کالم نگاری

ؒ خوف خدا سے عاری قیادت 

احمد سعید 

✍️ کالم نگار: احمد سعید 

اشتہار / Advertisement

یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اگر گھر کا سربراہ یعنی باپ غیر ذمہ دار، خود غرض اور عیش و عشرت کا دلدادہ ہو، تو پورے گھر یعنی اہلِ خانہ پر اس کے اثرات لازمی مرتب ہوں گے۔ گھر کا انتظام متاثر ہوگا۔ نظم و نسق ختم ہو جائے گا۔ ماحول خرا ب ہوگا۔ ہر کوئی اپنی من مانی کرے گا۔ بچے بھی خود سر و نا فرمان بن جائیں گے۔ پڑھنے لکھنے اور تعلیم سے ان کا دل اچاٹ ہو جائے گا۔ نگرانی نہ ہونے اور آزادی ملنے کے نتیجے میں وہ آوارہ گرد اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگیں گے اور نتیجے میں وہ منشیات کے عادی، لڑائی جھگڑے، سر پھٹول اور غنڈہ گردی کے عادی بدمعاش بن جائیں گے۔
اسی طرح کسی ملک کی قیادت بھی اگر غیر ذمہ دار، عیاش اور خود غرض بن جائے، تو پوری قوم بھی افراتفری کا شکار نظم و ضبط سے عاری اور تمام قومی اوصاف و اخلاق اور اتحاد و اتفاق سے محروم ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً قوم تنزل و انحطاط اور مسائل و مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ کیا آپ یہ سب کچھ اپنے ملک مملکتِ پاکستان میں نہیں دیکھ رہے ہیں؟ قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت اور قائدِ ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد جو قومی قیادت منظرِ عام پر آکر اقتدار و حکومت کے اختیارات پر قابض ہوگئی۔ ان کے بارے میں ہم پورے وثوق سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ان کو اپنی قومی ذمہ داریوں کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں تھا۔ ان کے اندر قومی رہنمائی کی کوئی اہلیت نہیں تھی اور نہ ذہنی و فکری اور عملی کردار کے لحاظ سے ہی وہ اس مسلم قوم و ملت کے ساتھ وابستہ تھے۔ اس دوران میں ان کی تمام سرگرمیوں، ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا مرکز و محور اقتدار کا حصول اور اس پر زیادہ سے زیادہ عرصے کے لیے قابض و متصرف ہونا تھا۔ آزادی کے حصول سے 1954ء تک وہ اس ملک کو بغیر دستور و آئین کے چلاتے رہے۔ 1954ء کا دستور بڑی مشکلوں سے بنا بھی، تو 1956ء میں اس کو ختم کرکے ایک نیا دستور تشکیل دیا گیا، لیکن 1958ء میں اس کو بھی ’’فوجی کودتا‘‘ کے ذریعے ختم کرکے ’’مارشل لا‘‘ لگا دیا گیا اور فوج کو ملک کی جغرافیائی سرحدات کی حفاظت کے بجائے ملکی انتظام و انصرام کے امور سونپ دیے گئے۔ دس سال تک یہ آمرانہ و جابرانہ نظام ملک پر مسلط رہا۔ اس کے بعد آج تک کتنے فوجی اور سویلین دورانئے ایسے گزرے کہ اس سہ فریقی اتحاد نے جو اسٹیبلشمنٹ، جاگیر داروں اور سول بیوروکریسی پر مشتمل ہے۔ اس کے سوا اور کوئی کام نہیں کیا کہ بس یا تو اقتدار و اختیار کے حصول کے لیے سازشیں اور ریشہ دوانیاں کیں اور یا اقتدار کو قائم و دائم اور اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے جوڑ توڑ، لین دین، خرید و فروخت اور جبر و استبداد کے حربے استعمال کیے۔ اس دوران میں قوم کی تعلیم و تربیت، تہذیب و ثقافت اور قومی نظم و ضبط کے لیے اپنے حالات، ماحول اور مزاج کے مطابق کوئی نظامِ تعلیم تشکیل نہیں دیا گیا۔ بس اسی پرانے فرسودہ اور انگریز آقاؤں کی اپنی مطلب و غرض کے لیے تشکیل کردہ نظام تعلیم کو بر قرار رکھا گیا۔ ایک قوم کے لیے یکساں نظامِ تعلیم کی بجائے طبقاتی نظامِ تعلیم وجود میں آیا۔ خصوصی تعلیمی اداروں سے رولنگ کلاس تیار کی جاتی رہی اور عام سرکاری تعلیمی اداروں سے کلرکوں، ٹائپسٹوں اور نچلے درجے کے کارکن تیار ہو کر نکلتے رہے۔ انگریزی زبان کو تعلیمی اور سرکاری حکومتی زبان قرار دے کر پوری قوم کی اہلیت و صلاحیت اور ترقی و نشو و نما پر مہر لگا دی گئی۔ انگلش میڈیم سکولوں کی وبا نے قوم کے رہے سہے دینی، مذہبی اور ثقافتی شناخت کو ختم کر دیا۔ یوں پوری قوم کا یہ اجتماعی رویہ بالکل کھل کر سامنے آیا کہ بس مادی اور مالی ترقی ہی معاشرے میں عزت و وقار کی علامت ہے۔ جب دین و ایمان اور تہذیبی و تمدنی روایات سے تعلق کمزور ہو گیا بلکہ تقریبا ختم ہوگیا، تو وہ تمام خرابیاں اور عادات و اطوار سامنے آگئے، جو مادیت اور دولت پرستی کا بدیہی نتیجہ ہوتے ہیں۔
ہمارا دینِ اسلام تو عقیدے و عمل کا بہترین امتزاج ہے۔ ہمارا ایک قادر و توانا، احکم الحاکمین، علیم و خبیر اور روز جزا کے مالک رب پر ایمان و یقین ہمیں دنیا میں ایک ذمہ دار فرد، ایک ہمدرد و غم گسار ہستی، ایک محسن و مہربان فرد کی حیثیت سے دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جو امن و سلامتی کا داعی ہے، جو دوسروں کے جان و مال اور عزت و آبرو کا محافظ ہے۔ یہ اسلام ہی کا کرشمہ اور اسی کا عطا کردہ احساس ہے کہ ایک نوجوان صرف اپنے علیم و خبیر رب پر ایمان کی وجہ سے خوبصورت و جوان خواتین کے سامنے نظریں جھکاتا ہے اور فحاشی و عریانی کی ہر قسم سے اجتناب کرتا ہے۔ یاد رکھیے اس قوم کی تمام بیماریوں، مسائل اور مشکلات کا حل صرف اور صرف دینِ اسلام میں ہے، لیکن پاکستانی قیادت کی تربیت و تعلیم تو ایسے اداروں میں ہوئی ہے، جہاں پر ذہنوں میں یہ بات بٹھائی اور راسخ کی جاتی ہے کہ اسلام کوئی نظریۂ حیات نہیں، بلکہ چودہ سو سال پرانے قبائلی اور غیر ترقی یافتہ دور کا مذہب ہے۔ اس وجہ سے ایک طرف تو یہ خود اسلام کے دین اور نظامِ زندگی ہونے کے قائل نہیں اور اوپر سے طاغوتی طاقتوں کا دباؤ بھی موجود ہے۔ اس وجہ سے یہ ان طاغوتی قوتوں کی خوشنودی اور رضامندی کے حصول کے لیے نت نئے طریقے ایجاد اور اختراع کرتے ہیں۔ یہ عوامی منتخب اداروں میں خواتین کی 33 فیصد نمائندگی، کیا یورپ اور امریکہ میں خواتین کی اتنی نمائندگی ہے؟ یہ مختلف کھیلوں میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی، یہ میڈیا کے ذریعے فحاشی و عریانی کی مہم، یہ فیشن کے کیٹ واکس، یہ دلہنوں کے سنگار کے مقابلے اور یہ خواجہ سراؤں اور ہم جنس پرستوں کی کھلی حوصلہ افزائی اور ان کے تحفظ کے لیے اقدامات وغیرہ وغیرہ۔
ایک طرف یورپی، امریکی اور مغربی معاشرے میں مادیت کے مارے ہوئے روحانیت اور انسانی اعلیٰ اخلاق و کردار سے محروم افراد کی دینِ فطرت اسلام کی طرف رغبت اور اسلام کو سمجھنے اور مطالعہ کرنے کا رجحان روز بروز طاغوتی قوتوں کے لیے باعثِ پریشانی ہے، اور وہ اسلام کے خلاف طرح طرح کے غلط الزامات، پروپیگنڈے اور ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے حکمران ہیں، جو مسلم ملت کو گمراہ، بے راہ رو، فرقوں، نسلوں، زبانوں اور قومیت کے فتنوں کے ذریعے تقسیم در تقسیم کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کی حکمرانی کے لیے مسلم ملت کی یک جہتی، اتحاد و اتفاق اور دین اسلام کی بنیاد پر علم و شعور خطرہ نہ بن سکے۔ کیا بدنصیبی ہے اور کیا حرماں نصیبی ہے کہ اپنے ہی دشمن بن گئے ہیں۔ جیسے کوئی باپ اپنے بچوں کا دشمن بن کر ان کی زندگی تباہ و برباد کرنے کے لیے منصوبہ سازی کرتا ہے اور اپنی ہی نسل کی تباہی و بربادی کا کردار ادا کرتا ہے۔
یا علامہ محمد اقبالؒ کے بقول
وائے ناکامی، متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔