فضل رازق شہابکالم

ریاستی الحاق بارے نیا شوشا

  اچھا جناب……!
عام ہڑتال بھی ہوچکی ٹیکسوں کے خلاف…… پتا نہیں ٹیکس لگتے ہیں یا نہیں……! مگر یار لوگوں نے گرم توا سر پر رکھا ہوا ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں اور عجیب وغریب قسم کی تاویلات سامنے آرہی ہیں۔ بھائی سیدھے سبھاو تو ایک ہی بات کروکہ ’’وفاق کو مانتے ہو کہ نہیں۔‘‘
55 سال ہوگئے ریاست کو ’’مرحوم‘‘ ہوئے…… اور آج تک یہ بات واضح نہ ہوسکی کہ یہ الحاق تھا، انضمام تھا یا مکمل اختتام……؟
آج ایک نیا شوشا سننے میں آیا کہ ’’سوات نے الحاق نہیں کیا تھا۔‘‘ الحاق تو سوات کا 1947ء میں ہوا تھا، جس پر قائدِ اعظم کے دستخط ہیں اور میاں گل عبدالودود باچا صیب کی مہر لگی ہوئی ہے۔
چلو یہ بات چھوڑو!
1954ء میں کالام کی خاموش و پُرسکون فضا میں ایک ہفتے کے ’’میراتھن مذاکرات‘‘ کے بعد”Supplementary Instrument of Accession” پر دستخط ہوجاتے ہیں۔ لوجی قصہ ہی ختم……!
یوں حکم ران کے اختیارات محدود کردیے گئے۔ سٹیٹ کونسل کو بجٹ تجاویز پیش کرنے اور بجٹ پاس کرنے کے اختیارات مل گئے۔ اگر چہ والئی سوات کے ذاتی تدبر اور قائدانہ صلاحیتوں نے سب کچھ سنبھالے رکھا، اور ہوتا وہی کچھ جو وہ قوم اور ریاست کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔
اس پر یاروں کو ہوش نہ آیا کہ آگے کھائی بالکل تیار ہے۔ اُس وقت یہی عناصر بغلیں بجا رہے تھے۔ والئی سوات بڑی دانش مندی سے اور بہت ’’بلند مرتبہ حکام‘‘ کی سازشوں کے باوجود ریاست کی کشتی کو طوفانوں سے نکالتے رہے۔
عدنان شہید نے مجھے ایک طویل نشست میں بتایا تھا کہ 1954ء سے 1958ء تک والی صاحب “Informal Ruler” رہے۔
اسی دوران میں اُن کو منظرِ عام سے ہٹانے کے لیے یہ تجویز بھی سامنے لائی گئی کہ اُن کو مشرقی پاکستان کا گورنر بنا کر سوات سے باہر بھیجا جائے۔
پھر 1958ء کے اکتوبر نے حالات کا رُخ موڑ دیا۔ سوات کے نصیب جاگ اُٹھے اور پھر 1969ء کے ماہِ جولائی تک ترقی و تعمیر کا قافلہ چلتا رہا۔ اُن دس سالوں میں ریاست نے ایک پوری صدی کا سفر طے کیا۔
پھر زیرِ زمیں اور برسرِ زمیں جو سازشیں ہوتی رہیں، سب جانتے ہیں۔ آج کل جو دانش ور”Accession” کا خود ساختہ مطلب نکال رہے ہیں، اُن کے بڑے ہی ’’الحاق‘‘ کے لیے سر گرمِ عمل تھے۔
اچھا!28 جولائی 1969ء کے بعد قوم کے نام نہاد خیرخواہوں نے اُس وقت کیوں عوام کے لیے مراعات نہیں مانگیں۔ اُس وقت تو ایک سے ایک بڑھ کر خود کو ’’آزادی کا چمپئن‘‘ ثابت کرتا رہا…… اور جمہوریت کی مراعات لوٹنے کو بے تاب ہورہا تھا۔
کیا یہ قابلِ یقیں ہے کہ55 سال گزرنے کے باوجود کچھ اُمور ابھی تک تصفیہ طلب ہوں……؟
جو مطالبہ سب کو متفق رکھ سکتا ہے، وہ دہشت گردی سے قوم کو مالی، جسمانی اور روحانی نقصانات کی تلافی ہے…… جو بالکل جائز اور حکومت کے ذمے واجب الادا ہے۔ اس نقطے پر جتنا بھی دباو ڈالا جائے، کم ہوگا۔ یہ حکومتِ پاکستان کا اخلاقی فرض ہے کہ ہمیں اُن ذلت آمیز مراحل (نقلِ مکانی) سے گزرنے کا نعم البدل عطا کرے، مگر یہ صرف مخصوص طبقے کے فائدے کے لیے نہ ہو، مگر اس کا پھل عام شہری تک بھی پہنچے۔
اگر کوئی موجودہ ’’سیٹ اَپ‘‘ میں قانونی موشگافیاں ڈھونڈ رہا ہے، تو اُس کو جان لینا چاہیے کہ یہ راستہ کعبہ کو نہیں ترکستان جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں