تعمیر کے لیے بنیادیں کھودی گئی تھیں کہ ایک مقامی خان نے والی صاحب کو درخواست کی کہ یہ زمین اس کے یتیم بھتیجے کی ہے۔ یہ سکول کہیں اور شفٹ کروادیں۔ والی صاحب نے وہ منصوبہ نوے کلے منتقل کر دیا۔کسی کو یاد ہو، تو وہ کھدی ہوئی بنیادیں ایک لمبے عرصے تک اسی طرح پڑی رہیں۔
پھر کوئی 8 یا 10 سال بعد بریکوٹ کے لیے ہائی سکول کا منصوبہ منظور ہوا۔ سکول تعمیر ہوا۔ کلاسیں شروع ہوگئیں، لیکن لوگ ابھی تک سکول کے ارد گرد خالی زمین میں مداخلت سے محتاط رہے۔ پھر جرگے نے سکول کی حدود کی نشان دہی کی درخواست کی، تاکہ باقی ماندہ زمین اپنے تصرف میں لاسکیں۔ والی صاحب کی ہدایت پر مَیں نے سکول کے ارد گرد ہر کونے سے 28 فٹ کی دوری پر نشانات لگوا کر حد بندی کروا دی۔ میرا مقصد یہ تھا کہ سکول کے ارد گرد کمروں کی ضرورت پڑگئی، تو ان میں بھی روشنی اور ہوا کے لیے خالی “Space” موجود ہوگی۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں