فضل محمود روخانکالم

احمد جان احمد مروت کی کتاب ’’د ہائیکو قصہ‘‘

  احمد جان احمد مروت پشتو ادبی دنیا میں ایک معتبر اور جانا پہچانا نام ہیں۔ اُن کے ادبی خدمات قابلِ ستایش ہیں۔ وہ تحقیقی اور تنقیدی مقالے لکھنے میں یکتا ہیں، لیکن آج کل اسی میدان میں ایک علمی، اَدبی، تحقیقی ’’دہائیکو قصہ‘‘ نامی ایک ضخیم کتاب شائع کرکے پشتو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ کیاہے۔ اگرچہ اُن کی ادبی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ اُن کا ایک مختصر سی تحریر میں احاطہ کرنا مشکل ہے۔
ان کی شاعری میں ابھی تک دو کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ وہ دینی اور مذہبی رجحان رکھتے ہیں۔ اُنھوں دینی سکالر ڈاکٹر اسرار احمد (مرحوم) کی تفسیر ’’بیان القرآن‘‘ کو اُردو سے پشتو میں ترجمہ کیا ہے، جو سات جلدوں پر مشتمل ہے۔ ’’ترجمان القرآن‘‘ اس تفسیر کا تفصیلی دیباچہ ہے۔
’’بیان القرآن‘‘ کی پہلی جلد شائع ہوچکی ہے۔ باقی جلدیں چھپائی کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔
احمد جان احمدمروت ایک نام ور مترجم ہیں۔ اُنھوں نے طاہر کلاچوی، رحمت اللہ درد، عبدالرحیم مجذوب، منتظر بیٹنی اور افگار بخاری کی شاعری کے ترجمے پشتو سے انگریزی میں منتقل کیے ہیں۔”Dawn of Desert” کے نام سے اسے کتابی صورت دی ہے، جو جلد زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر مارکیٹ میں دست یاب ہونے والی ہے۔
احمد جان احمدمروت دیگر ادبی اصناف میں لکھنے میں کافی تجربہ اور ریاضت رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے ’’دَ ہائیکو قصہ‘‘ لکھ کر اور اسے کتابی صورت میں اپنے قارئین کے ہاتھوں میں پہنچا کر ایک مفید ادبی خدمت انجام دی ہے۔ پشتو ادب میں ہائیکو صنف پر علمی و تحقیقی کام نہیں ہوا تھا۔
دوسری بات یہ کہ اُنھوں نے اس پر تحقیق کرکے ممکن حد تک خود کویک طرفہ طور پر محقق کی شکل میں منوایا ہے۔
تیسری بات یہ کہ اُن کا اس میدان میں ہر دعوا سند کی حیثیت رکھتا ہے ۔
چوتھی بات یہ کہ محترم احمد جان احمد مروت جو ادبی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں، اس کتاب میں پہلی بار ڈھیر ساری نئی باتیں لکھ کر اور ڈھیر ساری غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کافی کامیاب ہوئے ہیں۔
پانچویں بات یہ کہ تحقیقی زبان و بیاں سادہ عام فہم ہے اور اس میں سمندر جیسی روانی ہے۔ ان کا اِبلاغ موثر ہے۔
ان ساری خوبیوں کو اگر ہم مد نظر رکھیں، تو پھر ہم احمد جان احمدمروت کی اس کتاب کی اِفادیت سمجھ سکتے ہیں اور ضرورت سے بھی آگاہ ہوسکتے ہیں۔
  محترم احمد جان احمدمروت نے اپنی اس کتاب کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں اُنھوں نے یہ آشکارا کیا ہے کہ ہائیکو ہے کیا اور ہائیکو اور سینریو فرق کیا ہے؟ ( ہائیکو کی طرح کی اور اسی کے اصولوں پر ایسی نظم جس میں موضوع کی پابندی نہ ہو، اُسے ’’سینریو‘‘ کہا جائے گا۔ دوسرے الفاظ میں ایسا ہائیکو جس میں موضوع فطرت نہ ہو، اُسے سینریو کہیں گے، مدیر)
اس بحث میں اُنھوں نے ہائیکو کی ہیئت، مصرعے، بحر اور دیگر نِکات پر سیر حاصل گفت گو کی ہے۔ اس بحث کے بعد یائیکو کے تاریخی پس منظرکو اُجاگر کیاہے۔ اُردو میں ہائیکو کے پس منظر، پشتومیں ہائیکو کا ظہور اور سارا منظر نامہ ایک دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔ اس مناسبت سے اُنھوں نے تخلیق کار کی ذمے داری، نقاد کی ذمے داری، ایک مورخ کی ذمے داری کو نمایاں کرنے کے کوشش کی ہے…… اور اس طرح جاپانی اور گلوبل ویلج کے ادب کو مشقِ سخن بنایا ہے ۔
انھوں نے پشتو ادب میں ہائیکو کے موضوعات، ہائیکو کی آہنگ، ہائیکو کی ہیئت اور اس کے ساتھ ساتھ دوسری زبانوں کے علاوہ پشتو میں ہائیکو کے ترجموں کاجائزہ بھی لیا ہے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں