کالم نگاری

ژوبل ارمانونہ (تبصرہ)

تصدیق اقبال بابو

✍️ کالم نگار: تصدیق اقبال بابو

اشتہار / Advertisement

میں نے کہیں پڑھ رکھا ہے کہ ’’جو شخص طبعِ موزوں رکھتا ہو اور شعر کہتا ہو، وہ شاعر ہے۔ چاہے وہ زندگی میں چند اشعار کہے یا صد ہزار۔‘‘ اسی بات کو رفعتؔ سلطان نے ذرا دوسرے تناظر میں یوں بیان کیا ہے، لکھتے ہیں:
وہ شاعر کبھی مر نہیں سکتا رفعتؔ
جس کا اِک شعر بھی شاہکار ہوا
شاعروں کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ کچھ پیدائشی شاعر ہوتے ہیں، تو کچھ حادثاتی اور اتفاقی۔ کسی کو عشق کا مرض شاعر بنادیتا ہے، تو کسی کو اندرونی اور بیرونی حوارث۔ حالیؔ نے شاعر کے لیے تین چیزوں کو لازمی قرار دیا ہے:
* مطالعہ۔
* مشاہدہ۔
* تفحص الفاظ۔
یہ موضوع مزید پھیلتا جائے گا۔ اس لیے ہم طوالت کے خوف سے اسے یہیں ختم کرکے اپنے آج کے ممدوح کی طرف بڑھتے ہیں۔ سمبٹ مٹہ کے حسین علی حسینؔ بھی انہی شاعروں میں سے ہیں جو حادثاتی طور پر شاعر بنے ہیں۔ سوات کے تباہ کن حالات نے وہاں کے باسیوں کو جہاں مختلف النوع پریشانیوں، ذہنی بیماریوں، مشکلات اور حوادث سے دوچار کیا ہے، وہاں حسین علی حسینؔ جیسے حساس اور زخمی لوگوں کو شاعر بھی بنا دیا ہے۔ اُن کے گھر میں شادی کی تقریب اُس وقت ماتم کدہ بن گئی، جب گھرپر اِک دندناتا مارٹر گولہ آ گرا جس میں دس افراد لقمۂ اجل بنے۔ ان شہدا میں اُن کے چچازاد بھائی فواد علی خان کے علاوہ گھر کی دیگر خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہی نہیں بلکہ ریاستی جبر، عدم مساوات، پختونوں کا استحصال، غربت، لاچارگی، بے روزگاری اور اسی نوع کے دیگر مسائل حسین علی حسینؔ کی شاعری کا مؤجب اور مأخذ بنے۔
آپ اِک خاندانی بندے ہیں۔ یوسف زئیوں کی امیر خان خیل نامی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایم اے پشتو کرنے کے بعد عملی سیاست میں آئے۔ تحصیل ناظم بنے۔ پھر عوامی نیشنل پارٹی کے تحصیل ناظم بنے۔ آج کل ضلعی معاون سیکرٹری کے عہدے پر اپنی سیاسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
بقول نذر محمد نذر:ؔ ’’حسینؔ پختونوں کے غم میں غلطاں اور امن کا خواہاں ہے، لیکن حالات کی بیڑیوں میں جکڑے اُس کے ’’ارمان ‘‘آج بھی زخمی زخمی اور کرچی کرچی ہیں۔‘‘
کتاب کے مقدمے میں پرویش شاہین نے حسین کی طنزیہ شاعری پہ بحث کی ہے۔ ڈاکٹر شیر زمان سیمابؔ نے اُن کی بھلے مانسی، انسان دوستی اور مہمان نوازی کا ذکر کیا ہے، تو بلبلِ سوات ظفر علی نازؔ نے حسین کی شاعرانہ اُپچ اور اُٹھان کو موضوعِ سخن بنایا ہے۔ جب کہ اُستاد محترم فضل محمد سواتی نے حسین کے درد اور سوز پہ حاشیہ کھینچا ہے۔ فلیپ پہ روغانےؔ بابا بھی موجود ہیں۔ ٹائٹل پہ خون آشام منظر اندر کی کہانی ظاہر کررہا ہے، جس کا لب لباب یہ ہے:
دے کے د پردو لاسونہ ہم بہ وو
ڈیر ہم دلالان پکے د کلی وو
جہاں تک میں نے کتاب کا مطالعہ کیا ہے، میں نے محسوس کیا ہے کہ حسین کے ہاں گہرے سماجی اور عمرانی شعور کی پرچھائیاں موجود ہیں۔ وہ سوات کی تباہی کے بعد کا تمام تر منظر نامہ شہر آشوب کی صورت ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ اُن کا یہ غم ذاتی بھی ہے اور کائناتی بھی۔ ظاہر سی بات ہے کہ انسان داخل کے ساتھ ساتھ خارج سے اثر لیتا ہے، لیکن کچھ اثر ایسا گہرا ہوتا ہے کہ وہ اس کی شخصیت پر بھر پور چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ حسینؔ بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ حسینؔ کی شاعری کا بیشتر حصہ اسی درد اور کرب میں لتھڑا نظر آتا ہے، لکھتے ہیں:
واچوم نظر کہ پہ دنیا باندے
سترگے می خوگے نہ شی پہ چا باندے
را دے نہ شی ھغہ وخت حسینہؔ بیا
کوم چی وو راغلے پختونخوا باندے
حسینؔ کی شاعری ’’حسینی‘‘ شاعری ہے، جو آج کے یزیدوں کے لیے تازیانہ ہے۔ اس میں زمینی حقائق، ظلم، جبر اورناانصافی کے قصے ہیں۔ یہ ہر اُس شخص کے دل پر لگتی ہے، جس نے یہ ظلم اور جبر قریب سے دیکھا ہو۔ یہ ہر سواتی کی آواز ہے۔ ہر پختون کی آواز ہے، جو ظلم و جبر کے ہاتھوں کبھی مذہبی شدت پسندی کا شکار ہوا، تو کبھی ریاستی جبر کے ہاتھوں بوٹوں تلے روندا گیا، لکھتے ہیں:
راغلو د بل زائے نہ چی دیرہ شولو
دغہ یو میلمہ راتہ کوربہ شولو
دوئی نہ خپل تپوس کولے نہ شو مونگ
اے حسینہ! زائے پہ زائے میشتہ شولو
مزید لکھتے ہیں:
داسے حکمونہ تل پہ ماکوی دوئی
لکہ غلام اے اغستلے یمہ
جن کی آزادی سلب ہوجائے، جن کو اُن کی گلی میں روک کے پوچھا جائے ’’کون ہو، کہاں سے آئے ہو اور کہا جارہے ہو؟ ‘‘ جن کی چادر اور چاردیواری محفوظ نہ ہو، جو رات کو بھی چوروں سے محفوظ نہ ہوں، وہ یہ نہ لکھے، تو کیا کرے؟
لکہ سوارہ چی راپسے وی خلقہ
داسے زمونگہ ورزے شپے وی خلقہ
دلتہ دِ ورزے ہم پہ ویرہ گرزو
د شپے یو ہم دا شو گرے وی خلقہ
حسینؔ کے ہاں مزاحمتی رنگ اپنے جو بن پہ دکھائی دیتا ہے۔ اُن کے ہاں زیادہ تر غزلیں، غزلِ مسلسل یا نظم نما غزلیں ہیں، جو ایک ہی موضوع کا احاطہ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان میں داخلیت بھی ہے اور خارجیت بھی۔ ان میں سوز، درد اور آہ کی اِک فضا موجود ہے۔ اسی جذباتی رو میں وہ کہیں کہیں غیر مروجہ بحور اور سکتے کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ فنی سقم مشاہدے، مطالعے اور اساتذہ کی بیٹھکوں سے دور ہوسکتا ہے۔ بہر کیف، جو چیز سب سے اچھی ہے وہ جذبہ، شدت اور خیال کی پختگی ہے، جس میں طرزِ بیاں سادہ، رواں اور عام فہم ہے۔ اس میں (میری طرح) کوئی لفظی مینا کاری، ملمع کاری یا رنگینیِ بیاں نہیں بلکہ سادگی، سلاست اور روانی موجود ہے۔ اُس میں استادانہ فن نہ سہی لیکن اُس کی سیاسی بصیرت اُسے خالص ترقی پسند خیالات کی طرف لاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کی شخصیت اور فن میں کوئی نفاق اور تضاد نہیں۔ اُس نے جو دیکھا، جو محسوس کیا اُسے بلا کم و کاست شعر کا جامہ پہنایا۔ لکھتے ہیں:
ٹول خلق پہ امن باندے ژوند کوی
ستڑے دے پختون کڑو پہ حملو باندے
اے حسینہؔ ! دلتہ امن نشتہ دے
سہ اوکڑم پہ داسے پسرلو باندے
حسینؔ نے تصوراتی دنیا میں رہنے کی بجائے اپنے ارد گرد کے عصری حالات، معاشرتی مسائل اور ریاستی جبر کا خوب احاطہ کیا ہے۔ مستقبل کے محقق کے لیے ’’ژوبل ارمانونہ‘‘ اِک بنیادی مأخذ کا کام کرے گی۔
دعا ہے اُن کا قلم اسی طرح سچ اُگلتا رہے۔، آمین!
دا خو د قیامت نہ کمہ ہم نہ وہ
کومہ چی وہ دلتہ پختنو باندے
واڑہ پختنے بے سترہ شوی وے
منڈے ئے وہلے سرو غرمو باندے

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔