
آج کل ہمارے معاشرہ میں گداگری ایک باقاعدہ ایک پیشہ بن گئی ہے۔ آپ کو سڑکوں، بازاروں اور گلیوں میں مختلف لوگ بھیک مانگتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس کے علاوہ بھیک مانگنے والوں کی کثیر تعداد ٹرانسپورٹ اڈّوں کے آس پاس اور مسجدوں کے سامنے موجود ہوتی ہے۔ یہ بھیک منگے، لوگوں کو اللہ اور اس کے رسولؐ کا واسطہ دے کر اپنی مجبوری یا پریشانی اس انداز میں بیان کرتے ہیں جس سے لوگ مجبوراً ان کو کچھ نہ کچھ پیسے دے یتے ہیں۔ گداگری کی ایک وجہ تو غربت اور معاشی مجبوری ہے، مگر ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ان میں اکثر بھکاری حضرات مجبور نہیں ہوتے بلکہ وہ خود کو کمال اداکاری سے معذور ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔ ان بھکاری خواتین و حضرات کا نیٹ ورک گروپوں کی صورت میں پھیلا ہوا ہوتا ہے، جو شام کو اپنے سرپرست کو اس کا مطلوبہ حصہ دے یتے ہیں۔ یوں بازاروں، گلیوں اور محلوں میں بظاہر بیچارے نظر آنے والے بھکاری درحقیقت ایک مافیا ہیں۔
ان بھیک منگوں میں صرف مرد حضرات اور خواتین ہی نہیں معصوم بچوں کو بھی استعمال میں لایا جاتا ہے، جس سے نہ صرف یہ بچے تعلیم وہنر سیکھنے سے محروم ہوجاتے ہیں، بلکہ ان میں غیرت اور خودداری بھی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ بچے زیادہ تر محنت اور لگن سے جی چراتے ہیں اور جب جوان ہوتے ہیں، تو بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، یا مختلف جرائم میں ملوث ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ساری زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔
لوگوں سے پیسا اکھٹا کرنے کے علاوہ یہ بھکاری حضرات اکثر جرائم جیسے سمگلنگ، چوری اور ڈکیتی میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کو اغوا کرنے میں بھی اکثر انہی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اغوا شدہ بچوں کو معذور کرکے انہیں دوسرے صوبوں میں بھیک مانگنے بھیجا جاتا ہے۔
بھکاری حضرات زیادہ تر ان دنوں یا مہینوں میں نظر آتے ہیں جو مذہبی اعتبار سے مقدس سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً رمضان المبارک کا مہینا، عیدالفطر اور عید الاضحی وغیرہ۔ اس طرح ثقافتی تہواروں اور دیگر خوشی کے مواقع پر بھی کثیر تعدا د میں بھکاری حضرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔
قارئین، بھیک مانگنا یا اس کے مقصد کے لیے خود کو مجبور یا معذور ظاہر کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے، لیکن بعض ممالک میں اس قانون کا ٹھیک طرح سے نفاذ نہیں ہوسکا ہے، جس میں ہمارا ملک پاکستان بھی شامل ہے۔ اگر اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے، تو دینِ اسلام گداگر ی کی مذمت اور حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ برسبیلِ تذکرہ، ایک دفعہ آپؐ نے صحابہ کرام کو کچھ نصیحتیں ارشاد فرمائیں، جن میں سے ایک نصیحت یہ تھی کہ ’’ کبھی کسی سے کچھ نہ مانگنا!‘‘ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ ’’ رسی سے لکڑیاں باندھ کر اپنے کندھوں پر اُٹھا کر لانا ( یعنی انہیں بیچ کر حلال طریقے سے کمائی کرنا) کسی سے سوال کرنے سے کئی گنا بہتر ہے ۔‘‘
قارئین، اس معاشرتی ناسور کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ غربت اور بے روزگاری کو ختم کیا جائے، جن خواتین اور بچوں کا سرپرست نہیں، ریاست ان کے گزر بسر کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ حکومت بھکاری مافیا سے نمٹنے کے لیے قانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائی کرے، تاکہ اس کا سدباب ہوسکے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ پیشہ ور بھکاریوں کی مدد نہ کریں، بلکہ ان کی حوصلہ شکنی کریں۔ پیشہ ور بھکاریوں کی بجائے ان لوگوں کی مدد کی جائے جو آپ کے خاندان، رشتہ دار، اڑوس پڑوس اور معاشرے میں غربت اور تنگ دستی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہوں، مگر اپنی خودداری کی خاطر کسی سے بھیک نہ مانگتے ہوں۔