
وکیل حکیم زئی متعدد تخلیقی آثار کے خالق ہیں، جن میں سے بعض زیور طبع سے آراستہ ہوچکے ہیں۔ ’’د پختومحاورے‘‘ ان آثار میں سے ایک ہے۔ اس کا تیسرا ایڈیشن فضل ربی راہیؔ نے 2011ء میں شائع کیا ہے۔ جب کہ1994ء اور2005ء میں یہ کتاب پہلے شائع ہوئی تھی۔ 652 عدد پشتومحاوروں پر مشتمل 160 صفحات کی اس گراں قدر کتاب کی جلد دلچسپ ہے۔ پشت پر معروف سینئر صحافی اور ادیب فضل ربی راہیؔ کا محقق کے بارے میں مختصر تبصرہ درج ہے جب کہ آغاز میں مصنف نے محاورے کی وضاحت اور اس پر کتاب لکھنے کا مقصد بیان کیا ہے۔ نیز حروف تہجی کی ترتیب سے لکھا گیا یہ مجموعہ سوات کے مشہور مجاہد سعداللہ خان عرف سرتور فقیر کے نام سے منسوب ہے۔
قارئین، عربی زبان کالفظ محاورہ ہم کلامی، مکالمہ، مہارت، روانی، رواج، عادت اور مشق جیسے معنی رکھنے کے ساتھ ساتھ مخصوص معنی میں یا بلاتغیر اسی ترکیب کے ساتھ اہلِ زبان میں مستعمل ہو۔ مصنف نے اپنی وضاحت میں اس کی تعریف یوں کی ہے کہ ’’محاورہ چند خوش گوار الفاظ کی ایسی ترتیب اور ترکیب ہے جو اصلی معنوں کی بجائے مستعار مطلب کو بڑے مہذب اور مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ وہ مزید فرماتے ہیں، محاورہ پشتومتل کی طرح فوکلوری ادب کاوہ حصہ ہے جس کا خالق کوئی ایک فرد نہیں بلکہ پورامعاشرہ ہے۔
محاورے کے تہذیبی ارتقا کی بابت مؤلف فرماتے ہیں، تہذیبی ارتقا کے ساتھ ساتھ پشتو زبان و ادب کادامن وسیع اور مہذب ہوگیا ہے۔ متل (کہاوت) اور بہترین اصطلاحات اس میں سما گئے ہیں۔ یہ سب کچھ اس طرح ہوا کہ جب لوگوں نے بہتر مستقبل کی خاطر زندگی کے واقعات، حادثات اور تجربات سے نتائج اخذ کرنا شروع کیا، تو متل وجود میں آگیا، جوعقلِ سلیم اور علم الوجوہ کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید برآں بہتر پیغام رسانی کے لیے جب میٹھے، نرم، جامع، مختصر اور پُرتاثیر جملوں کی ضرورت پیش آئی، تو محاورے نے آنکھ کھولی، جو تہذیبی معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس کتاب میں فوکلوری ادب کے اہم جز محاورہ کو محققانہ انداز میں جمع کیا گیا ہے۔ ہر محاورے کا مطلب آسان پیرائے میں بیان کیا گیا ہے اور پشتون معاشرے کی تاریخ، سماج، اقدار، روایات، سیاسیات، ثقافت اور پشتونولی کو تحقیقی علم کی رو سے اجا گر کیا ہے، جو پشتوزبان میں محاورے کے استعمال کا آئینہ دار ہے اور جو صحیح معنوں میں پشتون معاشرے کی تصویر ہے۔
پشتو محاوروں کی یہ کتاب معاشرے کی اصلاحی کاوشوں کی علمبردار بھی ہے۔ مثلاً محاورہ ’’اوگہ کوزول‘‘ انسانی اقدار کی بہترین مثال ہے۔ ’’پہ کٹ تڑل‘‘ طبقاتی شعورکی طرف اشارہ ہے۔ ’’ارمان ریجول‘‘ قومی شعور کا ظہور ہے۔ غور کیا جائے، تو یہ کتاب علمی شعور بھی بیدار کرتی ہے، مثلاً محاورے کی اہمیت، خوبی اور تاریخ کے بارے میں پڑھ کر ہم نہ صرف پشتوادب کی ایک فوکلوری صنف سے آگاہ ہوتے ہیں، بلکہ پشتونولی کی اعلیٰ اقدار سے بھی روشناس ہوجاتے ہیں۔
اس طرح یہ کتاب پشتون معاشرے کے رویوں کا ترجمان بھی ہے، مثلاً ’’پہ زڑہ گٹے اڑول‘‘ اور ’’پہ چا وچ نہ خوڑل۔‘‘نفسیاتی حوالے سے ’’اخ سڑول‘‘ اور ’’زڑہ تشول‘‘ پشتون نفسیات کا اظہار ہیں۔ اسی طرح ’’ژبہ کول‘‘ اور ’’د خولے نوڑی نیمول‘‘ پشتونولی کے رنگ میں رنگ ہیں۔
کتاب کے تمام محاوروں کے معنی درست ہیں اور ان کااستعمال بھی مؤثر اور برجستہ انداز میں کیا گیا ہے، جس سے محقق کا علمی مقام، سیاسی و سماجی تجربہ اور ادبی ذوق کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
ایک محاورہ ’’پہ خرہ سوریدل‘‘ مجازی معنوں کی جگہ اصل معنوں میں استعمال لیا گیا ہے۔ ایک اور جگہ محاورہ ’’پہ شونڈوژبہ وھل‘‘ پریشانی اور تکلیف کے معنی میں استعمال ہواہے جب کہ مطلب اس کا جنسی ہوس کی طرف میلان ہونا ہے۔ محاورے ’’د ونڈئ غوری‘‘ اور ’’د وٹ کدوڑی‘‘ مصدری فعل کے بغیر لکھے گئے ہیں۔ ’’پہ ڈکہ منگولوتلل او پہ ڈکہ منگولو راتلل‘‘ سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ آیا یہ محاورہ ہے یا روزمرہ؟ پھر بھی ان چند محاوروں کی کوتاہی کتاب کی بہترین ترتیب اور علمی عظمت کو چنداں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اس طرح یہ کتاب محقق کی زندگی کامرقع ہی نہیں بلکہ ان کی نظریاتی سوچ کی تصویر بھی ہے، جس میں قدم قدم پر محقق کی مدعا نگاری کی ہلکی سی جھلک بھی نظر آتی ہے۔
مزید برآں محاوروں کا استعمال عام فہم جملوں اور انداز میں کیا گیا ہے جس میں کرداروں کو عین ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں کی طرح اسم بامسمی ظاہر کیا گیا ہے، مثلاً ’’ناکامی خان‘‘ اور ’’دروند باچا‘‘ وغیرہ۔
قارئین، کتاب پر کئی حوالوں سے بحث ممکن ہے،لیکن یہاں سردست کالم کی تنگ دامنی آڑے آجاتی ہے۔ اگر چہ راقم کے لیے کسی منجھے ہوئے نقاد یاکسی ماہر دانشور کے مقابلے میں کتاب کا محاکمہ پیش کرنا مشکل ہے۔ پھر بھی اپنی کم فہمی کے باعث اتنا کہا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب پشتونوں کے معاشرتی رویوں کی ترجمان ہے جس کے ہر پہلو میں پشتونوں کی معاشرتی تہذیب اور نفسیات جھلکتی ہے۔ ساتھ ہی اس کتاب میں قومی، طبقاتی اور علمی شعور اور انسانی اقدار کی بہترین انداز میں عکس بندی کی گئی ہے۔ان تمام خوبیوں نے اس کتاب کو علمی اور تخلیقی مطالعے کے قابل بنایاہے۔ گویا یہ ایسی سوغات ہے جو چکنے میں مِٹھاس پیدا کرتی ہے اور سیر ہونے میں سماجی علم کے نشے کا سرور۔ جبھی تو یہ کتاب مقابلے کے امتحانات کے لیے سلیبس میں شامل ہوئی تھی۔
محترم فضل ربی راہیؔ صاحب اس کتاب کے متعلق بجا فرماتے ہیں: (ترجمہ) ’’1999ء کو موصوف کی ایک اور تحریر شدہ کتاب ’’پشتو محاورے‘‘ سامنے آئی جس نے پشتو ادب کے چمن کو اپنی مہک سے معطر کیا۔ اسی تحریر کو اہلِ علم حضرات نے خوش آمدید کہا۔‘‘