ساجد علی ابوتلتانکالم

د سین پہ غاڑہ تگے

خیرالحکیم حکیم زئ متعدد مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کتب کا خالق ہے۔ زیرِتبصرہ کتاب ’’د سین پہ غاڑہ تگے‘‘ ان کا ناول ہے، جس کی اشاعت پہلی بار ۱۹۸۷ء کو ہوئی تھی جب کہ یہ دوسری بار 2016ء میں شائع ہوئی۔ذیل میں اس کا فکری جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔
قارئین! انگریزی لفظ ’’ناولٹی‘‘ سے مراد انوکھاپن یا نیا پن ہے۔لہٰذا ناول کے معنی کسی نئی یا انو کھی بات کے ہیں، جس میں مصنف اپنے نقطۂ نظر کو مختلف حالات و واقعات کی ایک دلچسپ ترتیب اور ادا سے کسی بیان، قصے یا کہانی کی صورت میں پیش کرتا ہے۔انسانی معاشرے سے متعلق یہ کہانی سبق آموز ہی نہیں بلکہ دلچسپ بھی ہوتی ہے۔
ناول افسانوی ادب میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اور دنیا کی اکثر زبانیں ناول سے روشناس ہوئی ہیں۔ گرچہ پشتو زبان و ادب بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں اس سے آشنا ہوئی تھی۔ پھر بھی اس میں متعدد قصے، ناول کی شکل میں ملتے ہیں۔ ناول نگاروں کی اس فہرست میں چند نام سوات کے بھی شامل ہیں، جن میں ایک نام وکیل حکیم زئی کا بھی ہے۔ ایک دیہاتی کہانی پر مبنی آپ کے اس ناول کے فکر و فن پر ڈاکٹر فیر وز شاہ اور ڈاکٹرمحمد زبیر حسرت نے سیر حا صل گفتگو کی ہے۔لہٰذا راقم ایک اور زاوےۂ نگاہ سے ناول کو زیر بحث لانا چاہتا ہے ۔
ناول کی کہانی کی مدت سماجی سا خت کے لحاظ سے بیسویں صدی کے پچاس سے نویں تک کے عشروں کی معلوم ہوتی ہے۔ جب جاگیردارانہ نظام کے بو ڑھے درخت کی مضبوط شاخیں ٹوٹنے پھوٹنے کو تھیں اور سرمایہ دارانہ نظام کے پودے نئی نئی کونپلیں اور پتیاںں نکال رہے تھے۔ اسی پس منظر میں مصنف کا گہرا احساس، جوان سوچ اور تنقید ی شعور ایک ساتھ بیدار ہوتے ہیں، جس سے وہ طبقاتی نظام میں پھنسے ہوئے ایک خاندان کی بے بسی کو کہانی کی لڑی میں پروتے ہیں، جو اپنی نو عیت کے اعتبار سے کسی بھی گاؤں کی عکا سی کر سکتی ہے۔ اس طرح ناول کا زمانہ غلہ اور اشیائے خور و نوش کی قیمت، جائیداد کی خرید و فروخت، نئی طرزِ تعمیر، خلیجی ممالک میں محنت مزدوری، کرایہ، دہاڑی اور مشینی آلات کی طرف بڑھتے ہوئے رجحانات جیسے عوامل سے عبوری دور کا آغاز معلوم ہوتا ہے۔ یعنی سرمایہ دارانہ نظام شروع ہوا ہے اور جاگیرداری کے اوزار بوڑھے ہو رہے ہیں، جس نے پرانے طور طریقوں کو بڑی حد تک متاثر کیا ہواہے۔
قصہ دراصل احمدآباد (ہندوستان) سے واپس آئے ہوئے ایک پشتون تور خان سے شروع ہوتا ہے، جو مجبوری کے عالم میں ایک خان کا نوکر بنتا ہے۔ ایک بیوہ سے شادی کر لیتا ہے، جو تین بچو ں کی ماں بن جاتی ہے۔ ان میں سب سے بڑا بیٹا نا مدار اس کہانی کا ہیرو ہوتا ہے۔ پوری کہانی اس کے گرد گھومتی ہے۔ وہ بچپن سے سخت مزدوری کا عادی ہوتا ہے۔جوانی میں ایک خوبرو دو شیزہ ’’شیرنئی‘‘ کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ان کی منگنی بھی ہو جاتی ہے،لیکن محنت مزدوری کرنے سے نہ تو ان کے مسائل حل ہوتے ہیں اور نہ شیرنئی سے شادی ہی ہو پاتی ہے۔ نا مدار مجبوراً کراچی چلا جاتا ہے۔
ناول کا مرکزی خیال ترقی پسند سوچ کی غمازی کرتا ہے،جس میں ایک مزدور یا کسان تو سال بر مزدوری کرتا ہے، پر اس کا ثمر نہیں ملتا، جب کہ اس کے ہر ارمان کا خون ہوجاتا ہے اور ہر امید خاک میں جاتی ہے۔
اس ناول سے کئی سماجی پہلو نمودار ہوتے ہیں، مثلاً ایک جاگیر دار کم جائیداد والے پشتونوں اور سیرئی رکھنے والے ستانہ داروں کی زمین ہتھیا لینے کے لیے کون کون سے حربے استعمال کرتا ہے۔ ایک ڈاکٹر اور اُس کا عملہ غریب مریضوں کا حشر کیسے کرتے ہیں؟خود غرض اور عیار لوگ کتنی چالاکی سے اپنے غریب بھائی کو طاقت ورکے پیروں میں گراتے ہیں اور طاقت ور کو خوش کرکے اپنا مطلب نکالتے ہیں۔ کس طرح ایک سود خور دولت کے ہوس میں غریب کسان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر اُس کا گھر گروی رکھتا ہے، پھر اپنی مرضی سے اُس کی کتنی قیمت لگاتاہے، جس کی وجہ سے امیر و غریب کے درمیان طبقاتی خلیج بڑھتی ہے جسے پاٹنے کے لیے غریب کو بہت جتن کرنا پڑتے ہیں۔ پر کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔ لامحالہ غریبوں میں جانور چوری کرنے اور دوسرے کی فصلیں کاٹنے کی عادات پیدا ہوتی ہیں۔ کہانی کا یہ پہلو طبقاتی شعور بیدار کرتا ہے۔
ایک طرح سے سماجی شعور بھی اس ناول کا خاصا ہے، جیسے ایک پڑوسی کاایک پڑوسی کو قرض دینا، مریض کو ہسپتال لے جانے میں مدد فراہم کرنا، مریض کی دیکھ بھال اور عیادت کرنا اور دکھ درد میں ایک دوسرے کے کام آنا وغیرہ۔
ناول میں پشتون معاشرے کی نفسیات بھی ملتی ہیں، جیسے اپنے وطن سے والہانہ محبت رکھنے کی وجہ سے ایک شخص کا پردیس چھوڑ کر اپنے وطن واپس آنا، کم عمری کی شادی کا رواج، ایک نوجوان کا منگنی کے دوران میں شرمانا، قسمت اور مہنگائی سے فریاد کرنا، خط اور تحفے تحائف ملنے پر خو شی محسوس کرنا، ماضی کی یادوں میں کھو جانا، جوانی میں محبت کی شدت۔ اس طرح ناول میں پشتو ن معاشرے کا ثقافتی رنگ بھی جھلکتا ہے۔مثلاً پشتونوں میں حجرے اور جرگے کا رواج، سوال جواب پہنچانے کے لیے ایک مخصوص شخص کا ہونا، مریض کی عیادت کے لیے مرغی اور دیسی گھی لے جانا، چادر یا تھیلی میں کپڑے یا ضرور ت کا دیگر سامان باندھ کر پردیس روانہ ہونا، خواتین کا بستر سینا اور چھلنی و چھاج کے ذریعے غلہ صاف کرنا، سیلائی و کڑائی کا کام کرنا، مردوں کی باغبانی، زمین داری کے طور طریقے اور دیہاتی ماحول سے متعلق تمام کام مقامی ثقافت کی تاریخی نشانی ہے۔ نکاح میں شکرانے کے طور پر پانچ دڑی مکئی لینا، ملا، مسجد اور نمازکے ذکر سے لوگوں کے مذہبی رجحانات کا اندازہ ہوتاہے، جو معاشرتی زندگی پر مذہب کے گہرے اثر کو ظاہر کرتے ہیں۔
ناول کی رومانیت بھی قابل تعریف ہے جس میں نا مدار اور شیرنئی ایک دوسرے کی مفارقت میں انگاروں پر لو ٹتے ہیں۔ ہر چند دونوں کی کئی بار خوش گواراور رنگین ملا قاتیں بھی ہوتی ہیں، لیکن پشتون معاشرے میں شادی سے پہلے ایسی ملاقاتیں (خاص کر رات کو چپکے سے ملنا) معیوب تصور کی جاتی ہیں اور اس کا امکان بھی بہت کم ہوتا ہے۔ بہر کیف یہی رومانیت کہانی کا حسن ہے اور انسانی جبلت بھی۔
ناول میں روزمرہ، محاورہ اور ضرب المثل کا بہترین استعمال ہواہے۔ محاورے نے اگر کلام کے حُسن کو دوبلا کیا ہے، تو ضرب المثل نے بیان کو علمیت کے رنگ میں رنگا ہے۔ اس طرح ناول میں کہیں کہیں طنز کی چوٹ اور مزاح کے شگو فے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مثلاً ’’پاکستانے لیڈردرنہ جو ڑ شوے دے پہ میاشتو پہ نظر نہ رازے۔‘‘
غرض یہ کہ ترقی پسند سوچ رکھنے والے مصنف نے معاشرے کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا ہے، جس کے بل پر وہ سماجی زندگی میں ناانصافی، ظلم اور حق تلفی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی سماجی نظام میں منفی کرداروں کے رویوں اور ناروا سلوک کا نقشہ بھی کھینچتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اُس پر اخلاقی شعور کی گیرائی سے انقلابی ملمع بھی چڑھاتے ہیں، جس سے ترقی پسندی کا اصل شعور ظاہر ہوتا ہے اور قاری ایک دیہاتی کہانی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خاص نتیجے پر پہنچے کی کو شش کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں