
فضیلت کی پگڑی اُس شخص کے سر پر سجتی ہے جو مشق و مہارت کو سیڑھی سمجھ کر اپنی محنت ٹھکانے لگاتا ہے۔ ایسا شخص شوق و لگن کو کامیابی گردانتا ہے۔ وہ خود شناسی سے کام لے کر بھانپ لیتا ہے کہ معمولی تدبیروں سے بڑے کام نہیں ہوتے۔ اس لیے وہ عمدہ تدابیر اختیار کرکے سخت محنت سے کام لیتے ہیں اور نتائج پھر ان کی مرضی کے ہوا کرتے ہیں۔
قارئین کرام! کچھ ایسی ہی خصوصیات کی حامل شخصیت برہ درشخیلہ کے ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زئی کی بھی ہے۔یہ وہ شخصیت ہیں جنھوں نے اپنی مخصوص طرزِ نگارش سے ادبی حلقوں میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا ہے۔ علمی گھرانے کے یہ ہونہار سپوت پشتو زبان و ادب میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ آپ نے اپنے بڑے بھائی وکیل خیرالحکیم حکیم زئی (مشہور مؤرخ و ادیب) سے متاثر ہو کر چمنِ ادب و تاریخ میں قدم رکھا۔ آپ کی یہ آمد نیک شگون ثابت ہوئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی متعدد کتب نے گلستانِ ادب میں شرفِ طباعت حاصل کیا۔ آپ اپنے پُرجوش لہجہ، عالمانہ طرزِ بیان، محققانہ اسلوب اور خداداد صلاحیت کی بنیاد پر کئی تنقیدی و تحقیقی مقالوں کے خالق بھی ہیں۔ ادب کے وسیع و عمیق مطالعہ اور ذخیرۂ الفاظ کے زبردست حافظہ نے آپ کے قلم میں بلا کا زور پیدا کیا ہے۔ جبھی تو متعدد ادیبوں اور شاعروں نے آپ کے زیرِ سایہ اپنے فکر و فن کو جلا بخشی ہے۔ راقم کی طرح کئی ادبی چیلے آپ جیسے مرشد کے زانوئے تلمذ تہہ کرکے بیٹھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زئی کو پڑھا ہو ا خوب یا د رہتا ہے۔ اگرچہ آپ جیسے داناؤں کو بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لیکن جب آپ کی طرح سر پر ادب کا جنون سوار ہو، تو ادب کی پگڈنڈی میں سامنے آنے والی ہر دقت بے معنی ہوجاتی ہے۔ اس وجہ سے تو آپ ادب کے میدان میں وہ نام ہیں، جس کی شہرت کا ڈنکا بجتا ہے۔ یقیناًیہ آپ کی محنت کا پھل ہے جس کی عظمت کے اعتراف میں دو جامعات نے آپ کی تین عدد کتابیں نصاب میں شامل کیں، جو خیبر پختونخوا کے لیے بالعموم اور سوات کے لیے بالخصوص باعثِ صد افتخار ہے۔ شعبۂ پشتو پشاور یونیورسٹی کے بی ایس پروگرام میں شاملِ نصاب کتب میں سے پشتونولی وہ کتا ب ہے جس کے اولین دو ایڈیشن اردو زبان میں شائع ہوئے، تیسرا ایڈیشن سمسور مینگل نے پشتو ترجمہ کرکے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں پشتونوں کے تہذیبی خدوخال، پشتونولی کی اہمیت، زوال کے اسباب اور ترقی کے لیے تجاویز شامل ہیں۔ اس کتاب کی اہمیت کی وجہ سے سمسور مینگل صاحب نے اس کا پشتو ترجمہ ضروری سمجھا۔
دوسری کتاب ’’د پختونخوا لنڈہ مطالعہ‘‘ ہے، جس کے اہم موضوعات میں پختونخوا کا جغرافیہ، روایتی خوراک، لباس، کھیل، ثقافت، موسم، پہاڑ، دریا، پشتونوں کی قدیم تاریخ، پشتونوں کی جدید تاریخ، پختونستان کی تاریخ، پختونخوا میں سکھ حکمرانی، پختونخوا میں انگریز حکمرانی، پختونخوا میں پختون قبیلے، پختونخوا میں لسانی قومیتیں، پختونخوا کے قدرتی وسائل، پختونخوا کا وسیلۂ معیشت، پشتون قوم پرست تحریکیں اور خدائی خدمتگار شامل ہیں۔ یہ دونوں کتابیں اسی یونیورسٹی میں پڑھائی جائیں گی۔
اس طرح پختونخوا مطالعاتی مرکز باچا خان یو نیورسٹی چارسدہ کے بی ایس پروگرام میں آپ کی تحریر شدہ کتب ’’پشتونولی‘‘ اور ’’د اخوند میاں داد دیوان‘‘ کا مقالہ شامل نصاب ہیں۔ پہلی کتاب پشتونولی دونوں یو نیورسٹیوں میں مشترک ہے۔ البتہ ’’د اخوند میاں داد دیوان‘‘ کا مقالہ جو کہ موصوف کے ایم فل کا مقالہ ہے، چارسدہ یونیورسٹی کے لیے مخصوص ہے۔ یہ مقالہ کلاسیکی ادب کا ایک انمول ذخیرہ ہے جس سے نہ صرف دیوان کے شاعر ’’میاں داد‘‘ ملا ارزانی، مرزا خان انصاری، دولت لوانڑی، خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا وغیرہ جیسے کلاسیکی شعرا کی صف میں کھڑے ہوگئے۔ اس طرح مقالے کی فوقیت نے محقق کی شہرت کو بھی بقائے دوام بخشا۔ مقالے میں ثابت کیا گیا ہے کہ میاں داد اخوند درویزہ بابا کے مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے اور ان کے پیروکار تھے۔
موصوف بدرالحکیم حکیم زئی کی تین کتابوں کا کورس میں شامل ہونا پورے سوات کے لیے گویا اعزاز ہے سے کم نہیں۔
قارئین، یاد رہے کہ اشاڑے سوات سے تعلق رکھنے والے ابراہیم خان شبنم کی کتاب ’’خواخی انگور‘‘ ایم اے پشتو کے کورس میں شامل تھی جبکہ مینگورہ کے مرحوم ناول نگار رحیم شاہ رحیمؔ کا ناول ’’ راج گنڑہ‘‘ ابھی تک شاملِ نصاب ہے۔ اس حساب سے حکیم زئی سوات کے تیسرے سپوت ہیں جن کی بہ یک وقت تین کتابیں دو یونیورسٹیوں میں شامل نصاب ہیں۔ ساتھ ہی موصوف کے بڑے بھائی وکیل حکیم زئی کی کتاب ’’ د پختو محاورے‘‘ مقابلے کے امتحانات میں پشتو کتب حوالہ جات کی فہرست میں شامل ہے۔
قارئین، ڈاکٹر بدرالحکیم حکیم زئی المعروف باچا لالا جنھیں پشتو زبان وا دب کی موبائل ڈکشنری کے نا م سے جانا جاتا ہے۔ ایک قادرالکلام ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فصیح البیان مصنف بھی ہیں۔ آپ کی برجستہ تحریر اورشستہ تقریر کو ہر جگہ پذیرائی حاصل ہے۔ اس لیے آپ یونیورسٹی کے اہم پروفیسروں میں شمار ہوتے ہیں۔ نائلہ شمال، میاں دیر نواب اور جوندون جیسے سیکڑوں شاگرد آپ پر ناز کرتے ہیں جبکہ از خود آپ مفتاح الدین صافیؔ صاحب کو اپنا ادبی مرشد اور تخلیقی گرو مانتے ہیں۔ ریڈیو میں بطورِ میزبان اور ٹیلی ویژن میں بطورِ مہمان اپنے علمی تجزیوں سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بناچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’مشال ادبی وثقافتی ٹولنہ‘‘ اور ’’سوات ادبی و ثقافتی تڑون‘‘ کو عرصہ سے آپ جیسی قدآور شخصیت کی خدمات حاصل ہیں۔
ایک ادیب کی حیثیت سے آپ کے افسانوں کی تعریف اسیر مینگل نے اپنی کتاب ’’د پختو افسانے سل کلن بھیر‘‘ میں کی ہے۔ علاوہ ازیں آپ کی تحقیقی کتب پر آپ کو خراجِ تحسین کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ مصنف لیاقت شمعون نے اپنی کتاب ’’اخوند سالک‘‘ کا انتساب آپ کے نام پر کیا ہے۔ حال ہی میں آپ کا ایک ہونہار شاگرد آپ کی زندگی پر کتاب بھی تحریر کر رہا ہے۔ راقم بھی اس ٹوٹی پھوٹی تحریر کے ذریعے آپ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ادنیٰ سی کوشش میں لگا ہے۔
قارئین، اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ علم وا دب کے آسمان پر وہ چمکتا ستارا ہیں جس کی کرنیں کئیوں کے سینوں کو منور کیے ہوئی ہیں۔ دعا ہے کہ پروردگار آپ کو لمبی زندگی دے، تاکہ آپ پختونخوا کی بالعموم اور اپنی جنم بھومی سوات کی بالخصوص خدمت کریں، آمین، یا رب العالمین!