فضل رازق شہابکالم

کیرم بورڈ سے جڑی ہماری جوانی کی یادیں

  کل پرسوں اپنے پوتوں کے ساتھ کیرم کھیل رہا تھا۔ مَیں نے ایک دفعہ ویسے کَہ دیا کہ مجھے وہ دن بہت یاد آرہے ہیں، جب مَیں ڈگر کالج کی کالونی میں قیام پذیر تھا۔ ہم یعنی پروفیسر ہمایوں خان، پروفیسر قاضی عبدالواسع اور ہمارے ایس ڈی اُو جمیل الرحمان صاحب اور مَیں شام کے بعد رات گئے تک کیرم کھیلتے تھے۔ کتنا اچھا وقت گزرتا تھا۔ قاضی صاحب تو زیادہ تر سنجیدہ رہتے تھے، مگر ہمایوں خان کھل کر قہقہے لگاتے تھے۔
پھر وہ دن یاد کرنے لگا جب 1987ء میں ہم اپنے نئے گھر واقع ابوہا میں شفٹ ہوئے، تو عام سائز کا ایک کیرم بورڈ بھی خرید لیا اور خوب لطف اُٹھانے لگے۔
اس دوران میں میرے پوتے نعمان نے وہ سرسری بات سنجیدگی سے لے لی اور ایک کلب سائز بورڈ 8 ہزار کی لاگت سے بنوایا۔ اب اُس بورڈ میں کچھ پرابلم تو ہے، مگر مَیں اپنے پوتوں کے ساتھ عشا کے بعد ایک دو فریم کھیلتا ضرور ہوں۔
برسبیلِ تذکرہ، مجھے ایک صاحب یاد آگئے، جو اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر کیرم کے چیلنج میچ کھیلتے، جس پر پیسوں کی شرط لگی ہوتی تھی اور وہ باپ بیٹا اکثر جیت کر آتے۔ ہمارے افسر آباد میں سی کلاس کوارٹروں کا ایک بلاک تھا، جس میں زیادہ تر اساتذہ صاحبان رہتے تھے۔ مثال کے طور پر چند نام مجھے یاد ہیں، جن میں میاں سید بہار ہیڈ ماسٹر صاحب، محمد جان اُستاد صاحب اور ایک گرلز سکول کی ہیڈ مسٹرس تھی۔ کارنر والے کوارٹر میں ہماری آج کی کہانی کے ہیرو رہتے تھے ۔ پھر حاجی سربلند خان اور عبدالرشید مرزا صاحب اور منیر مرزا صاحب کے کوارٹر تھے۔ سید عبدالرشید سوات کے بادشاہ میاں گل عبدالودود کے درباری مؤرخ سید عبدالغفور قاسمے میاں کے بھتیجے تھے، جنھوں نے تاریخِ ریاست کے علاوہ ’’انوارِ سہیلی اور ’’تاریخِ فرشتہ‘‘ کے پشتو تراجم لکھے تھے۔ باچا صاحب نے بہ صرفِ کثیر اعلا کوالٹی پیپر میں انھیں چھپوا کر مفت تقسیم کیا تھا۔
خیر،یہ جو کیرم کے شوقین استاد صاحب تھے، اُن کے بیٹے ابھی 14، 15 سال کے تھے، مگر ماشاء اللہ بہت صحت مند اور خوب صورت تھے۔ اس کے ساتھ ذہین اور خوش طبع بھی تھے۔ باپ کے ساتھ مل کر مینگورہ کے کئی مشہور کیرم کھلاڑیوں سے چیلنج میچ جیتا کرتے تھے۔ بعض لوگوں کو پتا نہیں تھا کہ یہ دونوں باپ بیٹے ہیں۔ کبھی کبھی بے ہودہ باتیں چل جاتیں۔
ایک دن اُستاد صاحب نے خود مجھے بتایا کہ بنڑ محلے میں ایک پارٹی سے چیلنج میچ تھا۔ ایک آدمی نے کہا: ’’زبردست دانہ ہے۔کہاں سے ملا؟‘‘ پہلے تو بہت غصہ آیا پھر ضبط کر کے کہا: ’’ہاں،اللہ کا کرم ہے۔ میرا بیٹا ہے!‘‘
یہ سن کر وہ شخص خفت کے مارے سر جھکا کر خاموش ہوگیا اور پھر جب تک ہم وہاں رہے، خاموش ہی بیٹھا رہا۔‘‘
مَیں (راقم) نے مناسب سمجھتے ہوئے اُسے کہا: ’’جناب! یہ تو آپ کی غلطی ہے۔ کیوں اِس معصوم کو ایسی محفلوں میں لے جاتے ہو۔ اُس پر اِن باتوں کا منفی اثر پڑے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں