جہانزیب کالج کی رہایشی کالونی کے لیے والئی سوات کی بنائی ہو ئی مسجد کو عرفِ عام میں ’’اللہ اکبر جمات‘‘کہتے ہیں۔ حالاں کہ اس کا آفیشل نام ’’مسجد کالج کالونی‘‘ تھا۔
اب ذرا اس کے بارے میں مختصر طور پر کچھ حقائق جان لیں۔ تفصیل کے لیے میرے کالموں کا مجموعہ ’’عکسِ ناتمام‘‘ صفحہ 213 کھول کر پڑھ لیں۔
والئی سوات نے کالج کالونی کے رہایشی پروفیسروں اور دیگر متعلقہ لوگوں کے لیے ایک مسجد بنانے کی منظوری دی۔ سنٹرل ہسپتال میں بھی پہلے سے ایک مسجد تھی اور کالونی کے رہایشی وہاں جاتے تھے۔
بہ ہر حال اس مسجد کے لیے جامع مسجد دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے ’’سٹیٹ پبلک ورکس‘‘ کے سربراہ محمد کریم صاحب ایک معاون لے کر اکوڑہ خٹک گئے اور دارالعلوم کے ذمے داروں کے تعاون سے مسجد کے ہال کی ڈائمنشنز، میناروں اور منبر و محراب کی تفصیلات وغیرہ حاصل کی گئیں۔
والئی سوات نے ان میں ترامیم تجویز کیں۔مثلاً: ہال کا سائز وہی رکھا گیا، مگر صرف ایک جنوبی پہلو کا مینار چھوڑ کے باقی سب مینار اور چھوٹے چھوٹے گنبد اور مینار حذف کردیے۔ محراب بھی سادہ رکھی گئی۔
دوسرا اہم فیصلہ یہ ہوا کہ اس کو ٹھیکے پر دینے کے بہ جائے محکمۂ تعمیرات کی خصوصی نگرانی میں تعمیر کیا جائے۔ لیبر کا کام ریاستی فوج سے لیا جائے۔ راج مستری روزانہ کی اجرت پر بھرتی کیے جائیں اور تعمیراتی میٹریل (سیمنٹ، سریا وغیرہ) سرکاری گودام واقع سیدو شریف سے فراہم کیا جائے۔ مسجد کے لیے قیمتی “Seasoned” لکڑی حاصل کی گئی۔
نور محمد چاچا نامی ایک نہایت تجربہ کار مستری کو عمومی نگرانی کی ذمے داری سونپی گئی۔ وہ ایک دبلے پتلے، مگر اپنے فن کے مانے ہوئے اُستاد تھے۔
اس مسجد کی محراب اور بیرونی جالیوں کا سادہ ڈیزائن میرے بھائی فضل معبود نے تیار کیا تھا،جو اُس وقت سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی میں اسسٹنٹ ڈرافٹسمین تھے ۔
واحد مینار کے گنبد پر لگائے گئے سرامکس کے ٹکڑے پنجاب کے مختلف سرامکس کمپنیوں سے لائے گئے۔ محکمۂ تعمیرات کے سربراہ محمد کریم صاحب دن میں کئی بار اس کا معاینہ کرتے۔ والی صاحب بھی اکثر و بیش تر شام کو خود کام کی رفتار اور کوالٹی کا جائزہ لینے آتے۔
’’ڈیلی ویجز‘‘ کے بِلوں، گودام سے سپلائی کی گئی اشیا کے واؤچرز،خرید شدہ اینٹ وغیرہ کی ادائی، غرض مسجد سے متعلقہ تمام کاغذات میں اس کا نام ’’مسجد کالج کالونی‘‘ درج ہوا کرتا تھا۔
مسجد کی تکمیل ہوئی، تو اس کے فرنٹ پر ’’اللہ اکبر‘‘ کے الفاظ لکھنے کی منظوری دی گئی۔ مینگورہ کے مشہور آرٹسٹ اور پینٹر محمد ایوب کو اس کے لیے منتخب کیا گیا۔ وہ پہلے سے تمام ریاستی تعمیرات کے بورڈز لکھنے پر مامور تھے۔ اُس نے سیمنٹ کے تازہ پلستر پر یہ الفاظ لکھے۔ نور محمد چاچا نے زائد پلستر ہٹا دیے۔خشک ہونے پر ایوب نے اسے رنگ لگا دیا۔وہ اتنے زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے، نہ کسی اہل کار نے نوٹس لیا کہ جذم کہاں پر ہونا چاہیے۔ آخری معائنہ کے وقت والئی سوات نے اس بات کا نوٹس لیا اور متعلقہ افسروں سے کہنے لگا کہ یہ تو ’’ک‘‘ اور ’’ب‘‘ کو ملاتا ہے، بہ جائے ’’ب‘‘ اور ’’ر‘‘ کے۔
پھر کہنے لگے: ’’ویسے سبھی جانتے ہیں کہ اسے کیسے پڑھا اور بولا جائے!‘‘
تو دوستو! یہی ہیں اصل حقائق…… یہ مسجد کالج کالونی ہے۔ اب آپ چاہے اسے کسی بھی نام سے پکاریں، آپ کی مرضی!
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
