کالم نگاری

بارش اور بچپن کی یادیں

فضل رازق شہاب

✍️ کالم نگار: فضل رازق شہاب

اشتہار / Advertisement

  مجھے بارش میں چھتری لے کر چلنا اچھا لگتا تھا۔ غالباً یہ بہت کم عمری میں برساتی میں چھپ کر برستی بارش کے دوران میں صحن میں بیٹھ جاتا تھا۔ برساتی پر بارش کے قطروں کی آواز مجھے بہت بھلی لگتی تھی۔
کالج کے دنوں میں ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ لے کر ایسی جگہ بیٹھ جاتا، جہاں پر بارش کے قطرے ہوا کے دوش پر اُڑ کر مجھے گیلا کردیتے۔ بس یہ دو باتیں میرے لاشعور میں بیٹھ گئی تھیں، تو اس لیے مَیں چھتری لے کر بارش میں نکلتا۔ پیدل منگورہ جاتا اور نیو روڈ کے ایک سرے سے دوسرے تک چکر لگا کر واپس آجاتا۔
بارش مجھے بہت ہی اچھی لگتی تھی۔ ہمارا افسرآباد والا پہلا گھر دوسرے تمام گھروں کی طرح لکڑی کی چھت اور مٹی پر مشتمل تھا۔ موسمِ سرما کی لمبی جھڑیاں لگتیں، تو کئی روز کی مسلسل بارش کی وجہ سے چھت جگہ جگہ سے ٹپکنے لگتی۔
ایک ایسی ہی رات کی بات ہے کہ میری والدہ بچوں کے ساتھ گاؤں چلی گئی تھی۔ مَیں اور بابا گھر میں اکیلے تھے۔ بارش کئی روز سے ہورہی تھی۔ایک کمرے کے ایک کونے میں ایک چارپائی برابر جگہ محفوظ تھی۔ اُسی چارپائی پر ہم نے ساری رضائیاں تہہ در تہہ بچھائیں اور اس کے اوپر ایک رضائی اُوڑھ کر مَیں اور بابا سوگئے۔اُنھوں مجھے اپنے سینے کے اوپر لٹایا تھا۔ وہ رات آج تک مجھے تفصیل کے ساتھ یاد ہے۔
اُن دنوں رضائیاں رکھنے کے لیے کسی کسی کے ہاں لکڑی کی بڑی بڑی الماریاں (تونڑئی) ہوا کرتی تھیں۔ بس چھت سے لٹکتے الگنی پر رضائیاں ڈالتے تھے۔
جس وقت مَیں یہ سطور لکھ رہا ہوں ہمارے گاؤں میں شدید بارش ہورہی ہے اور بہت گہری تاریکی ہے۔ حالاں کہ سہ پہر کے تین بج کر ستاون منٹ ہیں۔ بجلی چلی گئی ہے اور مَیں نے ایمرجنسی لائٹ جلا لی ہے۔
سنا ہے کل آسمانی بجلی گرنے سے کئی مویشی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس وقت بارش کی ایک اور بات یاد آگئی۔ مَیں دوستوں کے ساتھ مینگورہ کے ایک مقامی ہوٹل میں بیٹھا گپ لگا رہا تھا۔ باتوں میں وقت گزرنے کا احساس نہ رہا۔ ہم کب کا کھانا کھاچکے تھے۔ ہوٹل کا منیجر بھی ہمارے ساتھ بیٹا تھا۔ ایک ساتھی نے گھڑی دیکھی اور چلا کر کہا: ’’گدھو! اس وقت تو بارہ بج گئے ہیں۔‘‘
اُس وقت ہمارے پاس کوئی ’’کنوینس‘‘ بھی نہیں تھی۔ منیجر کی گاڑی بھی کوئی دوست لے گیا تھا اور بارش زور و شور سے ہو رہی تھی۔ منیجر نے مجھے بتایا کہ ایک جرمن شہری ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہے۔ اُس کے پاس گاڑی ہے، مگر اُس کو جگائے گا کون…… اورکیا وہ جاگنے کے بعد تیار بھی ہوگا کہ تم لوگوں کو سیدو پہنچا دے……؟
مَیں نے کہا، مَیں اُس کو جگاتا ہوں۔ مَیں اُس سے ایک روز پہلے مل چکا تھا۔ وہ ہمارے افسر آباد والے بنگلے آیا تھا، اور میرے بھائی سلطان محمود سے کسی مسئلے کے بارے میں مل چکا تھا۔
بہ ہر حال مَیں نے اُسے نیند سے جگایا۔ جب مَیں نے اُس کو اپنی مشکل بتائی، تو وہ ایک لفظ بولے بغیر ہمیں اپنی مرسیڑیز گاڑی میں بٹھا کر سیدو شریف لے گیا۔
اُس روز میں نے تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا، جو کار سے اُترتے وقت بھیگ چکا تھا۔ جب مَیں اپنے کمرے میں آیا، تو میری بیوی جاگ رہی تھی۔ اُس نیک بخت نے سوٹ اُتارنے میں میری مدد کی۔ ساتھ ہی میرے دوستوں کو صلواتیں سنا رہی تھی کہ اُن کمینوں نے اس کے سیدھے سادھے شوہر کو گم راہ کردیا ہے۔
وس دی یادونہ افسانے خکاری

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔