
آج 22 ستمبر کی صبح کو فیس بُک پر ایک ویڈیو ’’گیمن پل خوازہ خیلہ‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ سنگین غلطی ہے کہ ہم ہر پُل کو ’’گیمن‘‘ سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کا تدارک نہایت ضروری ہے۔
یہ صرف خوازہ خیلہ تک محدود نہیں، بلکہ جہاں والیِ سوات کے دورِ حکم رانی میں ’’گیمن کمپنی‘‘ کے ذریعے 1960ء کے ابتدائی سالوں میں پُل تعمیر ہوئے تھے، سب کو ’’گیمن پُل‘‘ کہتے ہیں، چاہے وہ گورتئی کے قریب ہو، یا خوازہ خیلہ۔حالاں کہ اُن کے تعمیر کردہ پُل کب کے دریا برد ہوچکے ہیں اور اُن کی جگہ امارات کے مالی تعاون سے فوج نے وہ پل دوبارہ تعمیر کروائے ہیں…… جیسے شموزئی برج، گورتئی بریکوٹ برج، خوازہ خیلہ برج وغیرہ۔
اچھا اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ گیمن کمپنی، سوات میں کیسے متعارف ہوئی؟ تو اجمال اس تفصیل کی یہ ہے کہ سنہ 59ء اور 60 ء میں والیِ سوات نے دریائے سوات پر لکڑیوں کے پُل کے قریب ایک پکا پُل بنانے کا ارادہ کیا۔ ریاست کے محکمۂ شاہرات کے پاس ایسی ٹیکنالوجی کے حامل افراد کی کمی تھی، تو پاک پی ڈبلیو ڈی کو اس پُل کا سارا کام سونپ دیا گیا۔ مذکورہ محکمہ کی کارکردگی کا پول اُس وقت کھل گیا، جب پُل کی تعمیر کے ایک یا دو سال بعد وہ سیلاب کی نذر ہوگیا۔ اُس پر ریاست نے کثیر زرِ مبادلہ خرچ کیا تھا۔ انکوائری ہوئی اور ایک دو سینئر افسران سمیت کچھ لوگ ملازمت سے برخاست ہوگئے اور بس۔
ایک آدھ سال بعد ایوب خان کے مالی تعاون سے اُسی تباہ شدہ پُل کے قریب ایک اور پُل کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ اس دفعہ یہ پراجیکٹ کراچی بیسڈ ایک بڑی تعمیراتی کمپنی کو سونپا گیا، جس کا نام ’’گیمن پاکستان لمیٹڈ‘‘ ہے۔
والیِ سوات اُن کی کارکردگی سے بہت متاثر ہوئے اور اُسی کمپنی کے ذریعے خوازہ خیلہ اور گورتئی بریکوٹ کے مقام پر دریائے سوات کے اوپر دو بڑے بڑے پُل بنوائے۔ ان دونوں کے محل وقوع کا نام بھی گیمن پڑھ گیا۔ بچے ہوں یا بوڑھے، شام کو سیر کے لیے اُدھر جاتے ہیں، تو کہتے ہیں چلو گیمن چلیں!
’’گیمن کمپنی‘‘ کے ذریعے والیِ سوات نے بونیر میں بھی کئی بڑے بڑے پُل بنوائے، جن میں ’’بھائی برج‘‘، ’’انغاپور برج‘‘، ’’ایلئی برج‘‘، ’’ڈھیرئی برج‘‘ اور ’’ٹانگو برج‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔مذکورہ پل آج بھی موجود ہیں۔ صرف ’’ٹانگو پل، گاگرہ‘‘ سیلاب میں نقصان زدہ ہوگیا تھا۔
تو یہ ہے ’’گیمن کمپنی‘‘ کی اصل حقیقت۔
معلوماتی تحریر ہے ۔ پہلی دفعہ گیمن پل کی وجہ تسمیہ معلوم ہوئی ۔ شکریہ