کالم نگاری

اس بار ووٹ سوچ سمجھ کر دیں

حضرت علی

✍️ کالم نگار: حضرت علی

اشتہار / Advertisement

جوں جوں الیکشن نذدیک آرہے ہیں، توں توں سیاسی تاجر عوام کے ووٹ کا ریٹ بڑھا رہے ہیں ۔ہر سیاسی پارٹی نے اپنی سیاسی دکان چمکانا شروع کردیا ہے ۔جبکہ بڑے بڑے سیاسی بھیڑیوں نے اپنی اپنی تجوریوں کے دروازے کھول دیئے ہیں ۔کسی نے پانی کے پلاسٹک پائپ ،تو کسی نے بجلی کے کھمبے اور ٹرانسفرمر اپنے بغل میں اٹھا یا ہے۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کی قیمت لگائی جارہی ہے تو کوئی بلدیاتی نمائندوں اور محلوں کی سطح پر عوامی لوگوں کی قیمت لگا نے میں مصروف ہے۔قارئین کرام، ان سیاسی وڈیروں کو پہچانیں جو عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کل یہی لوگ اپنا لگایا ہوا پیسہ سرکاری خرانے سے سود سمیت وصول کریں گے۔ جبکہ حال ہی میں فارغ ہونے والے لوگوں نے کرپشن کے ذریعے خوب پیسا کمایا اور عوام کو مہنگائی کے سوا کچھ نہیں دیا ۔آج وہی چہرے پھر سے الیکشن کے میدان میں نئے ناز نخروں کے ساتھ نکلے ہیں۔ ایک بار پھر قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے پر تول رہے ہیں ۔ آج موقع ہے، عوام صالح قیادت کا انتخاب کریں ورنہ کل قومی خزانہ لوٹ کر عوام پر نئے ٹیکس لگاکر اور مہنگائی کی شکل میں نقصان پورا کیا جائے گا ۔پھر پانچ سال عوام مہنگائی کی چکی میں پسیں گے ۔لہٰذا اب وقت ہے کہ ہم اپنے لئے ایماندار،امانت دار،صالح اور مخلص نمائندوں کو منتخب کریں ور نہ کل کے رونے سے آج کا سوچ سمجھ کر کیا جانے والا فیصلہ بہتر ہے۔ اب موقع ہے کہ عوام ان نمائندوں کا انتخاب کریں جو سیاست عوامی خدمت کیلئے کرتے ہیں ۔جو ظاہری اور باطنی شکل و صورت میں پا ک ہوں۔ جن کے ماضی کرپشن سے پاک ہوں۔ جن کا اخلاقی معیار بہتر ہوکہ کل کو کسی محفل میں اپنے حلقے کے عوام کی بدنامی کا سبب نہ بنے۔ کیو ں کہ اگر کوئی بد اخلاق نمائندہ ہوگا تو کل کو اس کے اپنے ہی حلقے کے لوگ اس پر انگلی اٹھائیں گے۔دوسرے لوگوں کو بھی یہی پیغام ملے گا کہ جیسا لیڈر ہوگا، ویسے ہی اس کے عوام ہوں گے۔ کسی عوامی نمائندے میں اتنی اہلیت ہونی چاہئے کہ کل کو وہ اسمبلی فلور پر اپنے حلقے کے عوام کے مسائل اجاگر کر سکے ۔کیونکہ عوام کے منتخب نمائندوں کی عوام کی صحیح معنوں میں خدمت اسمبلی فلور پر ان کے مسائل اور ان کے حل سے شروع ہوتی ہے۔ صرف یہ نہیں کہ وہ انتخاب کے بعد اپنے حلقے میں جلسوں اور جلوسوں میں تقریریں تو بہت بڑی بڑی کریں اور اسمبلی فلور پر منہ کھولنے کی زحمت نہ کریں۔ کم از کم ان کو اپنے حلقے میں صحت ،تعلیم ، پانی کی صورتحال اور اس کے علاوہ دیگر مسائل کا علم ہو۔ تاکہ وہ اسمبلی فلور پر ان مسائل کیلئے اواز اٹھائیں اور ان کے حل کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات کیلئے اپنی بھر پور کوششیں کریں ۔
قارئین کرام ، آنے والے الیکشن میں سیاسی ٹھیکیداروں سے دور رہیں کیونکہ یہی لوگ سرکاری ٹھیکے خو د اپنے خاندانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ پھر سرکاری املاک ہوں یا روڈ ،سب کا بُرا حال ہوتا ہے اور ان سے کوئی پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔جس کی مثال عوام کے سامنے ہے ۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔