
حکومت چاہے کسی بھی ملک کی ہو ،اس کو چلانے کیے لئے خطیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔حکومتیں اس رقم کے حصول کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرتی ہیں، لیکن اس کا ذیادہ تر انحصار عوام سے ملنے والے ٹیکس پر ہوتا ہے۔ٹیکس چونکہ حکومت حاصل کرتی ہے اور حکومت کے اخراجات ٹیکس وغیرہ سے پورے ہوتے ہیں، اسی لئے حکومت اس ٹیکس ہی کی بدولت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہے ۔مثلاً سستی اور معیاری تعلیم ،صحت کی سہولیات ،انفراسٹرکچر وغیرہ ۔لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں حکومت عوام سے ماچس کے ڈبے تک کی معمولی سی معمولی چیزوں پر بھی ٹیکس وصول کرتی ہے۔اور جب بھی حکومتی خزانہ کرپشن کی نذر ہوتا ہے، تو حکومت بجلی ،سوئی گیس اور تیل کی قیمتوں میں بغیر کسی جھجک کے عوام پر بھاری ٹیکس لگا تی ہے۔
یوں غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی کاستّرفیصد حصہ ٹیکس کے ذریعے عوام سے چھیناجاتا ہے۔ یہ ٹیکس غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں سے بھی وصول کئے جاتے ہیں۔ جبکہ وہی عوام کے لئے بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک طرف اگر حکومت کی کمزوری تو دوسری طرف ملک میں جاری کرپشن اور نااہلی نے عوام کا بیڑہ غرق کیا ہے ۔اب جبکہ عوام بری طرح اس دلدل میں پھنس چکے ہیں ،تو وہاں عوام کی قوتِ برداشت بھی جواب دے چکے ہیں ۔تندرست اور توانا جسم ہی توانا ذہن کو تعمیر کرتا ہے۔ اور ذہن ایک مثبت سوچ کو وہ راہ دکھاتاہے جو ملک و قوم کوبہتری کی راہ پر گامزن کرے۔افسوس کہ ہمار امعاشرہ تعلیم اور صحت، دونوں میدانوں میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔
قارئین کرام،کچھ دن پہلے میں سیدو شریف سنٹرل ہسپتال میں ایک رشتہ دار کی تیمارداری کے لئے پہنچا، تو ایمرجنسی وارڈ میں مریض کے ساتھ آنے والے لواحقین کا جمِ غفیر کاؤنٹر پر او پی ڈی کی غرض سے موجود تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ علاج کرنے میں سستی برتننے پر طبی عملے اور مریض کے رشتہ دار کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے۔جس پر طبی عملے نے احتجاجاً دو گھنٹے سے ایمرجنسی کام بند کیا ہوا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق طبی عملے اور وہاں پر تعینات پولیس اہلکاروں نے مریض کے رشتہ دار کوتلخ کلامی کرنے کی وجہ سے اس پر تشدد کیا۔
اس کے بعد مذکورہ رشتہ دار پر ایف آئی آر درج کرکے تھانے منتقل کیا گیا۔میں وہاں پر موجود تھا کہ اتنے میں بلڈ کینسر میں مبتلا معمرشخص عبدلخالق تکلیف کی حالت میں ایمرجنسی علاج کے لئے آیا لیکن وہاں موجود عملے نے اسے بغیر علاج کے واپس بھیج دیا۔میں نے ہسپتال ایم ایس کو کال کرکے انہیں مریضوں کی تکلیف سے آگاہ کیا ،لیکن انہوں نے خود کو بری الذمہ قراد دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں نے کیجولٹی کے معاملات میں مداخلت کی ہے، جس کی وجہ سے کام میں کچھ خلل آیا ۔انہوں نے کہا کہ مداخلت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔پورے ملاکنڈ ڈویژن کے مرکزی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں تین گھنٹے علاج معالجہ کا سلسلہ بند ہوا، کیا یہ معمولی خلل ہے؟
اس واقعہ کے کچھ دن بعد سیدوشریف سینٹرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں بروقت علاج نہ ہونے سے زچہ بچہ جابحق ہوئے، جس پر لواحقین اورلوگوں نے لاش ہسپتال کے سامنے روڈ پر رکھ کر روڈ کو کئی گھنٹے بند کئے رکھا ۔اس دوران سرکاری گاڑی مظاہرین پر سے گزر ی جس کی وجہ سے مظاہرین مشتعل ہوگئے اور سرکاری گاڑی کوالٹادیا۔اتنے بڑی حادثے پر بھی انتظامی افسران کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔اس واقع کے ٹھیک دو دن بعد اسی ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں ایک اور واقعہ پیش آیا۔ جب ڈاکٹروں نے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے معمر مریض کا آپریشن کرنے سے انکار کردیا۔ لواحقین کے ساتھ تلخ کلامی پر نوبت مارپیٹ تک جا پہنچی ،جس کے دوران مریض سٹریچر سے گر گیا اور اس کی ہڈی پسلی ایک ہوگئی۔مذکورہ مریض کو بعد میں علاج کے لئے پشاور منتقل کردیا گیا، جہاں پر اس کا انتقال ہوگیا۔دوسری طرف ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے لواحقین پر ہسپتال میں توڑپھوڑ کے الزام میں ا یف آئی آر درج کردی گئی ہے۔قارئین کرام ، سیدوشریف ہسپتال میں ایسے واقعات روزانہ کی بنیاد پر رونما ہوتے ہیں لیکن بعض لوگ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کو اللہ کی طرف سے حادثہ قرار دیکر اسے بھول جاتے ہیں اور خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ لیکن ایسے واقعات احساس کمتری کو جنم دیتے ہیں جو اکثر فساد کا سبب بنتا ہے ۔
سیدوشریف ہسپتال کی بدترین صورتحال کا ذمہ دار عملہ یا ہسپتال کی انتظامیہ نہیں بلکہ اس کے ذمہ دار ضلع سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے انتظامیہ کے افسران ہیں جو اسی راستے سے ہوتے ہوئے اپنے دفتروں کو تو جاتے ہیں لیکن پانچ منٹ کے لئے ہسپتال کا دورہ کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔انہیں خیال ہی نہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن کے لاکھوں لوگوں کے لئے مختص واحد سینٹرل ہسپتال کا جائزہ لیں۔ انہیں اس میں کوئی دلچسپی نہیں کہ وہاں مریضوں کو کن صورتحال کا سامنا ہے۔ بد حال ہسپتال میں ڈاکٹروں کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ طبی عملے کہ بجائے سوییپر اور کلاس فور ملازمین کے علاوہ پرائیوٹ پیرا میڈیکس لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں لیکن انتظامیہ اس کی کوئی خبر ہی نہیں لیتی۔ شاید یہ انتظامیہ نہیں بلکہ انتظامیہ کے نام پر خانہ پری ہے۔
عوام کا بھی اس میں قصور ہے جو اپنے خون پسینے سے چلنے والے اداروں میں اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں کرتے۔