ساجد علی ابوتلتانکالم

گنا، گڑگھانی اور سوات 

پشتو کی مشہور مثل ہے ’’گڑ ہوگا، تو مکھیاں ضرور آئیں گی۔‘‘ مکھیاں کیوں نہیں آئیں گی؟ کیوں کہ گڑسے گڑاکو، گڑانبہ، گڑ پاپڑا،گڑدھانی اور شربت جو بنتے ہیں۔ یہ اس لیے بنتے ہیں کہ گڑ ہر بار میٹھا ہوتا ہے، جبھی تو کہتے ہیں کہ ’’گڑ نہ دے، مگر گڑ کی سی بات تو کرے۔‘‘
قارئین، یہ باتیں اور کہاوتیں اس لیے نہیں کہتا کہ اپنے والدِ مرحوم چالیس سال تک گڑ کے تاجر رہ چکے ہیں، بلکہ گڑ واقعی خوراکی مواد کا اہم جز ہے جس پر لکھنے کا قصد ایک عرصہ سے کر چکا تھا۔ پر وہ پشتو ہی میں کہتے ہیں کہ ’’گڑ کی رٹ لگانے سے منھ میٹھا نہیں ہوتا‘‘ یعنی باتوں سے کام نہیں چلتا، جب تک عمل نہ کیا جائے۔ پس موضوع کا گڑ لے کر گنا اور اس کی گھانی پر قلم اٹھاہی لیا۔
قارئین، ہندی زبان کا لفظ گھانی دومعنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک کا مطلب مقدار ہے، جس کی وضاحت مختلف چیزوں کی مقدار سے کی جاسکتی ہے۔ مثلاً تلنے کے لیے کڑاہی میں ڈالے جانے والی پکوان کی مقدار سے، کولھو یا چکی میں سے پیلنے کے لیے ایک دفعہ میں ڈالی جانے والی گندم، تل یا سرسوں کی مقدار سے،بھاڑ یا بھٹی میں بھوننے کے لیے ڈالے جانے والے چنوں کی مقدار سے اور مٹی کے گارے یا کاہ گل کی مقدار سے جسے ’’نغارہ‘‘ یا خندق میں گوندھنے کے بعد چھت، فرش یا دیوار پر لپائی، تھوپنے یا پلستر کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ نیز بجری اور ریت کی گھانی بھی مقدار کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے، جو کثرتِ استعمال کے باعث، گھان ڈالنا اور گھان اتارنا جیسے محاوروں کا حصہ بن چکی ہے۔
گھانی کادوسرا مطلب تیل پیلنے کی مشین، کولھو اور گنے کارس نکالنے کی مشین ہے جن سے تیل یا رس نکالنے کا محاورہ ’’گھانی کرنا‘‘ بنا ہے۔ تیل نکالنے کی گھانی فی الوقت ہمارا موضوع نہیں۔ اس لیے گڑ کی گھانی کا ذکر کیا جاتا ہے۔
گڑ کی گھانی دراصل گنے کہ وہ مشین تھی جو ایک سانڈ یا دوبیلوں کی مدد سے چلتی تھی۔ اپنے گاؤں کی گھانی کے متعلق سنا تھا کہ وہ سانڈ کی بجائے ایک بانجھ بھینس چلاتی تھی۔ خیر، اب تو جنریٹر نے جانوروں کی ساری جھنجھٹ دور کردی ہے۔ مشین میں تین متبادل گولے اور گراریاں لگی ہوتی ہیں جو ایک چرخ کے ذریعے گھومتی ہے، جس میں متواتر گنا ڈالنے سے رس نکلتا ہے۔ نکلا ہوا رس ایک پائپ میں چھان سے گزار کر لوہے کے ایک صندوق میں جمع ہوتا ہے۔ جب صندوق رس سے بھر جاتا ہے، تو گنے کا شیرہ ’’بمبو‘‘ کے ذریعے ایک کڑاہی میں ڈالاجاتا ہے جس کے نیچے سے مسلسل تین گھنٹوں تک آگ جلائی جاتی ہے۔ اب راب کو گڑ میں تبدیل ہونے کے لیے تین مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، یعنی شربت، چیڑ، شگہ۔ پہلے سوڈا ڈال کر رس کی صفائی کی جاتی ہے، ساتھ ہی گڑ پکنے کاعمل جاری رہتا ہے۔ دوڈھائی گھنٹے میں کچا گڑ تیار ہوجاتا ہے اور آخری آدھے گھنٹے میں مکمل پک جاتا ہے۔ پھر ایک بیلچہ نما چمچ کے ذریعے پکی مٹی کے برتن میں ڈال دیا جاتا ہے، جس سے گڑ کی ڈلیاں بنائی جاتی ہیں۔ ڈلیاں جب خوب سوکھ جائیں، تو اسے ایک صاف بیلچے کے ذریعے پٹ سن کی ایک بوری میں ڈالاجاتا ہے، جس میں 85 کلوگرام گڑ آتا ہے۔ اس موقع پر کہتے ہیں ’’گڑہ چی پخہ شی نو خوگہ شی۔‘‘
ایک گھانی دن میں پانچ گھان نکالتی ہے، جبھی تو کسان خوش ہوکر کہتے ہیں۔ آ ج راب کے پانچ گھان تیار ہوئے۔
قارئین، یہ سب تو اکبرعلی آبشار کے گاؤں تخت بھائی میں مشاہدہ کرنے سے یا سچ پوچھیں، تو ان سے زبانی سن کربیان کیا ہے۔ اب سوات میں گنے اور اس کی گھانی سے متعلق بات کرنا کچھ عجیب سا معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے کہ تاریخ کے کسی زمانے میں بھی یہاں گنے کی وافر مقدار میں کاشت کاری کا نشان نہیں ملتا۔ صرف چینی زائر ’’ہیون سانگ‘‘ ہی ایک ایسا شخص ہے جنہوں نے ساتویں صدی عیسوی میں یہاں گنے کی کم مقدار بیان کی ہے جب کہ بعد کے ادوار میں بھی یہ جنس کبھی پیداواری لحاظ سے اہم رہی اور نہ برآمدات میں کہیں اس کا ذکر ہی آیا ہے، لیکن ان سب باتوں کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ سوات میں گنے کی کاشت بالکل نہیں ہوتی تھی۔ تین چار دہائیاں پہلے ہی کی تو بات ہے کہ وتکے، سر سینی، تختہ بند، دنگرام، مینگورہ، تھانہ، بٹ خیلہ اور مٹہ وغیرہ میں نہ صرف گنے کی کاشت ہوتی تھی بلکہ دنگرام، وتکے، درش خیلہ اور بیجورہ وغیرہ میں تو گھانیاں بھی موجود تھیں، جہاں آس پاس کے گاوؤں سے زمین دار گنا لے آتے تھے، جس طرح برہ درش خیلہ میں میر باچا کی گھانی کو سمبٹ، بیدرہ اور کوزہ درش خیلہ سے گنا پہنچایا جاتا تھا۔ اس طرح اپنے گاؤں کے بعض ونڈوں پر گنا کاشت کیا جاتا تھا جس پر یہ گھانی چلتی تھی۔ لیکن گنا اور گھانی بعض وجوہ کی بنا پر سوات میں رواج نہ پاسکے۔ وجہ شاید سرد موسم، آب وہوا کی تبدیلی، ناموزون زمینی ساخت، وسیع زمینوں کی عدم دست یابی اور مقامی مٹی میں دیمک کی موجودگی تھی، یا پھر میوہ جات کی اور دوسری اجناس کی طرف عام میلانات گنے کی راہ میں حائل تھے؟ اس کے علاوہ گناکاشت کرنا سخت محنت طلب کام بھی ہے۔ کہتے ہیں کہ امریکہ کی بعض ریاستیں گنے کی کاشت کے لیے زیادہ موزوں ہیں، لیکن مقامی لوگ سخت محنت کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس لیے وہاں گنا کاشت نہیں کیا جاتا، یعنی گنے کی کاشت کے لیے پیداواری زمین کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ورنہ یہ ضروری نہیں کہ اشنغر کے دو آبے کی زمین اچھے گڑ کے لیے مشہور اور صرف وہاں گنا کاشت کیا جاسکتا ہے اور باقی جگہوں کو اس کی پیداوار سے محروم گردانا جاسکتا ہے۔بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں گنے کی پیداوار وافر مقدار میں تو ہوتی ہے، لیکن وہاں بہتر گڑ نہیں بنتا۔ پنجاب کی زمینوں کو ہی لیجیے، جہاں اچھا گڑ نہ سہی اچھی خاصی چینی تو پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا سوات میں اچھا گڑ نہ سہی، گنے کی پیداوار سے اچھی چینی تو بن سکتی ہے یا پھر چقندر جس کی پنیری کے لیے سوات کے بعض درے موسم اور آب و ہوا کے لحاظ سے بہت زیادہ موزوں ہیں، کو عام کیا جاسکتا ہے۔ چقندر کا تجربہ تو یہاں پہلے ہوچکا ہے۔ شور اور سخرہ کے دروں میں اس کی اچھی پیداوار ہوتی تھی۔ برہ درش خیلہ میں چقندر کا ایک بڑا سٹور تھا، جو پیداوار اور روزگار کے اعتبار سے ایک حد تک کامیاب تجربہ تھا، یعنی سوات کی زمین اس قسم کی فصلوں کے لیے موزوں ہے۔
یوں تو حکومت نے ہر میدان میں تبدیلی کے وعدے کیے ہیں۔ اللہ کرے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش بھی کرے۔ کوئی مشکل بھی نہیں۔ کیوں کہ زراعت کے وزیر جوسوات سے ہیں۔ وہ چاہیں، تو بھلا ہوسکتا ہے۔
قارئین، سوات میں ہر قسم کی گھانیوں کا زمانہ کب کا ختم ہوچکا ہے، لیکن درشخیلہ میں گنے کی گھانی کی طرح سوات کی تمام گھانیاں تاریخ کا حصہ ضرور بنیں گی۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں