ساجد امانکالم

اورنگ زیب ایڈوکیٹ

  آپ فون کریں یا کہیں ملاقات ہو، انتہائی خلوص، محبت اور احترام سے جواب آئے اور وہ کسی بھی وقت، کسی بھی حالات میں، تو ایسا بڑا پن کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ اورنگ زیب خان ایڈوکیٹ کو جب غصہ آتا ہے، تو ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ہنس دیتے ہیں۔ وہ شہر کا ایک ایسا اٹوٹ انگ ہیں، جن کے بغیر شاید یہ شہر نامکمل ہے۔
25ویں آئینی ترمیم وہ بھیانک دھوکا ہے، جو پاٹا اور فاٹا کے عوام کے ساتھ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ملاکنڈڈویژن کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی۔ تمام صوبائی اور وفاقی ٹیکسوں کا دائرہ ملاکنڈ ڈویژن تک بڑھایا گیا۔ وہ تمام محکمے جو ملاکنڈ ڈویژن میں ممنوع تھے، ملاکنڈ ڈویژن میں تھانے دار بن گئے۔ یہاں کے مقامی لوگوں کو دوسرے درجے کا شہری بنایا گیا۔ حکومت زمرد، چائنہ کلے، سنگِ مرمر، جنگلات، پانی، بجلی، تمباکو وغیرہ کی رائلٹی دینے کی جگہ جزیہ نافذ کرنے میں لگ گئی۔ ملاکنڈ ڈویژن سے کسی ایک فرد نے بھی اس ڈویژن کے انضمام کا مطالبہ نہیں کیا تھا، نہ یہ ایجنڈے کا حصہ تھا، نہ کمیٹی میں ملاکنڈ ڈویژن کی کوئی نمایندگی تھی اور نہ یہاں کے کسی فرد سے پوچھا ہی گیا تھا۔ اس ظلم کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی اور اس کو مشترکہ طور پر مسترد کیا گیا۔ سوات بار ایسوسی ایشن اور پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے جنرل باڈی میٹنگیں کیں اور قوم کے فرزند وکلا نے یک زبان ہوکر اس جبری انضمام کو فراڈ قرار دیا ۔ سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم صاحب نے اس کو ملاکنڈ ڈویژن کے حقوق پر قبضے کی کوشش قرار دیا۔ ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر زاہد خان صاحب نے اسے تاریخی مذاق کہا۔ سوات چیمبر آف کامرس نے اس کو امتیازی سلوک قرار دیا۔ پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن نے اسے وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مکاری قرار دیا۔ مزدور، طلبہ، ڈاکٹروں، وکلا اور سول سوسائٹی نے بھرپور احتجاج کیا اور مزاحمت کا اعلان کیا۔ سوات قومی جرگہ نے اس انضمام کو غلامی سے تعبیر کیا۔ اسی مزاحمت کے نتیجے میں پورے ملاکنڈڈویژن میں ہڑتال ہوئی، جس پر حکومت نے ایس آر اُو 1212 اور 1213 جاری کیے، جس کے مطابق جون 2023ء تک فاٹا اور پاٹا میں تمام وفاقی و صوبائی ٹیکس معطل کر دیے۔ سرتاج عزیز کمیٹی نے مزید 10 سال ٹیکس میں چھوٹ اور این ایف سی ایوارڈ میں 3 فی صد حصہ دینے کی سفارشات دیں۔ فاٹا میں ایک ہی مطالبہ تھا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق دیا جائے اور ایف سی آر کے کالے قانون کا خاتمہ کیا جائے۔ حکومت نے جبری انضمام کے بعد تمام وعدوں سے انکار کردیا۔ ایف بی آر نے ٹیکس کا دائرہ ملاکنڈڈویژن تک بڑھا دیا۔ بجلی، ٹیلی فون اور گیس کے بلوں میں ٹیکسوں کا نفاذ کیا گیا۔ گو کہ یہ آئین اور قوانین کی صریحاً خلاف ورزی تھی، مگر مفتوحہ علاقوں کے باسیوں کے حقوق نہیں ہوتے۔ اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے قبائلی علاقوں فاٹا میں ایک عظیم تحریک شروع ہوئی اور انھوں نے آئین کے آرٹیکل246, 247 کی حیثیت اور انضمام کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا۔ ملک کے ممتاز وکلا وسیم سجاد صاحب سابق چیئرمین سینٹ اور حارث ایڈوکیٹ وفاقی وزیر اور ماہرِ آئین و قانون اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔ ان ممتاز وکلا نے سپریم کورٹ کو قائل کیا اور سپریم کورٹ نے معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا۔
قبائلی قومی جرگے کی درخواست پر جناب اورنگ زیب خان ایڈوکیٹ نے ملاکنڈ ڈویژن کی طرف سے کیس میں فریق بننے کا اعلان کر دیا۔ سوات بار ایسوسی ایشن اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی مکمل حمایت پہلے بھی حاصل تھی اور وکیل صاحب نے دونوں کونسلوں میں یہ معاملہ دوبارہ لے جانے کا اعلان کیا، جس کے ذریعے متفقہ قرارداد منظور کرکے جبری انضمام کے خاتمے کا اعلان کیا جائے گا اور انضمام سے پہلے والے پاٹا کی صورتِ حال کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
زاہد خان صاحب (صدر ہوٹل ایسوسی ایشن) نے بھی کیس میں فریق بننے کا فیصلہ کیا۔ سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر نے پورے ملاکنڈ ڈویژن کے عمائدین، کاروباری شخصیات اور سول سوسائٹی کو فوری منظم کرکے کیس میں فریق بننے کا اعلان کیا۔ پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن نے فریق بننے کی درخواست دینے کا فیصلہ کیا۔
جناب اورنگ زیب خان ایڈوکیٹ نے قانونی ماہرین کی ایک ٹیم کے ساتھ اپنا وکالت نامہ جمع کرنے کا اعلان کیا۔
اورنگ زیب خان ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ مٹی کی محبت میں میں ہر قربانی کے لیے تیار ہوں۔ کیس اسلام آباد میں ہو، پشاور میں ہو، مَیں اپنی قوم اور نئی نسل کی خاطر آخری وقت تک لڑوں گا۔ ہم اپنا چھینا ہوا حق واپس لیں گے۔ یہ مٹی کا قرض ہے اور مَیں اپنی پوری توانائی اس حوالے سے خرچ کروں گا۔
ملاکنڈڈویژن کی الگ خصوصی حیثیت اور رائلٹی ملاکنڈڈویژن کے عوام کا حق ہے۔ پاٹا ریگولیشن سے خلاصی کے بعد جبری انضمام اور ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ تاریخی جبر ہے جو کسی صورت منظور نہیں۔ خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں تمام مشران کو جو حقوق کے حصول کے لیے یک جا اور یک سوہیں۔
سلام فخرِ سوات، فرزندِ مینگورہ اورنگ زیب خان ایڈوکیٹ پر، جو ہر اجتماعی مسئلے میں پیش پیش ہوتے ہیں اور اَن گنت مواقع پر قومی حقوق کے لیے سرکار کی آنکھ میں آنکھ ملا کر پیش ہوتے ہیں۔
اورنگ زیب ایڈوکیٹ کے مینگورہ شہر پر بے شمار احسانات ہیں، جو بغیر کسی ذاتی فائدے کے صرف قوم کے اجتماعی مفادات میں مرکزی و صوبائی حکومتوں سے دلوائے ہیں۔
قارئین، آئیں مل کر اس فرزند کو سلام اور خراجِ تحسین پیش کریں۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں