فضل رازق شہابکالم

کل اور آج کا فرق

  تمام تر محرومیوں کے باوجود مجھے اَب بھی اپنا بچپن زندگی کے سارے سالوں سے پیارا لگتا ہے۔ مجھے بابا کا بے حد و بے حساب پیار حاصل تھا۔ سوائے سکول کے اوقات کے، وہ مجھے ساتھ رکھتے تھے۔ اُنھوں نے مجھے بولنا سکھایا، مجھے کتابوں سے لگاؤ رکھنے کا سلیقہ دیا، اپنے سماجی ماحول کے مطابق اہم افراد سے روشناس کرایا اور سب سے بڑھ کر مجھے سوات سے محبت کی لذت سے آشنا کیا۔ اس جنتِ ارضی کے کونے کدھرے سے بغیر گھر سے نکلے واقف کرادیا۔
جب ہمارے گاؤں کے فوجی تین ماہ کے وقفے کے بعد کسی تعمیراتی کام کے لیے سیدو شریف آتے، تو ہمارے افسر آباد والے پہلی رہایش گاہ کی بڑی ڈیوڑھی میں رات بسر کرنے آتے۔ اُن کو راشن میں لنگر سے مختلف قسم کی دالوں پر مشتمل سالن اور مکئ کی موٹی موٹی روٹیاں ملتی تھیں۔ وہ شام والا راشن ساتھ لاتے، تو ہم گھر کا کھانا اُن کے ساتھ مل کر کھاتے۔ ایسا ذائقہ پھر کبھی نصیب نہ ہوا۔
ایک چھوٹے قد کے سپاہی شماش نام کے جو غالیگے کے رہنے والے تھے، غضب کے داستان گو تھے۔ وہ کہانی شروع کرتے تو لمحوں میں دن بھر کے تھکے ماندے سپاہی نیند کی وادی میں اُتر جاتے…… اور وہ اپنی دھن میں بولتا رہتا۔ مَیں کسی نہ کسی رشتہ دار سپاہی کے پائنتے لیٹا اس کی کہانی میں کھویا رہتا۔
ہمارے گاؤں کے سپاہیوں میں مجھے اپنے چچا شہزاللہ کے علاوہ دیگررشتہ داروں میں سے فضل کریم میاں، محمد صدیق پاچا، تماش اور فقیر محمد کے نام یاد ہیں۔
میرے والد کبھی کبھی مجھے اپنے دوست حبیب الرحمان صوبے دار کے ہاں قمبر لے جاتے۔ اُن کا ایک ہی بیٹا تھا امیرسیاب خان…… جن کی پہلی شادی کے وقت میں بہت چھوٹا تھا۔
آج 25 جنوری 2024ء (جب یہ سطور تحریر ہورہی ہیں) کو اچانک مجھے وہ سب مہربان چہرے یاد آرہے ہیں۔جو اَب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ویسے تو ہمارے معاشرے سے ڈھیر ساری اقدار ختم ہوگئی ہیں،مگر جو سب سے دل دکھانے والی بات ہے وہ ہمسایگی کا لحاظ اور زیرِ دست لوگوں کے حقوق کی حفاظت کو اولیت دینے کے رحجان کا ختم ہونا ہے۔
ہمارے لوگوں میں حلال حرام کی تمیز ختم ہوگئی ہے۔ ظاہری شکل و صورت سے باعمل مسلمان نظر آنے والے حقیقت میں مردار خور گدھ بن گئے ہیں۔ مردم آزاری، دوسروں کی تضحیک اور غاصبانہ دراندازی معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔
اللہ سب کو ہدایت دے کہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال رکھیں اور خود کو آخرت کی شرمساری سے بچائیں، آمین!

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں