کالم نگاری

شیر شاہ آبشارؔ ، اک ابھرتا شاعر

تصدیق اقبال بابو

✍️ کالم نگار: تصدیق اقبال بابو

اشتہار / Advertisement

شیر شاہ آبشار کو میں جانتا نہ پہچانتا تھا۔ آج سے کوئی دو سال پہلے میں نے اپنے نئے گھر کی منتقلی کی خوشی میں اِک مشاعرہ منعقد کرنے کا پروگرام ترتیب دیا۔ کچھ جاننے والے احباب شعرا کی پرچی اپنے دوست پروفیسر عطاء الرحمن عطاءؔ کو تھمائی اور اُن سے مشورہ بھی طلب کیا، تو انہوں نے سب نام پاس کرتے ہوئے لسٹ میں اِک اور نام کا بھی اضافہ کردیا۔ وہ نام تھا شیر شاہ آبشارؔ کا۔ پروگرام کے مطابق شاعر حضرات تشریف لے آئے، جن میں اِک دُبلا پتلا لیکن لمبا تڑنگا، جاذبِ نظر، دودھیا رنگت کا اِک خوبصورت بانکا سا نوجوان سب میں نمایاں نظر آرہا تھا۔ اُس نے کلین شیو کیا ہوا تھا۔ پتلے مگر عناب کی طرح قدرتی سرخ ہونٹ، عقاب کی طرح تیز آنکھیں، قدرے لمبی ستواں ناک، باتوں میں رکھ رکھاؤ، ملنے میں سلیقہ اور پہلی ہی ملاقات میں دوسروں کے دلوں میں گھر کرنے والا یہ نوجوان شیر شاہ آبشارؔ تھا، جو ڈیل ڈول اور چہرے بشرے سے ہر گز شاعر تو نہیں لگ رہا تھا لیکن جب کلام سنانے کے لیے اُٹھا، تو اس قدر متانت، سنجیدگی اور پر وقار انداز میں کلام سنایا کہ پنڈال بھر کو ورطۂ حیرت میں ڈال گیا۔ کلام بھی سنجیدہ اور معاشرتی دُکھ میں رنجیدہ تھا۔ اوپر سے اندازِ بیاں کا تڑکا اور پُراعتمادیت دل میں گھر کرنے والی تھی۔ بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہماری خوب گاڑھی چھن رہی ہے۔ موصوف ہمارے دوست سمیع اللہ گرانؔ کے دیرینہ ہمدم ہیں۔ اُنہی کے توسط ’’کبل‘‘ نامی دور پار کے علاقے سے مینگورہ شہر کی اک ادبی تنظیم میں پچھلے سال آئے اورنائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت کئی ایک ادبی پروگراموں میں سٹیج کے فرائض بھی کامیابی سے نبھا گئے۔ علاوہ ازیں معاملہ فہمی، دور اندیشی اور کچھ بھی بھانپ جانے والی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اِک وسیع حلقہ احباب بھی رکھتے ہیں۔ جبھی تو کبھی دیر، تو کبھی شانگلہ، کبھی بونیر، تو کبھی پاشور کی وادیوں میں لوگ اُسے عزت سے پروگراموں میں بلاتے ہیں۔
دیر شرینگل یونیورسٹی اور کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ایوارڈ کے علاوہ کئی ایک ادبی، سماجی اور ثقافتی تنظیموں کی جانب سے آپ کو ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس بھی مل چکے ہیں۔ نوخیز گلوکارہ عظمیٰ اور نو آموز گلوکار وقار نے آپ کی غزلوں کو ساز اور آواز کے حسن سے بھی خوب مزین کیا ہے۔ کاروباری حوالے سے آپ گاڑیوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ الیکٹرانکس کے دیگر کاموں میں مہارت کے ساتھ فریج، ائیر کنڈیشن کاکام بھی جانتے ہیں جبکہ سروئیر کا ڈپلومہ بھی لے رکھا ہے۔ اچھے اور معتبر گھرانے یعنی بوستان خیل قبیلے سے تعلق ہے۔ سخاوت، فیاضی اور مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ حجرہ مہمانوں سے کبھی خالی نہیں ہوتا۔ پچھلے سال ڈھلتی گرمیوں میں ہم بھی چند دوستوں کے ہمراہ اُن کے علاقے کی جانب گئے۔ خوب خدمت سیوا کے بعد ہمیں اپنی کار میں خوبصورت پہاڑیوں کی چوٹیوں پہ لے گئے۔ ہلکی رم جھم کے بعد مطلع نتھر اور نکھر کر دو آتشہ ہوچکا تھا۔ وہ ہمیں ٹال دردیال اور گودا مانڑئ کی خوبصورت وادیوں میں گھماتے پھراتے ضلع دیر کے بارڈر تک لے گئے۔ شام ڈھلے واپس ہوئے۔ ساتھیوں کو ناکھ، ناشپاتیوں اور بھٹوں کی گتھیاں تھما کر عزت سے رخصت کرکے ہمیں اپنا گرویدہ بنا گئے۔
اگر اُن کے ادبی سفر اور روداد کے حوالے سے بات کی جائے، تو بہ قول اُن کے جب وہ 1997ء میں جماعت نہم میں تھے، تو شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ شاعری میں تخلص بھی کمال کا رکھا، گویا کہنا چاہتے ہوں کہ ادب اِک سمندر ہے جس کا میں اِک جھرنا یا آبشار ہوں۔ شاعری میں اُن کا باقاعدہ کوئی استاد نہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’میرا ہر وہ شاعر پسندیدہ شاعر ہے جس کا کلام مجھے متاثر کرے۔‘‘ نظریاتی حوالے سے آپ ادب کو زندگی کا ترجمان سمجھتے ہیں۔ اُن کے ہاں داخل اور خارج کی ساجھے داری خوب ہم آغوش ہے۔ وطن کی نوحہ خوانی ہو یا پشتون کی حالتِ زار، سوات کے حالات کی تباہ کاری ہو یا داخلی کرب کی آہ و زاری، سبھی جگہ آپ کا قلم خوب فراٹے بھرتا دِکھائی دیتا ہے۔
وہ دوستی کرنا اور دوستی نبھانا تو خوب جانتے ہیں لیکن دوستی اور تعلق داری کی آڑ میں چار سو پھیلی ہوئی منافقانہ چال بازیوں کی چہل پہل میں چہروں پہ جھوٹ کی سیاہی دیکھ کر آپ کا قلم کچھ اس انداز میں ملمع کاری کرتا دکھائی دیتا ہے۔
چی د خپل ذات د دائرے نہ بھر نہ شی وتے
ہغہ یاران، ہغہ دوستان زما بیخی نہ لگی
چی نہ ئے خوئی وی، نہ ئے رنگ، نہ ئے کار د سڑو
ابشارہؔ خدائے شتہ، چی می دا رنگہ سڑی نہ لگی
اسی غزل میں یہ محاکاتی شعر بھی ملاحظہ ہو، جس میں رومانی فضا موجود ہے۔
چی سوک پہ چا باندے مئین نہ وی او خوخ ئے نہ وی
ہسے خو سوک پہ لارہ چرتہ پہ بنگڑی نہ لگی
سوات کی تباہ کاری کے حوالے سے بھی آپ نے خوب مزاحمتی شاعری کی ہے۔ ذرا ان اشعار میں دیکھیے کہ کس کمال ہنر مندی سے انہوں نے علامت اور استعارے کو باہم یکجا کرکے فنی اور فکری آمیزش کی ہے۔
دغہ سڑے زما او ستا دے پہ شریکہ دخمن
دغہ سڑی زما او ستا تر مینزہ شر راوستو
د دی نہ پس بہ پرے زہ بیا سنگہ باور اوکڑمہ
دوی خو زما کور تہ پہ ما پسے لخکر راوستو
مزید لکھتے ہیں کہ
پہ ڈیرہ مودہ پس چی زہ واپس کلی تہ راغلم
د خپل تالہ والہ وران شوی کورہ یریدم
دا اوس چی می زوانان او ماشومان پکے سوزیگی
واللہ! زہ د پخوانہ د دے اورہ یریدم
جنگ کے موضوع پہ مصنوعاتی یا غزلِ مسلسل طرز کی اِک غزل کے یہ اشعارملاحظہ ہوں۔
جنگ زیرے نہ دہشت دے، جنگ وینی تویول دی
جنگ وجنی سرہ گلونہ، جنگ سپرلو لرہ خزان
جنگ ناکامہ کاروبار دے، جنگ د وینو پہ سر کیگی
جنگ عجیبہ جواری دہ، د جنگ گٹہ ہم تاوان
قدامت پرستی کے بت کو کاری ضرب لگاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
د خپل پلار نیکہ دننگ خبرے پریگدہ
تہ بہ کلہ راویخیگے اے زلمیہ؟
مشرقی حیا اور اظہار و مدعا کے ساتھ محبوب کے غمزہ و ادا کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ
زڑہ می غوختہ خو د وئیلو پہ چل نہ پوہیدم
تا تہ د زڑہ د راسپڑدلو پہ چل نہ پوہیدم
ستا پہ شان زہ ہم ڈیر خائستہ وومہ خو دومرہ دہ چی
ستا پہ شان دومرہ د سیزلو پہ چل نہ پوہیدم
رومان ہی کے موضوع پہ یہ خوبصورت شعر بھی ملاحظہ ہو
نظر دے اوس زما نظر کے چرتہ پاتی کیگی
ڈاڈہ می زڑہ تہ راشی ورکی چرتہ پاتی کیگی
آبشارؔ کے فطری اسلوب میں کسی آبشار ہی کی طرح فطری بہاؤ ہے، جس میں جگر سوزی بھی ہے اور دل دوزی بھی، جسے پڑھ یا سن کر ’’جاننے والے‘‘ سر ضرور دُھنتے ہیں۔ مواد پورا ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے پہلے شعری مجموعے کی چھپائی میں جلد بازی نہیں کررہے۔ شاید اُن کے ذہن میں فرازؔ کی یہ بات کس نے ڈال رکھی ہو کہ ’’پہلی شادی اور پہلی کتاب میں کبھی جلد بازی نہیں کرنی چاہئے‘‘۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔