
ہماری دینی روایات میں دجال کا ایک شخصی کردار اور تصور پیش کیا گیا ہے کہ وہ ایک آنکھ سے کانا، بدصورت اور کریہہ شخصیت کا حامل ہوگا۔ ہر قسم کے وسائلِ رزق اور وسائلِ زندگی اس کے قبضہئ قدرت میں ہوں گے۔ وہ جس کو چاہے گا، مالامال کرے گا اور اپنے مخالفین کو وسائلِ رزق سے محروم کرکے بھوک و پیاس میں مبتلا کرے گا۔ آلاتِ مزا میر یعنی گانے بجانے کے آلا ت کے ذریعے وہ موسیقی کو عام کرے گا اور موسیقی ہی کے ذریعے عریانی و فحاشی کو فروغ دے گا، علیٰ ہذا القیاس، لیکن اگر ہم دجال کے شخصی تصور کو ذرا وسیع کرکے موجودہ دور کے غالب، کار فرما اور بالادست قوتوں پر منطبق کریں، تو ہمیں محسوس ہوگا اور یقینی طور پر ہم دیکھیں گے کہ ہم اس وقت دجالی تہذیب و تمدن کے دور میں رہ رہے ہیں۔ دجال کی نمائندہ قوتیں اس وقت اس غالب دجالی تہذیب کی علمبردار ہیں۔
اگر اس وقت امریکہ اور یورپی یونین پر مشتمل ترقی یافتہ ملکوں کی قوت و طاقت اور غلبے کا جائزہ لیں، تو آپ کے سامنے دجال کی پوری تصویر بالکل واضح اور نمایاں ہو جائے گی، کہ ان غالب قوتوں کے ہاتھ میں اس وقت پوری دنیا کی باگیں ہیں۔ یہ قوتیں پوری دنیا کو اپنے احکام و ہدایات کے مطابق چلارہی ہیں۔ رزق اور زندگی کے تمام وسائل ان کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ دنیا کو مالی بحران کا شکار کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ کسی کے بارے میں ذرا سے اختلاف کو محسوس کرکے یہ ان کی کرنسی کی ویلیو کو ایک دم گرادیتے ہیں۔ ان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی کمی کا پروپیگنڈا کرکے ان کے سر پر دیوالیہ ہونے کی تلوار لٹکا دیتے ہیں۔ سارے بین الاقوامی مالیاتی ادارے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور ایشین ڈولپمنٹ بینک ان کے کنٹرول میں ہیں۔ کسی ملک پر دباو ڈالنے کے لیے اس کی معیشت کو ان اداروں کے ذریعے کنٹرول کرکے ان کی پوری معاشی ڈھانچے کو ایک دم منہدم کردیتے ہیں۔ ان کی کرنسی دنیا بھر کے کاروبار اور معیشت پر چھائی ہوئی اور خرید و فروخت کا واحد ذریعہ ہے۔ حالاں کہ یہ حقیقت دنیا پر آشکارا ہو چکی ہے کہ ان ڈالروں کے بدلے میں سونے کے ذخائر ان کے پاس نہیں، بلکہ یہ دن رات اپنے پرنٹنگ پریس میں ڈالر چھاپ کر پوری دنیا میں پھیلا دیتے ہیں۔ یوں اپنے کاغذ کے بے جان پرزوں کے بدلے دوسرے مماک کے تیل اور دیگر معدنی ذرائع حاصل کرتے ہیں۔
خبروں میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ چائینہ اور جرمنی جن کے پاس ڈالرز کا بہت بڑا ذخیرہ ہے، نے جب امریکہ سے ان ڈالروں کے عوض سونے کا مطالبہ کیا، تو امریکہ نے خاموشی کے ساتھ انکار کرکے چپ سادھ لی، لیکن چوں کہ یہ اپنے جدید ترین مہلک اور خطرناک اسلحے کے ذریعے ایک یونی سپر پاور ہے۔ اس لیے دنیا اس کھلے دھوکے اور فریب دہی کو مجبوری کے ساتھ برداشت کر رہی ہے۔ یہ دجالی طاقت جو ہر جگہ ملکوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ لڑا کر دوہرا فائدہ حاصل کرتی ہے۔ ایک تو اپنا اسلحہ بیچ کر مال کماتی ہے۔ اپنے ہاں صنعتوں کو چلا کر بے روزگار ی پر قابو پاتی ہے اور دوسری طرف ان متحارب ملکوں پر اپنا اثرو رسوخ قائم کرکے ان کے قومی خودمختاری کو پامال کرتی ہے۔
یہ طاغوتی قوت غیر مسلم ملکوں کے ساتھ ایک قسم کا سلوک کرتی ہے اور مسلمان ملکوں کے ساتھ اس کی پالیسی بالکل مختلف اور الگ نوعیت کی ہوتی ہے۔ مثلاً سالہا سال سے کیوبا ایک چھوٹا سا ملک اس کے بالکل قریب پڑوس میں موجود ہے۔ اس چھوٹے سے ملک نے فیدرل کاسترو کی قیادت میں نظامِ سرمایہ داری سے بغاوت کرکے انفرادی ملکیت کو تحویل میں لے کر سوشلزم کا نظا م جاری کیا۔ فیدرل کاسترو کے مرنے کے بعد وہاں سوشلسٹ نظام جاری ہے، لیکن امریکہ ظاہری گیدڑ بھبکیوں کے سوا اس کے خلاف کوئی عملی کارروائی نہ کرسکا، یا نہیں کرنا چاہتا۔
اسی طرح اس عالمی طاغوتی دجالی قوت کو شمالی کوریا کی ایٹمی تجربات اور میزائل بنانے پر بظاہر اعتراض ہے، لیکن یہ اس کے خلاف کوئی عملی اقدام کرنا نہیں چاہتا۔اور جب عالم اسلام کے دو ملکوں عراق اور لیبیا کے بارے میں اس کو معلوم ہوا کہ یہ دو مسلمان ممالک نیوکلیئر پلانٹ لگارہے ہیں، تو عراق کے ایٹمی پلانٹ کو اسرائل کے ذریعے تباہ کردیاگیا۔ لیبیا کو اقتصادی اور دیگر قسم کی پابندیاں لگا کر مجبور کر دیا گیا کہ وہ ایٹمی منصوبے سے دست بردار ہو جائے اور پھر امریکہ نے اس کے ایٹمی پلانٹ اور اس کے پرزوں کو بحری جہازوں میں لاد کر امریکہ پہنچا دیا۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دجالی طاقتوں اور تہذیب کو اصل خطرہ مسلمانوں سے ہے۔
انہی دجالی طاقتوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد ترکی جیسی عظیم مملکت اور مسلمانوں کی مذہبی عقیدت کے مرکزِ خلافت کو ختم کرکے ترکی کو بیسیوں حصوں میں تقسیم در تقسیم کردیا اور ایک عظیم مسلم قوت کو قومیت کا فتنہ پھیلا کر شام، عراق، سعودی عرب، مصر، اردن اور اسرائیل میں تقسیم کردیا۔ یہ چھوٹی چھوٹی وسائل سے مالامال لیکن قوت و طاقت سے تہی دامن ریاستوں کو پنپنے دیتی ہیں، لیکن جہاں بھی کسی مسلم ملک نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرکے اپنے وسائل سے طاقت و قوت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس طاغوتی دجالی طاقت کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹکنے لگا۔
یہ دجالی تہذیب اور اس کے کرتا دھرتا قوتیں پوری دنیا میں منظم اور سائنٹفک طریقوں سے عریانی و فحاشی کو فروغ دے رہی ہیں۔ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ ان کے قبضے میں ہیں۔ ان کی خبر رساں اور ابلاغی ایجنسیاں دنیا بھر کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کو اپنے منصوبے کے مطابق خبریں، تجزیے اور اعداد و شمار فراہم کرتی ہیں اور اسی کی بنیاد پر یہ دیگر ملکوں خصوصاً مسلمانوں کے دین، عقائد اور مراکزِ عقیدت کو نشانہ بنا کر امت مسلمہ کے قوت و طاقت کا اندازہ لگاتی رہتی ہیں۔ ان کے حربے اور ہتھکنڈے بے شمار بے حساب اور انتہائی پُراسرار ہوتے ہیں۔ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ کون سے مسلمان ملک میں ان کے مسلط کردہ ایجنٹوں کی قیادت و سیادت کو خطرہ ہے؟ تو یہ فوراً اپنے دوسرے پسندیدہ ایجنٹ کے لیے فضا ہموار کرتے ہیں۔ اس کی امیج بلڈنگ پروپیگنڈے کے ذریعے کرتے ہیں اور اسلام پسندوں کے اقتدار میں آنے کے خطرے کا سد باب کرتے ہیں۔
اس دجالی قوت کو اپنے پسندیدہ ایجنٹ مطلق العنان بادشاہوں، شیوخ اور فوجی ڈکٹیٹروں کی شکل میں قابل قبو ل ہیں اور ان پر ان کو کوئی اعتراض نہیں، لیکن ان مسلمان ملکوں میں جمہوری اور عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب آزاد منش اسلام پسند حکمران ہرگز قابل قبول نہیں اور یہ ان کو ہرگز برداشت نہیں کرتے۔ اس کی نمایاں اور واضح مثال اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے انتہائی قابل منتخب صدر محمد مرسی ہیں۔ جب ان کو خطرہ محسوس ہوا کہ یہ پارٹی اور اس کا نام زد کردہ صدر تو اسرائیل کے لیے خطرہ ہے، اور یہ تو مصر میں اسلامی نظامِ حکومت کے قیام کے علمبردار ہیں، تو انہوں نے ایک طرف تو ان کے خلاف فوج کواقدام کی شہ دی اور اس طرح اس دجالی قوت نے اپنے مصری ایجنٹوں کے ذریعے ایک مسلم ملک میں شرمناک حد تک ظلم و بربریت اور قتل و غارت گری کا مظاہر ہ کرکے سیکڑوں لوگوں کو ہلاک کیا، اور ہزاروں بے گناہ مصری مسلمانوں کو جیلوں میں تعذیب و تشدد کا شکار کیا۔ آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔
ایک طرف اس دجالی طاقت نے عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین کی کویت پر حملے کے لیے پیٹھ ٹھونکی اور جب اس نے اس شیطانی طاقت کی چال اور فریب کا شکار ہو کر کویت پر حملہ کر دیا، تو پھر خود اسی بہانے عراق پر چڑھ دوڑا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا کر عراقی مسلمان بچوں، بوڑھوں، جوانوں اور عورتوں کا قتل عام کیا۔
اسی دجالی قوت نے عراق کو ایران سے لڑا کر سالہا سال تک ایک بڑے خطے کو بد امنی اور قتل و غارت گری کا شکار کیا، اور مسلمان ملت کو شیعہ و سنی دو فرقوں میں عملاً بانٹ دیا۔ یہ شیعہ و سنی تفریق اور فتنہ اب برگ و بار لارہا ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ اس طاغوتی قوت نے اپنے حریف طاقت روس کو افغان مجاہدین کو اسلحہ اور سیاسی مدد دے کر شکست فاش دی اور اس کو اس جنگ کے نتیجے میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، لیکن جب اس نے افغان مجاہدین کے جذبہئ ایمانی اور اسلامی غیرت و طاقت کو قریب سے دیکھا، تو اس کو خوف ہوا کہ اگر مجاہدین کی اس طاقت نے متحد و متفق ہو کر افغانستان میں دینِ اسلام کو قائم کرلیا، تو اس طرح پوری دنیا کے سامنے دینِ اسلام کی اصل طاقت، کارفرمائی اور عدل و انصاف اور بہترین پاک صاف، سیدھا سادہ اندازِ حکمرانی سامنے آجائے گا اور دنیا اس دجالی سرمایہ دارانہ نظام سے متنفر ہو جائے گی۔ اس خو ف کے تحت اس نے سازش کے ذریعے افغان مجاہدین میں پھوٹ ڈال دی اور ان کو ایک دوسر ے کے ساتھ لڑایا۔ ان کو منظر سے ہٹانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے طالبان کو منظم کیا اور ان کو مجاہدین کے خلاف استعمال کرکے طالبان حکومت قائم کرادی۔ ان کو توقع تھی کہ ان غیر منظم، جدید تعلیم و تربیت سے تہی دامن اور انتظامی امور سے نابلد طالبان جب اپنی حکمرانی کے ذریعے افغانستان کو مزید مسائل و مشکلات کا شکار کریں گے، تو ہمیں اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور فضا ہموار کرنے کا موقع مل جائے گا،لیکن جب ان کی تمام امیدوں اور توقعات کے برعکس طالبان نے افغانستان جیسے قبائلی معاشرے اور جنگ و جدل سے دوچار ملک میں امن قائم کیا۔ اسلامی شریعت کا نفاذ کیا۔ اسلام کے حدود قوانین کا اجرا کیا اور اپنے سادہ طرزِ حکومت سے افغانستان کے عوام کو متاثر کیا، تو ایک بار پھر اس دجالی طاقت نے ایک نہایت پُراسرار اور پیچیدہ منصوبے کے تحت افغانستان پر حملہ کیا۔ حالاں کہ ”نائن الیون“ کے واقعے میں افغانستان کا کوئی شہری ملوث نہیں تھا، لیکن ان کے لیے تو بہرحال طالبان کی اسلامی حکومت کا قیام ہی سوہانِ روح بنا ہوا تھا۔ لہٰذا اس نے بلاجواز افغانستان پر حملہ کردیا اور 17 سال تک اس نے افغانستان میں آتشیں بارود کا کھیل کھیلا۔ افغانستان کے سنگ و خشت اور پہاڑوں چٹانوں تک کو ریزہ ریزہ کردیا۔ ان 17سالوں کے دوران میں افغان مسلم عوام کے بوڑھوں، بچوں، خواتین اور نوجوانوں کو نہایت بے دردی اور شقاوتِ قلبی سے ظلم و ستم کا شکار کیا۔ لیکن ”ہر فرعونے را موسیٰ“ والی بات سامنے آئی۔ اور وہ نہتے، کمزور بے یارو مددگار طالبان مجاہدین نے اپنی قوتِ ایمانی اور جذبہئ جہاد سے 17 سال تک اس مست دجالی ہاتھی کا مقابلہ کیا اور مزاحمت و مدافعت کی نئی تاریخ رقم کی۔ جب یہ دجالی طاقت زخموں سے چور ہو کر صلح کی میز پر بیٹھ کر مذاکرات پر آمادہ ہوئی، تو دنیا کو یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ دجال کے تمام وسائل اور طاقت کے خلاف ایک مؤثر جہادی جذبہ اسلام کی شکل میں موجود ہے۔ اگر اس مسلم امہ کی راکھ کو کریدا گیا، تو ایسی ایسی چنگاریاں اس کے اندر سے نکلیں گی کہ دجال کی تمام قوتوں اور طاقتوں اور وسائل کو خس و خاشاک کی طرح خاکستر کردیں گی۔ بالکل اسی طرح جس طرح روایات کے مطابق حضرت عیسیٰ ؑ جامع دمشق کے مینارے پر آسمان سے اتریں گے۔ دجالی کے ساتھ جہاد کریں گے اور اس کانے دجال کو قتل کریں گے۔ سور کو ذبح کریں گے اور یہودی سازشوں کا قلع قمع دنیا سے ہو جائے گا۔ ہر پتھر درخت اور ہر جھاڑی پکار اٹھے گی کہ میرے پیچھے یہ یہودی چھپا ہوا ہے۔ اے مسلمان مردِ مجاہد، اس کو قتل کر اور پھر دنیا سے دجالی تہذیب و تمدن کا خاتمہ ہو جائے گا۔
دینِ حنیف اسلام کا نفاذ ہو کر دنیا ایک بار پھر امن و امان اور اخوت و محبت کا گہوارہ بن جائے گی۔ کیوں کہ دینِ اسلام ہی سلامتی اور امن کا دین ہے۔ اسلام کے علاوہ جو بھی نظام دنیا میں قائم ہوگا۔ اس کے ذریعے بد امنی فتنہ و فساد کو فروغ ملے گا۔