
قارئینِ کرام، جب سے محکمۂ سوئی گیس نے سوات میں قدم رکھا ہے، تب سے سواتی عوام نے اس محکمے کی کارکردگی پر انگلی اٹھانے کا عمل شروع کر دیا ہے، لیکن آج کل محکمۂ سوئی گیس نے تو ہی حد کردی ہے۔ اگر منت سماجت یا سیاسی اثرو رسوخ پر کسی محلے کے لیے گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ منظور ہو بھی جائے، تو بد قسمتی سے پورے ملک میں محکمۂ سوئی گیس کا الگ قانون ہے اور سوات کے لیے الگ۔ مثال کے طور پر اگر ملک میں کہیں بھی پائپ لائن بچھانے کے عمل کے لیے مطلوبہ معیار کی جگہ کھودنی ہو، تو محکمۂ سوئی گیس خود اپنے ہی فنڈ سے مطلوبہ معیار کے مطابق جگہ کھو دتا ہے، لیکن یہاں سوات میں عوام خود ہی جگہ کھود تے ہیں ۔ طرفہ تماشہ تب ہوتا ہے، جب محکمے کا کوئی اہلکار آجائے اور نالی کے مطلوبہ معیار میں کوتاہی دیکھ کر بدمعاشی شروع کر دے، کہ یہ کھڈے مطلوبہ معیار کے نہیں۔ اس لیے وہ اس وقت تک پائپ لائن نہیں بچھائے گا، جب تک مطلوبہ معیار پورا نہ ہو۔ محلے کے لوگ مطلوبہ معیار پورا کر بھی لیں، تو پھر پائپ لائن کے لیے بار ر بار سوئی گیس دفتر کے چکر لگانے سے پورے محلے کے لوگوں کے پاؤں میں چھالے پڑجاتے ہیں، لیکن وہاں موجود سرکاری اہلکاروں اور افسران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
اپنی مرضی کے مطابق صاحبان کو وقت مل جائے، تو کئی مہینے بعد پائپ بچھانے پر کام شروع کر دیتے ہیں۔ پھرمیٹر کی باری آئے، تو سوئی گیس عملہ کے حیلے بہانے شروع ہوجاتے ہیں۔ میٹر لگوانے کے لیے کل آؤں گا، آج آؤں گا،، پرسوں آپ کا کام ہوجائے گا، یہ تو تیار نہیں پڑے، اس کے لیے مہینے لگتے ہیں، بار بار کیوں تنگ کرتے ہو، وغیرہ وغیرہ۔گویاسوئی گیس دفتر میں کسی بزرگ شہری یا کسی کے احترام کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتااورمیٹر لگتے لگتے سالوں گزر جاتے ہیں۔
جب میٹر بھی لگ جائے اور آپ سکون کی سانس بھی لیں، تو کئی دنوں بعد دوسرے لوگ حاضر ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جناب عالی، آپ کا میٹر غیر قانونی ہے۔ اس کا ریکارڈ موجود نہیں۔ یہ کس نے لگایا، کیوں لگایا، کیسے لگا یا؟ تو پھر کئی بار انہیں مطمئن کرنے سوئی گیس دفتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔ آپ تصور کرنے لگ جاتے ہیں کہ یہ لوگ میرے ساتھ بچوں جیسا سلوک کرتے ہوئے کوئی کھیل تو نہیں کھیل رہے؟ اب ان علاقوں کے رہائشیوں کے لیے میرا پیغام ہے جو گیس سے محروم ہیں اور گیس کے لیے منتظر بھی، کہ گیس لگا نے اور اس سارے عمل سے گزرنے کے لیے پہلے سے تیاریاں شروع کر دیں۔ دیسی گھی اور مرغیاں کھایا کریں، تاکہ سوئی گیس دفتر کے بار بار چکرکاٹنے سے آپ کمزور نہ ہو جائیں۔ ہاں، اگر پیسے ہیں، تو پھر تو کوئی بات نہیں۔ پیسوں سے یاد آیا کہ سوات سوئی گیس آفس کے پائپ فٹربھی آج کل بڑے عیش و آرام کی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ بڑے افسر تو بڑے بڑے بنگلے تعمیر کر رہے ہیں۔ یہ تو بھلا ہو سوات کے صارفینِ عدالت کا جو محکمۂ سوئی گیس کے ہاتھوں ستائے ہوئے عوام کی محرومیوں کا کچھ تو ازالہ کر رہی ہے۔ ورنہ انصاف کے علمبرداروں سے محکمۂ سوئی گیس کا قبلہ درست کرنے کی امیدنہ رکھیں۔ وہ اب نئے تماشوں میں مصروف ہیں۔ بھیک مانگنے کے نئے نئے طریقوں پر سوچ رہے ہیں۔ باقی یہاں کوئی ہے ہی نہیں کہ یہاں برسوں سے تعینات اہلکار اور افسران کا قبلہ درست کرنے کے ساتھ ساتھ تلاشی لے کہ یہاں کیوں بہتی گنگا میں اشنان فرمائے جار رہے ہیں؟شائد نعروں اور دعوؤں پر اندھا اعتماد کرنے والوں کا یہی حال ہوا کرتا ہے، جو آج ہمارا ہے۔