فضل رازق شہابکالم

لڑکپن کی یادیں

آج کل کے ایک متنازع فیصلے پر اُٹھتے ہوئے ’’سوشل میڈیائی ہنگامے‘‘ نے مجھے کالج کے وقتوں کا ایک واقعہ یاد دِلا دیا۔ سب سے پہلے کچھ اُس کا نقشا کھینچ لوں۔
1958ء میں جب مَیں نے جہانزیب کالج میں داخلہ لیا۔ اُس وقت میرے بچپن کے دوست اسفندیار ’’سیکنڈ ائیر‘‘میں تھے، یعنی مجھ سے ایک سال آگے تھے۔
اسفندیار کے والد اُن دِنوں ریاستی توپ خانے کے ’’کمانڈنگ آفیسر‘‘ تھے۔ اُن کا اسمِ گرامی ’’عبدالحنان‘‘ تھا۔ ہم کئی سالوں سے اَفسر آباد (سیدو شریف) میں مقیم تھے۔ اُن کے اور ہمارے گھر کے بیچ صرف ایک دیوار حائل تھی اور ہمارا ایک دوسرے سے کوئی پردہ نہیں تھا۔
جب مَیں کالج میں داخل ہوا، تو میرے والد نے میری سہولت کے لیے مجھے اجازت دی کہ مَیں اسفندیار کے حجرے والے کمرے میں رات کو ٹھہر سکوں۔ اُن کے ہاں بجلی کی سہولت تھی، جو ہمارے گھر میں نہیں تھی۔
اسفندیار کی ساری دلچسپیاں پڑھائی تک محدود تھی۔ اُن کے اکثر کلاس فیلو اُن کے پاس آتے۔ اُن میں ایک لڑکا جو پشتو نہیں بول سکتا تھا اور جس کے والد حال ہی میں سوات پوسٹ آفس سیدو شریف میں پوسٹ ماسٹر کی حیثیت سے تعینات ہوئے تھے، پنجابی تھے۔ لڑکے کا نام وسیم احمد تھا۔ بہت شریف، خاموش طبع اور ذہین لڑکا تھا۔ اسفندیار اور وہ دونوں مطالعہ کے شوقین تھے۔ یہ لوگ ڈاک خانے کے قریب ایک مکان میں رہتے تھے۔ وسیم نے اچانک میرے ساتھ قربت شروع کی۔ مجھے کبھی کبھی اپنے گھر لے جاتا۔ ہم بیٹھک میں بیٹھ کر دُنیا جہان کا گپ لگاتے مگر ہم نے کبھی مذہب کو موضوعِ سخن نہیں بنایا۔
اُس وقت میں 15 سال اور دو یا تین مہینے کا تھا۔ میری ہی عمر کے لگ بھگ وسیم کی دو بہنیں تھیں، جو سکول میں پڑھتی تھیں، ہلکے سانولے رنگ کی۔ اُن پر جوانی کے آثار ظاہر ہورہے تھے۔ یہ دونوں بھی ہمارے ساتھ بیٹھک میں آکر بیٹھ جایا کرتیں۔ کئی دفعہ بھائی کے سامنے بھی میرے دائیں بائیں صوفے پر بیٹھ کر ہنسی مذاق کرنے لگتیں۔ مجھے چائے پلاتیں۔ چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ، کبھی گھر میں بنائے ہوئے پکوڑے کھلاتیں۔
کبھی کبھی وسیم کسی کام سے باہر چلا جاتا۔ میرے دل میں کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی اُن لڑکیوں کے لیے سفلی جذبات نہ اُٹھے۔ بس ایک دوسرے سے لگ کر باتیں کرتے۔ اُن لوگوں نے بھی کبھی میرے ساتھ مذہبی مسائل پر بات نہیں کی۔ مجھے اُن لوگوں کے ساتھ ایک عجیب قسم کی اُنسیت پیدا ہونے لگی۔ پھر اُن کے والد کا اچانک تبادلہ ہوگیا۔ کئی دِنوں تک وہ لوگ یاد آتے رہے اور پھر زندگی کے ہنگاموں میں بھول گیا کہ کوئی وسیم تھا اور اُس کی بہنیں بھی تھیں۔
ایک دن مقامی پوسٹ مین میرے نام ایک پارسل لایا۔ مَیں نے متعلقہ فارم پر دستخط کرکے پارسل وصول کیا کھول کر دیکھا، تو ایک جھٹکا سا لگا۔ اُس میں ’’قادیانی لٹریچر‘‘ پر مشتمل پمفلٹس اور کتاب تھی۔ پارسل کے کور (Covers) چیک کیے، تو بھیجنے والے کا نام اور پتا نہیں تھا۔ مَیں نے پڑھے بغیر وہ سارا لٹریچر قریبی پہاڑ پر جاکر ایک گڑھے میں دبائیا۔مَیں بہت خفا تھا کہ آخر مجھے کیوں اور کس نے گم راہ کرنے کی کوشش کی ہے؟
چند دنوں بعد دوسرا پارسل آیا، تو اُس پر بھیجنے والا کا نام تھا۔ یہ وہی وسیم احمد تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ اُن کے سوات کے قیام کے وقت کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ وہ قادیانی ہیں۔ چوں کہ ڈاک اور تار کا محکمہ پاکستان کے کنٹرول میں تھا، تو ریاستِ سوات کا کسی کے ٹرانسفر یا پوسٹنگ سے بھی کوئی سروکار نہیں تھا۔
بہ ہر حال مَیں نے وسیم کو خط لکھا کہ ’’پلیز! مجھے یہ چیزیں نہ بھیجیں۔ دوستی کو اس طرح ناجائز کاموں کے لیے استعمال مت کریں۔‘‘
اُس کے بعد اُس نے کوئی پارسل نہیں بھیجا۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں