
قارئین کرام! گذشتہ روز کچھ اخبارات میں خبر آئی کہ واپڈا نے اس عید پر اپنے تمام ملازمین کے لیے ایک ماہ کی اضافی تنخواہ بونس میں دینے کا اعلان کیا ہے۔
اب یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ تنخواہ کس خدمات کی مد میں دی جا رہی ہے؟ کیوں کہ میرے خیال میں تو بجلی نہ ہونے کی صورت میں اور عوام کی بہتر خدمت نہ کرنے کی صورت میں واپڈا ملازمین کی شاید آدھی سے زیادہ ڈیوٹی کم ہوئی ہوگی، تو اضافی تنخواہ کس بات کی؟ میری رائے ہے کہ یہ بونس اس عید پر عوام کودینا چاہیے کہ واپڈا نے اس مقدس مہینے میں سخت گرمی میں روزہ داروں کو اذیت ناک سزا جو دی ہے اور عوام کا جینا جو حرام کیا ہے۔ اس لیے عوام کا حق بنتا ہے کہ واپڈا اس ماہ کا بل عوام کو معاف کردے۔ واپڈا والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ناکامیوں پر قوم سے معافی مانگیں۔
قارئین کرام! عوام کا تو واپڈاوالوں نے بیڑہ غرق کردیا ہے، عوام کی تو میرے خیال سے کئی سالوں سے عیدیں پھیکی چلی آ رہی ہیں۔ کیوں کہ وطنِ عزیز کے زیادہ تر لوگوں کے کاروبار کا دارو مدار بجلی پر ہے اور بجلی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیوں کہ اگر چوبیس گھنٹوں میں شہری علاقوں میں بھی نو ،دس گھنٹے بجلی ہوتی ہے، تو وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک دو گھنٹے بعد اگر ایک گھنٹے کے لیے بجلی آتی بھی ہے، تو اس ایک گھنٹے میں دو تین بار بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہتی ہے۔
دوسری طرف واپڈا کے نااہل ملازمین کی وجہ سے لوگوں کی الیکٹرانک اشیا بھی بے کار ہوتی جا رہی ہیں۔گویا واپڈا والوں نے عوام کو اذیت میں مبتلا کرکے رکھ دیا ہے۔اس صورتحال میں خاک عوام کا کاروبار ہوگا۔ جب شہری علاقہ کا یہ حال ہے تو دیہی علاقوں کا تو اللہ ہی حافظ!
جہاں سخت گرمی میں بجلی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، وہاں عوام کو لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ امیر تو امیر ہیں، انہیں ویسے بھی کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر غریب دن بھر سخت مشقت کے بعد رات کو پانی کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا تے ہیں۔ چوں کہ بجلی ہوگی، تو ٹیوب ویل پانی دے گا اور عوام کو زندگی کی اہم ضرورت پانی جیسی عظیم نعمت نصیب ہوگی ۔
اس طرح واپڈا نے عوام کو امتیازی بنیادوں پر تقسیم کیا ہے، جہاں پروی آئی پی لوگ ہوں، تو وہاں لوڈشیڈنگ کم اور جہاں پوچھنے والا کوئی نہ ہو، تو وہاں اپنی مرضی کی لوڈشیڈنگ۔
یہ اعتراضات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں کہ جس علاقے سے لوگ احتجاج پر مجبور ہوتے ہیں اور احتجاج کر نے پر اتر آتے ہیں، تو اس علاقہ کے لوگوں سے واپڈا والے انتقام پر اتر آتے ہیں۔ عوام واپڈاکی وجہ سے مصیبتو ں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ بسا اوقات سخت ترین احتجاج پر جاکر ختم ہوتا ہے اور عوام اپنی ملک کی قیمتی املاک نذرِ آتش کردیتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ اب واپڈا کی نجکاری کر دی جائے۔