کالم نگاری

درشخیلہ کا موسم

ساجد علی ابوتلتان

✍️ کالم نگار: ساجد علی ابوتلتان

اشتہار / Advertisement

بارش کی سالانہ مقدار کے حوالے سے وادئی سوات کو جن چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، گاؤں درشخیلہ اُن میں کوہستان کے بعد دوسرے حصے میں آتا ہے۔ مرطوب، معتدل آب و ہوا اور شدید بارشوں کے اس علاقے میں وادی کے باقی حصوں سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ جب کہ کوہستان سطحِ سمندر سے زیادہ اُونچائی اور شمال میں ہونے کے باوجود کم بارشوں والا علاقہ ہے۔ جہاں موسمِ گرما میں جب بھی بارش ہوتی ہے، اکثر سیلاب کی شکل اختیار کرتی ہے۔ اس کی زیادہ اونچائی والی چوٹیاں سارا سال برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔ یہی برف اور گلیشئیرز دریائے سوات کو پانی فراہم کرنے کا باعث ہیں۔
اس طرح دوسرا حصہ بھی کوہستان کے قریب ہونے اور بعض اونچی پہاڑوں کی موجودگی میں برف کا مسکن ہے، لیکن یہاں پہاڑوں کی نسبت گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں برف باری کم ہوتی ہے۔ پہاڑوں پر موجود برف بھی اپریل تک ختم ہوجاتی ہے۔ پہاڑوں کے دامن میں ڈھلانی اور میدانی سطح کی مٹی گہری اور درمیانی درجے کی ہے اور بارش کی مقدار بھی نسبتاً زیادہ ہے، اس لیے یہ حصے زرخیز اور گنجان آباد ہیں۔ درشخیلہ جو خطے کے گہرے اور وسطی حصے میں واقع ہے، کے اڑوس پڑوس میں پہاڑوں کا سلسلہ شمالاً جنوباً ہے۔ طبعی اعتبار سے ہندوکش اور ماحولیاتی حوالے سے ہمالیہ کے زیرِ اثر آنے والے ان پہاڑوں کی یہ خوبی ہے کہ موسمِ سرما میں گاؤں شمال اور مغرب سے آنے والی ہواؤں کے زیرِ اثر آتا ہے۔ جب کہ موسم گرما کی مون سون ہوائیں جنوب اور مشرق کی طرف سے بارشیں لے آتی ہیں۔ جس کی وجہ سے بسا اوقات گاؤں میں ژالہ باری بھی ہوتی ہے،جس کے طوفانی اولے یہاں کی کھڑی فصلیں اور پھل تباہ کر دیتے ہیں۔
زمین داری اور کاشت کاری پورے گاؤں کا بنیادی اور روایتی پیشہ ہے۔ چوں کہ زراعت کا زیادہ انحصار موسم اور آب و ہوا پر ہے، اس لیے اس کی مختلف سرگرمیوں کی بنیاد پر بڑھوں نے سال کو چھے موسموں میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ ان میں سب سے پہلے ہم موسمِ بہار جسے مقامی طور پر سپرلے کہتے ہیں، کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ موسم عام طور پر اُس وقت شروع ہوتا ہے جب 13 مارچ کو’’سلہ‘‘ ختم ہوجاتا ہے۔ گلاب، درخت اور جھاڑیوں میں کونپلیں، پتے، پھول اور پھل نکل آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ فصلیں اُگنا اور سرسبز وشاداب ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ ہوا نسبتاً گرم ہوجاتی ہے اور سورج کی کرنوں میں تمازت محسوس ہوتی ہے۔ اس موسم میں لوگ دھوپ سینکتے ہیں اور اُس میں آرام و راحت پاتے ہیں جسے عرف عام میں ’’پیتاؤ‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن دیر تک دھوپ سینکنے سے بدن گرم ہو جاتا ہے اور بندہ سست و کاہل بن جاتا ہے۔ ساتھ ہی اس موسم میں گرج چمک کے ساتھ بارش بھی ہوتی ہے، جو موسمی کیلنڈر کے حساب سے ’’ چیتر‘‘ کہلاتا ہے۔ بارش کے دوران میں ٹھنڈ زیادہ ہوتی ہے۔ بارش میں سردی اور کیچڑ کی وجہ سے کسانوں کو جانوروں کے لیے گھاس اور چارا لانا دشوار ہوجاتا ہے۔
اس کے بعد خشک گرم موسم ’’ہاڑ‘‘ شروع ہو جاتا ہے۔ اس موسم میں ’’بیساکھ‘‘ کے بعد گرمی کا آغاز ہوتا ہے۔ مئی سے 13 جولائی تک کے اس موسم میں بارش کم ہوتی ہے۔ اس دوران میں کسان فصل ربیع کی کٹائی اور فصل خریف کی کاشت کرتا ہے۔ دن انتہائی گرم جب کہ رات کو ہوا چلتی ہے۔ پیاز بھی پک کر اس موسم میں منڈی کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔
تیسرا نم دار گرم موسم ’’پشکال‘‘(بر شگال) کہلاتا ہے۔ جس میں ستمبر کے وسط تک مون سونی بارشیں ہوتی ہیں۔ یہ تیز اور کم وقفے کی ہوتی ہیں۔ جب کبھی بارش کا دورانیہ بڑھتا ہے، تو یہی بارش سیلاب اور طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ دریا میں طغیانی آتی ہے،، جو اکثر کھڑی فصلوں اور زرخیز زمینوں کو تباہ کردیتی ہے۔ اس موسم میں ہوا ناپید ہوجاتی ہے۔ گرمی کی وجہ سے بندہ حبسِ دوام میں مبتلا ہوجاتا ہے جب کہ نمی اور رطوبت کی وجہ سے بیماریاں بھی لاحق ہوجاتی ہیں۔
چوتھے موسم میں بارشیں تھم جاتی ہیں جسے اسو (مہینے کا نام ہے) یا ’’لنڈے ہاڑ‘‘ یا پھر ابتدائی خزان کا موسم بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس موسم میں بھی گرمی شدت اختیار کر جاتی ہے۔ مکئی کی فصل اس موسم میں پک جاتی ہے۔ اس موسم کا دورانیہ مختصر ہوتا ہے۔
پانچواں موسم خزان کا ہے جسے ’’ منے‘‘ کہتے ہیں۔ اس کی ابتدا میں موسم معتدل ہوتا ہے جس کے بعد رفتہ رفتہ سرد ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ دریا کا پانی جو ’’لنڈے ہاڑ‘‘ سے کم ہونا شروع ہوا تھا، اب مزید کم ہوجاتا ہے۔ یہ موسم بھی ہاڑ کی طرح سرد اور خشک ہوتا ہے۔ عام حالت میں نومبر تک بارش نہیں ہوتیں جب کہ کبھی کبھار ’’سوکھڑا‘‘ اور خشک سالی دسمبر اور جنوری کے وسط تک پہنچ جاتی ہے۔ لوگ بارانِ رحمت کے لیے دعائیں مانگتے اور نمازیں پڑھتے ہیں۔
چھٹا موسم جاڑوں کا یا ’’ژمے‘‘ کہلاتا ہے، جو 13 نومبر سے14مارچ تک کے عرصے پر مشتمل ہے۔ اس میں دو مہینے ’’سپینہ سلہ‘‘ اور دو مہینے ’’ تورہ سلہ‘‘ ہے۔ سپینہ سلہ ا ور تورہ سلہ کے وسط میں 24 دن ’’ہٹکئی‘‘ کے ہوتے ہیں جو 31 دسمبر کی رات شروع ہوتے ہیں اور 23جنوری کی رات ختم ہوجاتے ہیں۔ اس طرح سپینہ سلہ کے آخری بارہ دن اور تورہ سلہ کے پہلے بارہ دن ’’ہٹکئی‘‘ کہلاتے ہیں۔ ہٹکوں کے پہلے اور آخری چھے چھے دن ’’کچہ‘‘ (کچا) ہٹکئی جب کہ ان دونوں کے درمیان بارہ دن ’’پخے‘‘ (پکے) ہٹکئی ہوتے ہیں۔
سپینہ سلہ کے آخر میں مدھم اور خاموش بارشیں شروع ہوجاتی ہیں جو ہر جگہ ایک جیسی اور لمبے دورانیے کی ہوتی ہیں۔ جب یہ دورانیہ مزید بڑھتا ہے، تو عرفِ عام میں اسے ’’جڑئی‘‘ کہتے ہیں۔ اس میں غریب انسا ن بہت تنگ آجاتا ہے۔شائد اسی موسم میں احمد فرازؔ صاحب نے یہ شعر پڑھا ہوگا کہ
ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر
اس موسم میں بارش کے ساتھ ساتھ برف باری بھی ہوتی ہے۔ جنوری کا مہینا انتہائی سرد ہوتا ہے جب کہ فروری میں نسبتاً کم سردی ہوتی ہے۔ فروری کے بعد بارشیں تغیر پذیر ہوکر طوفان اور گرج چمک کے ساتھ قدرت کے نقارے بجا بجا کر نئی بہار کی آمد کا اعلان شروع کردیتی ہیں۔ اسی طرح یہ موسمی اور زمین داری کیلنڈر جو زیادہ تر ہندی مہینوں کے تابع ہے، گاؤں میں موسمی تغیرات اور گردشِ ایام کے تحت سال بھر بدلتا رہتا ہے۔
عرصۂ دراز سے گاؤں کے باشندے ان موسموں کے عادی ہوچکے ہیں۔ بزرگ لوگ عام طور پر ستاروں کے حساب سے موسم کی تبدیلی کی نشان دہی کرتے ہیں، جن میں سے بعض بہت زیادہ مہارت رکھتے تھے۔ اب بھی بعض زمین دار اُس حساب سے موسم کا تعین کرتے ہیں، مگر بہت کم۔ کیوں کہ بدلتے ہوئے رجحانات اورجدت پسندی کے باعث لوگ انگریزی کیلنڈر سے آشنا تو ہو رہے ہیں، لیکن اپنے وطن میں ایک عرصہ پہلے رائج کیلنڈر سے ناآشنا ہیں۔
اسی طرح کھیتی باڑی کے کاموں میں مشینی آلات کی دستیابی، پھلوں اور سبزیوں کی کاشت کی طرف رغبت اورروایتی فصلوں سے روگردانی نے پرانے زرعی نظام اور اُس کی ثقافتی سرگرمیوں کو خاصانقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے پرانی ثقافتی سرگرمیاں رفتہ رفتہ ماند پڑنا شروع ہوچکی ہیں۔ لہٰذا لوگوں کی موسمی تغیرات میں دلچسپی بہت کم ہوگئی ہے۔ اس لیے وہ محض اس کی شدت سے بچنے کا سامان کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں موسم بھی ہر سال گلوبل وارمنگ کے باعث تغیر پذیر رہتا ہے۔
قارئین کرام! گاؤں کے اس موسم اور آب و ہوا کا مقامی لوگوں کی ثقافت پر گہرا اثر ہے۔ ان کے سال بھر کی مصروفیات، طرزِ تعمیر، بدلتے رجحانات اور معاشی و معاشرتی زندگی میں کتنی ہی تبدیلی آجائے، یہ گاؤں اپنے محل وقوع کی بنا پر ہمیشہ ایک خاص ماحول کے زیرِ اثر رہے گا۔ کیوں کہ یہی فطرت ہے اور فطرت ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔