
کہتے ہیں کہ باپ کا دستِ شفقت سر پر موجود نہ ہو تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔
باپ ایک عظیم رشتہ ہوتا ہے ۔باپ جتنا بھی کمزور ہو لیکن بچوں کے لئے دنیا کا طاقتور ترین انسان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر بچوں کوکوئی بھی طاقتور انسان چھیڑے تو بچے معصومانہ لہجے میں بہت فخرسے کہتے ہیں کہ میں اپنے باپ سے تمہاری شکایت کروں گا۔
لیکن جب باپ اپنے بچوں سے یہ حق چھین لے اور ان کے سر سے دستِ شفقت کھینچ کر بیگانا ہوجائے ، تو ان بچوں کیلئے دنیا کا ہر رشتہ بے معنی ہو جاتا ہے ۔اور دنیااُن کے لئے وبال جان بن جاتی ہے۔
ایسی ہی ایک داستان سوات کی یونین کونسل کوکارئی میں کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر کمسن نوجوانوں اور بچوں عبد الرحمان ،حافظ قران عبدالحمید ، حافظ قران احمدخان اور دیگر دو بچوں کی ہے ۔ جن کے والد نے دوسری شادی کے بعد انھیں اپنے گھر سے بے خل کردیا ہے۔ اس وقت یہ پانچوں بھائی اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی بیگانوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا بھائی 21 سالہ عبدالرحمان ایک انتہائی سادہ انسان ہے۔مینگورہ بازار میں ریڑھی چلا کر محنت مزدوری کرتا ہے اور گھر کا واحد کفیل ہے ۔ جبکہ یہ پانچوں بھائی اپنی لاچاری کی وجہ سے اب ہر خاص و عام کے لئے بلا معاوضہ مزدور بن گئے ہیں۔انہیں اب ہر کوئی اپنے مقصد کیلئے استعمال کررہا ہے ۔
آج کل پورے سوات میں نامعلوم چوروں کی شوشاہ چھوڑ دی گئی ہے ۔ سوات بھر میں بدامنی کی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں ۔رات کے وقت پورے سوات میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔یہ صورتحال سوات پولیس کے لئے درد سربن گئی ہے ۔لہٰذا پورے سوات کی طرح یونین کونسل کوکارئی میں بھی یہی صورتحال ہے جس نے کورکارئی پولیس کو متاثر کیا ہواہے ۔شاید کوکارئی پولیس کی بھر پور کوشش تھا کہ وہ کسی نہ کسی صورت بد امنی کی افواہیں ختم کرے۔
پولیس کو اس مقصد کے لئے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا، اس لئے کوکارئی پولیس کے ایس ایچ او روشن علی نے 14ستمبر 2018 دن 5بجکر55منٹ کو موبائل گشت سے واپسی پرکمسن حافظِ قران بھائی عبد الحمید ،احمدخان 14سال سے کم عمر اُسامہ اور سعید راستے میں ملے تو انہیں پولیس موبائیل میں سوار کرکے تھانے منتقل کر دیا گیا۔وہاں ان پر شدید دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اس بات کا اقرار کرلیں کہ ہم راتوں کوچوری، فائرنگ اور گھروں میں پتھر پھینکنے کے علاوہ دیگر وارداتوں میں ملوث ہیں۔جب تفتیش کے دوران مارپیٹ کے بعد بھی پولیس کو کچھ نہیں ملا تو اپنی بد نامی چھپانے کے لئے دوبھائیوں حافظ عبد الحمید اور احمد خان کودفعہ 107کے تحت حوالات میں بندکر دیا گیا۔ عبدلرحمان کے مطابق کمسن اُسامہ اور سعید کومنت سماجت پر رات گئے رہا کردیاگیا ۔
روزنامچے کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں بھائیوں سے علاقے کے امن کو شدید خطرات لاحق تھیں۔دونوں بھائی 15ستمبرکو علاقہ مجسٹریٹ کے حکم پر ڈگر جیل منتقل کردئے گئے۔پیر کے روز دوپہر کو میں ایک کام کی غرض سے عدالت گیا تو وہاں مجھے عبدلرحمان ملا۔ اس نے مجھ سے التجاکی اور اپنے بے سہارا بھائیوں کی ضمانت کیلئے پرزور اسرار کرتا رہا۔ اس پر میں نے اور دیگر دو افراد نے بغیر کسی رشتے اور جان پہچان کے ضمانتی مچلکے جمع کرائیں۔ میں اللہ کو حاضر جان کر قسم کھاتاہوں کہ اس وقت ان کے پاس ضمانتی مچلکوں اور ڈگرجیل جانے کے لئے کرایہ تک نہیں تھا ۔
قارئین کرام،قانون کے رکھوالوں کی طرف سے یہ عمل کمسن ،مجبور اور بے سہارا نوجوانوں کو جرم کی دنیا میں دھکیلنا ہے۔ایسا اقدام انہیں جرائم پر مجبور کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اور پھر جیل کے برے ماحول نے کمسن نوجوانوں پر کتنا اثرا ڈالا ہو گا ؟یہ اللہ جانے۔ لہٰذا انصاف کا تقاضا ہے کہ اس گھناؤنے عمل پر اعلی ٰپولیس افسران کوکارئی پولیس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کریں۔