
قارئین کرام، گذشتہ ہفتہ ضلعی انتظامیہ نے مینگورہ مین بازار میں ہر جمعے کو لگنے والے لنڈا بازار پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیاہے ۔ گذشتہ جمعہ فیصلے پر عمل کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے اہلکار صبح سویرے بازار پہنچے اور لنڈے کی اشیا بیچنے والے تاجروں کو فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے آئندہ بازار لگانے سے منع کردیا۔ بند کمرے میں کئے جانے والے ضلعی انتظامیہ کے اس فیصلے سے تاجروں کو بہت دکھ پہنچا اور کیوں نہ پہنچتا کہ سیکڑوں تاجروں نے پورے ہفتے میں صرف ایک دن کے کاروبار کے لئے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہوتی ہے۔ اس ایک مخصوص دن کے لئے پورے ہفتہ تیاری کی جاتی ہے۔ موسمِ سرماہ کے تین مہینوں پر مشتمل سیزن کے لئے سال بھر تیاری کی جاتی ہے۔ ان تمام کوششوں اور تیاریوں کے باوجود اگر کوئی آنکھوں پرپٹی باندھے، یوں پابندی لگائے، تو شاید میری طرح بہت سے لوگوں کی نظروں میںیہ ایک معاشی قتلِ عام ہی ہوگا۔
دوسری طرف یہ پابندی صرف لنڈے کے کاروبار سے منسلک تاجروں کا نقصان نہیں ہے بلکہ ضلع سوات کے اُن لاکھوں غریب عوام کے لئے بھی ایک بڑا نقصان ہے جو غربت کے مارے اس مہنگائی کے دور میں نئے گرم کپڑے خریدنے سے لاچار ہیں۔ یہ لنڈا بازار سے سستے داموں گرم ملبوسات خریدتے ہیں۔ اس پابندی کے ذریعے انتظامیہ غریب عوام سے سستی اشیا خریدنے کا حق چھیننا چاہتی ہے۔ ورنہ بازار صرف بڑی بڑی گاڑیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے نہیں ہوتے۔
قارئین کرام، ہماری حکومتیں غریب عوام کی معاشی بہتری کی لئے تو کوئی خاطر خواہ منصوبہ نہیں بنا سکتیں، البتہ اگر کوئی غریب دو وقت کی روٹی کمانے بازار میں ریڑھی پر ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کرے، تو اسے روز کسی نہ کسی طریقے سے تنگ کیا جاتا ہے۔ اسے ٹریفک میں خلل کے نام پر دھکے ملیں گے۔ ٹی ایم اے کی طرف سے تنگ کیا جائے گا یا پھر کوئی دوسرا ادارہ اس پر اپنے اختیارات کا رعب جمائے گا ۔
اسی طرح مذکورہ تاجر بھی کوئی خاندانی رئیس نہیں ہیں۔ یہ بھی قرض لے کر یا پھر جائیدادیں بیچ کر لنڈے کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔لہٰذا میری یہ گذارش ہے کہ عوام کو معاشی بدحالی کی طرف مزید دھکیلنے کی بجائے اُن کے لئے کاروبار کرنے کے لیے متبادل جگہ کا بندوبست کیا جائے۔ اس کے بعد انتظامیہ بلاجھجک اپنا شوق پورا کرسکتی ہے اور اگر انتظامیہ ایسا کرنے سے قاصر ہے، تو کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ سیکڑوں لوگوں کو زور زبر دستی کاروبار سے منع کرے ۔
میری تجویز ہے کہ جمعہ بازار کے لئے ایک روڈ کو مخصوص کیا جائے، جہاں سے جمعہ کے روز گاڑیوں کے گزرنے پر پابندی ہو۔ اس طرح نہ صرف لنڈے کا کاروبار والوں پر اثر نہیں پڑے گا بلکہ ساتھ ساتھ متوسط طبقہ کو لنڈے کی اشیا بھی سستے داموں ملتی رہیں گی۔