
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دورِ خلافت میں بد امنی، فتنہ و فساد اور جنگ و جدل کا دور دورہ تھا۔ ایک دن کسی نے آپؓ سے دریافت کیا کہ حضرت، آپ سے پہلے حضرت فاروقِ اعظمؓ اور حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں امن و امان تھا اور آپ کے دور میں فساد اور آپس کے جنگ و جدل سے امن و امان کی صورتِ حال نہایت ابتر ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت علیؓ نے جواب میں فرمایا کہ ’’حضرتِ عمرؓ اور حضرتِ عثمانؓ کے مشیر اور وزیر ہم تھے، اور ہمارے وزیر و مشیر تم ہو۔ اس وجہ سے یہاں فتنہ و فساد برپا ہے۔‘‘
اس حقیقت افروز قول کا اطلاق ہر دور اور ہر حکومت پر منطبق ہوتا ہے۔ حکومت و سیاست اور قیادت و رہنمائی ایک انتہائی اہم اور مشکل فریضہ ہے۔یہ بارِ گراں جس کے کندھوں پر لاد دیا جاتا ہے، تو ہر ذمہ دار اور صاحبِ احساس شخص اس کی گراں باری، مشکلات، پیچیدگیوں اور حساسیت کو محسوس کرتا ہے۔ ایسا شخص اگر اللہ تبارک و تعالیٰ پر ایمانِ کامل اور روزِ قیامت اس کے سامنے جواب دہی پر یقین رکھتا ہو، تو اس کا پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ اپنی مدد و معاونت اور مشاورت کے لیے اہل، مخلص اور متقی افراد کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تلاش کرتا ہے۔ مختلف ذمہ داریوں اور مناصب پر ان کو متعین کرتا ہے۔ حکمران کی نیک نیتی، اخلاص اور اہلیت کا ثبوت اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کس قسم کے لوگوں کو اپنا وزیر مشیر مقرر کرتا ہے؟ پاکستان بائیس کروڑ آبادی والا ملک ہے۔ اس میں ہر شعبے اور ہر ادارے میں با صلاحیت اور مخلص افراد موجود ہیں، لیکن جو ماحول بن چکا ہے اور جو نظام اور سسٹم لاگو ہے، وہ اس بارے میں بہت بڑی رکاؤٹ ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں پارٹی سسٹم ہے اور اس پارٹی سسٹم میں افراد کی شمولیت کا کوئی معیار اس کے علاوہ نہیں کہ وہ انتخابات میں ووٹ حاصل کرکے پارلیمان کا رُکن منتخب ہو جائے۔ منتخب ہونے کے بعد اس بات کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی کہ یہ منتخب شدہ فرد دیانت دار، امانت دار اور مخلص و اہل بھی ہے کہ نہیں؟ اس لیے کہ انتخابات میں حصہ لینے کی غرض سے امیدوار کے لیے اہلیت کی جو شرائط آئینی و دستوری طور پر طے کی گئی ہیں، ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور نتیجے میں بااثر جاگیر دار، سرمایہ دار اپنے سرمائے اور اثر و رسوخ کے ذریعے عوامی رائے لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس کے لیے یہ شرط بھی نہیں لگائی گئی کہ ٹرن آؤٹ کتنی ہے؟ حلقے میں انتخابی فہرستوں میں درج شدہ ووٹروں کی تعداد کتنی ہے، کتنے ووٹ استعمال ہوئے، ایک حلقے میں کتنے امید وار کھڑے ہیں اور کس نے کتنے ووٹ حاصل کیے؟ اکثر واقعات میں ٹرن آؤٹ شرمناک حد تک کم اور امیدوار انتہائی کم ووٹوں سے منتخب قرار پاتا ہے۔ ایسے میں سارا نظام شروع ہی سے متاثر ہوتا ہے۔
بد قسمتی سے ہمیں انگریزوں کی غلامی کے نتیجے میں برطانوی پارلیمانی سسٹم میراث میں منتقل ہوا ہے۔ جس کی خوبیوں، خرابیوں کا ہم نے کبھی سنجیدہ جائزہ نہیں لیا۔ یہ پارلیمانی نظام برطانوی نو آبادیوں کے علاوہ کسی اور جمہوری ملک میں موجود نہیں۔ ہر ملک نے اپنے حالات کے مطابق اپنے لیے عوامی نمائندگی کا نظام تشکیل دیا ہے۔ 71 سال میں زیادہ عرصہ تو ہم نے فوجی آمریتوں کے تحت گزارا ہے اور باقی عرصے میں ہم برطانوی پارلیمانی نظام کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں، جس کے اندر برطانیہ میں رائج جمہوریت کی تو ایک خوبی بھی موجود نہیں، لیکن خرابیاں کچھ اس نظام کی اور زیادہ تر ہماری اپنی کمزوریوں کی وجہ سے بہت زیادہ ہیں۔ اس نظام میں ممبروں کی پیسوں، روپوں اور مراعات کے ذریعے خرید و فروخت عام ہے، جس کو عرفِ عام میں ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ رشوت کے طور پر ممبروں کو ترقیاتی فنڈز دیے جاتے ہیں اور وہ باقاعدہ طور پر ان کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔ وزارت کے لیے ممبر ہونا شرط ہے۔ اہلیت اور دیانت کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔ پارٹی میں ہر وقت ہلچل مچی رہتی ہے، جن کو وزارت ملتی ہے، وہ اچھی وزارت کے لیے ناراض ہیں اور جن کو وزارت نہیں ملتی، وہ وزارت نہ ملنے پر ناراض ہیں۔ پارٹی سربراہ کے سامنے بھی اپنی وزارت کے بچاؤ اور مستحکم رکھنے کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں ہوتا۔ وہ جائز و ناجائز مطالبے اور ڈیمانڈ کو بھی اسی نقطۂ نظر سے منظور کرتا ہے اور پارٹی ممبران کی خوشنودی کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہے۔ زیادہ تر وزرا کو اپنی وزارتوں کے امور و معاملات سے اس کے سوا کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ کون سے سودے اور معاہدے میں کتنا کمیشن ملنے کا امکان ہے؟ باقی ملکی اور قومی امور ان کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے۔ آپ نے اخباروں میں پڑھا ہوگا کہ امریکہ میں صدر کی کابینہ کے ایک ایک وزیر کو سینٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑتا ہے اور مختلف سوالات اور انٹرویوز کے ذریعے اس کی صلاحیت و اہلیت جانچی جاتی ہے۔ ایران کی انقلابی حکومت نے اپنے ملک کے ماحول و حالات کے مطابق عوامی نمائندگی کا ایک نظام بغیر کسی نقل کے وضع کیا ہے اور وہاں پر بھی کابینہ کے ارکان پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہو کر اپنی اہلیت ثابت کرتے ہیں اور اپنی وزارت کے امور و معاملات پر اپنی مہارت ثابت کرتے ہیں۔ بہت سارے ملکوں میں انتخابی امیدواروں کے لیے اہلیت کی شرائط سختی سے نافذ ہیں اور کوئی امیدوار بھی اس کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ زیادہ تر ملکوں میں متناسب نمائندگی کا نظام رائج ہے، جس میں عوام پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں اور پارٹی سربراہ اہلیت و دیانت کی بنیاد پر اپنی ٹیم کا انتخاب کرتا ہے۔ اس پر کوئی دباؤ نہیں ہوتا۔ منتخب ہونے کے لیے انتخابی قوانین میں ووٹوں کی شرح مقرر ہوتی ہے۔ اگر کسی پارٹی نے مقررہ شرح سے کم ووٹ لیے، تو وہ سیاست سے خارج ہو جاتی ہے۔ اب ان تمام امور کو مد نظر رکھ کر جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں، تو یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ نواز، زرداری اور عمران سب کا طریقۂ واردات ایک ہے۔ مزاجوں کے اختلاف کا فرق ہو سکتا ہے، لیکن طریقہ تقریباً یکساں اور ایک جیسا ہے۔ شخصی طور پر یہ بوسیدہ ازکار رفتہ ہزار خرابیوں سے بھر پور یہ پارلیمانی نظا م ان کو سوٹ کرتا ہے۔ کیوں کہ اس نظام میں ان کے لیے ہر قسم کی دھاندلی، ہیرا پھیری اور کرپشن کے تمام دروازے چوپٹ کھلے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے اور بنیادی خرابی تو خود ان کی ذات میں یہ ہوتی ہے کہ اقتدار تک پہنچنے کی ان کی خواہش جنون کے درجے میں ہوتی ہے۔ اقتدار اور اختیار ہی ان کے لیے سب کچھ ہوتا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، بلکہ ہر شخص اقتدار کے حصول کے لیے ان کے جنون کو دیکھ چکا ہے۔
ہم عمران خان کو اس لحاظ سے فوکس کرتے ہیں کہ یہ اس وقت اقتدار میں ہے۔ ان کا انتخابات سے پہلے احتجاجی انداز، انتظامیہ کو مفلوج اور بے بس کرکے اپنے مطالبات کو منوانا کوئی دور کی بات نہیں۔ انتخابات کے دوران میں وعدے، دعوے اور اعلانات اب بھی فضا میں گونج رہے ہیں۔ ایک ایک کرپٹ، پارٹیاں بدلنے والے اور آمروں کا ساتھ دینے والوں کا نام لے لے کر ان پر لعنت ملامت کرنے اور ان سے برات کا اظہار لوگوں کو بہت متاثر کرتا تھا۔ یورپی فلاحی مملکتوں کے وزرائے اعظم کی سادگی کی باتیں،کرپشن اور بد عنوانی ختم کرنے کے دعوے، معاشی مسائل کے بہترین حل پیش کرنے سے لے کر تمام ملک اور قوم میں تبدیلی اور ترقی کے دعوے پرانی باتیں نہیں، لیکن جب بر سرِ اقتدار آگئے، تو وہی بات کہ ’’دروغ گورا حافظہ نبا شد!‘‘ عمران خان کو اپنا کوئی وعدہ بھی یاد نہیں رہا۔ تمام کرپٹ اور بددیانت لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کیا۔ مرکزی کابینہ تو تقریباً تمام پرویز مشرف کے ساتھیوں پر مشتمل ہے۔ یہ خسرو بختیار جس کو نیب نے طلب کیا ہے، یہ زبیدہ جلال جس پر بدعنوانی کے الزامات ہیں، یہ غلام سرور خان، یہ فواد چوہدری اور اب یہ اعجاز شاہ جو مشرف کا دست راست تھا۔ ایک تو آپ خود جس کے پاس کرکٹ کھیلنے کے سوا اور کسی چیز کا تجربہ نہیں، اوپر سے معاشی صورت حال کے کنٹرول کے لیے اسد عمر جیسے فوجی بیک گراؤنڈ کے شخص کو مختارِ کُل بنانا جس نے اینگرو جیسے ادارے کو زیرو کر دیا۔ جس کو سوائے اس کے اور کوئی مہارت حاصل نہیں کہ آئی ایم ایف کی شرائط بغیر معاہدے اور بغیر قرضہ لیے منظور کیں۔ گیس، بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان تک پہنچا کر عوام کی چیخیں نکال دیں۔ غضب خدا کا 142 فی صد گیس قیمتوں میں اضافہ اور جولائی میں مزید 147 فی صد کا مژدۂ جاں فزا، روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی سطح 144تک پہنچ گئی۔ ’’یہ ہے معاشی پالیسی!‘‘ ایک ایک ارب ڈالر کے لیے یو اے ای، سعودی اور چائینہ کے دورے اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کی بھیک کتنی شرم کی بات ہے؟ نہ ایف بی آر میں اصلاحات، نہ زرعی ٹیکس کے لیے قانون سازی، نہ در آمدی بل میں کمی، نہ بنیادی اداروں سٹیل ملز، پی آئی اے اور ریلوے میں اصلاحات، نہ کفایت شعاری کے ذریعے، نہ بچت، الٹا پنجاب اسمبلی کے ممبران کا اپنے لئے تنخواہوں اور مراعات کا بل ایک گھنٹے میں پاس کرنا، یہ گیس بل کے تیس تیس ہزار، چالیس اور پچاس ہزار کے بِل عام لوگوں کے اوپر بموں کی بارش کے طور پر برسانا۔ آخر کپتان صاحب ہم آپ کی کس کس پالیسی کو روئیں؟ یہ تو بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت قائم ہو گئی ہے اور پالیسی یہ ہے کہ جلد از جلد عوام سے خون نچوڑ کر خزانے کو بھرو۔ آخر آٹھ ماہ کی حکومت میں آپ نے ایسی کون سی پالیسی متعار ف کرائی، جس کی وجہ سے عوام کے دلوں میں امیدوں کے دیے روشن ہوں؟
پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر اور ایک کروڑ نوکریوں کی فراہمی اور ایسی دوسری باتیں تو اَب مذاق بن کر رہ گئی ہیں۔