
’’تاریخِ ادب کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مردوں کے ساتھ عورتوں نے بھی ہر صنفِ ادب میں کمال کے جوہر دکھائے ہیں۔ مردوں نے اگر ایک طرف عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور محبوبہ کی شکل میں پیش کیا ہے، تو دوسری طرف عورتوں نے بھی مردوں کے ہر زاویۂ نظر کی بھرپور پرتیں اُتاری ہیں۔ اردو میں عورت کے جذبات کی صحیح عکاسی کرنے میں پروین شاکر، اداجعفری اور شبنم شکیل جیسے معتبر حوالے موجود ہیں، تو پشتو میں بھی زیتون بانو، سلمیٰ شاہین اور حسینہ گل جیسے نام موجود ہیں۔ ان کے علاوہ بھی خواتین لکھاریوں کی اِک لمبی کھیپ موجود ہے جنہوں نے عورتوں کے جذبات، احساسات اور مسائل کو بڑے دلآویز اور والہانہ انداز میں پیش کرکے ادب کے دامن کو وسیع کیا ہے‘‘۔ (میرے ہی کالم سے ماخوذ)
یہ سلسلہ ابھی رُکا نہیں بلکہ پشتو میں ثمینہ قادر، ناہید سحر اور اب نیلم آرزو کی صورت میں مستند نسائی آوازیں اپنی موجودگی کا بھر پور احساس دلارہی ہیں۔ ضلع دیر سے تعلق رکھنے والی نیلم آرزوؔ کا حال ہی میں پہلا شعری پڑاؤ ’’د سازونو باران‘‘ چھپ کر منظرِ عام پہ آیا ہے، جس میں آپ کی جدت اور انفرادیت دوسروں سے ہٹ کر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب پہ ڈاکٹر اظہار اللہ اظہارؔ ، اباسین یوسف زء، عطاء الرحمان عطاؔ ، ڈاکٹر شیر زمان سیمابؔ ، علی خیل دریابؔ اور عطاء اللہ جانؔ جیسے نابغہ اساتذہ نے تصدیقی تحریروں سے اسے مزید مصدقہ کردیا ہے۔
نیلم آرزو کے ہاں فنی پختگی اور بلند خیالی کے ساتھ ایسا دردیلا لہجہ ہے جو آپ کو اپنی ہم عصر شاعرات میں منفر د مقام پہ لا کھڑا کرتا ہے۔ پروفیسر اباسین یوسف زئ نے آپ کو حسینہ گل کی ہم پلہ شاعرہ قرار دیا ہے، جب کہ میرا خیال ہے کہ آرزوؔ کے ہاں شدت کا جو عنصر موجود ہے، وہ رحمت شاہ سائل کے فن سے لگا ؤ کھاتا ہے۔ آپ کے نسائی لہجے میں نسوانی استحصال کے خلاف شدت کے ساتھ بغاوت اور بھر پور مزاحمت بھی نظر آتی ہے۔ آپ نے شعر کے نازک پیرائے میں فطری جذبات، خارجی احساسات اور قلبی واردات کو حقیقت پسندانہ انداز میں بیان کیا ہے، جس میں دلآویزی بھی ہے اور دلدوزی بھی۔ خواتین شاعرات عموماً علامتوں کا استعمال کرتی ہیں۔ آپ نے بھی اپنے اظہار کے لیے کارغہ (کوا)، کبوتر، چڑیا اور مینا جیسی علامتیں استعمال کی ہیں مثلاً
د اُخکو اسویلو د جڑاگانو بادشاہی دہ
زمونگہ پہ ہیواد د ظالمانو بادشاہی دہ
دا جالہ د خارو چی ترے راپریوتہ نسکورہ
پہ دغہ چنارونو د کارغانو بادشاہی دہ
پختون بیلٹ کے حالات، اپنی روایات، کم علمی کا احساس اور جابر طاقتوں کے خلاف مزاحمت آپ کے خاص موضوعات ہیں۔ نظموں میں آپ نے عموماً تمثیلی انداز اپنایا ہے، جن میں مختلف مناظر، تصویری اور محاکاتی انداز میں ہماری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں۔ آپ کی نظموں کے زیادہ تر موضوعات پختونوں کی دھرتی پہ بپا ہونے والے وہ خون آشام حادثات ہیں جن میں انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا۔ آپ کی ہر ہر نظم پہ تفصیلی مقالے لکھے جاسکتے ہیں لیکن میں کوشش کروں گا کہ کالم کی تنگ دامنی کی وجہ سے اپنی پسندیدہ نظموں کو صرف ایک ایک جملے ہی میں بیان کرسکوں۔
کتاب کی پہلی ہی نظم ’’تپوس‘‘ مزاحمت کے ساتھ کرب کا رنگ لیے ہوئے ہے۔ جو حساس قاری کو جھنجھوڑ کے رکھ دیتی ہے۔ چناروں، آبشاروں اور بلبلوں کے اِرم میں کووّں کا راج دیکھ کر آپ ’’کارغہ‘‘ نامی معرا نظم لکھتی ہیں، جن میں ایسے ایسے مصرعے بھی سامنے آتے ہیں۔
یو کارغہ راغوٹہ کیگی
دا کارغہ د تاوا سور دے
دے بلبلو لہ ناسور دے
’’کوترے خفہ دی‘‘ میں بھی گذشتہ خونی حالات کا نوحہ موجود ہے، لیکن یہاں ’’گدھ‘‘ یا ’’کوے‘‘ کی جگہ کبوتر کا استعارہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ’’زما وطن‘‘ میں بھی حالات ہی کا رونا رویا گیا ہے۔ ’’بلنہ‘‘ میں انقلاب کا اشارہ ہے جبکہ “Last Text” میں مردانہ نفسیات پہ طنز کا بھر پور تازیانہ گرایا گیا ہے۔ ’’زوانی تاوانی‘‘ نامی نظم کا یہ شعر
ورکوٹوالے خو خانی دہ
زوانی ڈیرہ تاوانی دہ
پڑھ کر سلمیٰ شاہین کی مشہور نظم ’’دریغہ‘‘ یاد آگئی جس کی ردیف تھی ’’زہ ہم ہغہ سے وڑہ وے‘‘ “Technique” اور “Idealism” میں عورت کی عفت، حیا اور وفا کا ذِکر ہے۔ ان دو نظموں میں ہمیں پروینؔ شاکر کے انداز کی جھلک نظر آتی ہے۔ اُسے اپنے ماضی سے عشق ہے۔ روایات کے قتل پہ وہ یوں لکھتی ہیں:
خو شم حیرانہ چی ما وژنی نہ بس دومرہ اوکڑی
پہ دواڑو تنہ زما لیچونہ بنگڑی اوباسی
آپ کی غزلوں میں بھی تقریباً وہی موضوعات ہیں جو نظموں میں ہیں۔ سبک روی، سادگی اور عام فہم انداز آپ کی غزلوں کا اسلوب ہے، جو آپ کا اپنا ہے۔ آپ نے کسی کا رنگ نہیں لیا، کسی کے جوتے نہیں پہنے۔ بس جو دیکھا، جو محسوس کیا، اُسے شعر کے قالب میں بند کیا۔ چاہے وہ داخلی کیفیات ہوں یا خارجی حادثات، سماجی حالات ہوں یا ازدواجی معاملات، سبھی جگہ آپ نے کھلم کھلا اظہار کیا ہے۔ مثلاً
دوہ مخیزہ انسانانو نہ باغی یم
زما وینہ زما ساہ کے لینتوب دے
ذرا نسائی لہجے کی مثالیں بھی ملاحظہ ہوں:
د ہر زیارت پہ ورز روژہ می وظیفہ منلی
د بیلتانہ عمر بہ تیر شی آخر سومرہ بہ وی
یا یہ کہ
نہ اشارے نہ مکیزونہ نہ چل ول رازی
مینہ کول رازی پہ مینہ پوہیدل رازی
یا یہ بھی کہ
تل می د ارمان پہ مرئ گوتے گدی وجل کوی
بس کڑہ گورے مہ کوہ خیرے بہ درتہ اوکڑمہ
آرزو کا شعری سفر اتنا طویل نہیں لیکن پھر بھی اس میں جو جامعیت اور قطعیت ہے، وہ اُن کی فکری پختگی اور انضمامت پر دال ہے۔ کیوں نہ ہو کہ شہد کے گھڑے جیسے عطاؔ نے اُن کے ادبی ذوق اور فطری صلاحیت کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ چلنے اور بڑھنے کا ہنر بھی سکھایا۔ حالاں کہ موصوفہ کیمسٹری کی لیکچرار ہیں لیکن طبع موزوں کا کیا کیا جائے۔ فن میں عام صنعتوں کو تو ہر کوئی برت لیتا ہے، لیکن کمال یہ ہے کہ کوئی انہونا کام کیا جائے۔ شاعری میں صنعت واسع الشفتین (عبارت یا مصرعہ میں ایسے لفظ لانا جن کے پڑھنے سے لب بہ لب نہیں ملتے) کو برتنے میں بڑے بڑے اساتذہ چکراجاتے ہیں اور پھر پشتو میں اس صنف کو برتنا تو اور بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ نیلم آرزوؔ نے ایک ہی غزل میں دو جگہ اس صنف کو برت کر کمال کردکھایا ہے۔
آیئے دیکھتے ہیں:
ژوند لہ جواز راکنہ
عشقہ آواز راکنہ
زڑہ دے رالہ راکڑلو
دے زڑہ لہ راز راکنہ