فضل رازق شہابکالم

سوات کی تاریخ مسخ ہونے سے کیسے بچائی جائے؟

  مجھے اپنی کم مائیگی کا اور ناقص تعلیم کا اور عمر کے تقاضوں کا احساس ہے۔کبھی میری رائے یا تبصرے ناقص بھی ہوسکتے ہیں…… اور یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مثال کے طور پر لارڈ ارون کے دورۂ سوات کے مقاصد اور تاریخ کے بارے میں میرا تبصرہ ایک لحاظ سے غلط تھا۔
بدقسمتی سے جن حضرات کے پاس معلومات کے خزینے ہیں، دستاویزی ثبوت اور تصاویر ہیں، اُن کی ذمے داری بنتی ہے کہ ان کو کتابی شکل میں یا پی ڈی ایف میں اور یا ایمیزان پر فروخت کے لیے پیش کریں۔
میرا خیال ہے کہ ہم سوات کو ایک الگ شناخت رکھنے والے خطے کی حیثیت سے ڈیل کریں۔ اس کے بارے میں اتنا ہی کتب کا ذخیرہ ہونا چاہیے جتنا افغانستان کے بارے میں ہے، یا کسی بھی الگ شناخت رکھنے والے ملک کے بارے میں موجود ہے اور مزید لکھا جارہا ہے۔
اس سلسلے میں ہم کو اتنے سکالر تیار کرنے ہیں کہ کسی بیرونی سورس کی حاجت نہ رہے۔ یہ سکالر بھی ایسے ہونے چاہئیں جو اپنے جذبات اور احساسات کو بھی اُجاگر کریں اور مخالفانہ تجزیے اور تبصرے بھی قاری کے نوٹس میں لائیں۔
سوات کو بہ طور تحقیقی موضوع منتخب کرنے کا آغاز بہت دیر میں ہوا۔ ورنہ ہمیں راورٹی، اولف کیرو، پلوڈن اور فریڈرک بارتھ وغیرہ پر اتنا انحصار نہ کرنا پڑتا۔ اس سلسلے میں پی ایچ ڈی کی سطح پر ڈاکٹر سلطان روم صاحب نے ایک متوازن ریسرچ پر مشتمل جو کتاب تحریر کی ہے، اُس کو ہم دوسروں کے لیے مشعلِ راہ سمجھتے ہیں۔ اگر چہ ایک آدھ مقامات پر بعض قارئین کا تاثر مختلف بھی ہوسکتا ہے۔
ان کے دیگر علمی تصانیف جو سوات ہی کے بارے میں انگریزی زبان میں لکھی گئی ہیں اور اکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے نہایت خوب صورت گٹ اپ کے ساتھ شائع کی ہیں، ’’سواتیالوجی‘‘ میں گراں قدر اضافہ ہیں۔
آج کل نوجوان ریسرچ سکالر جلال الدین صاحب اس سلسلے میں زبردست عرق ریزی اور محنت شاقہ سے کام لے رہے ہیں۔ اِن شاء اللہ اُن کی آنے والی تصانیف تاریخ کے طلبہ کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوں گی۔
مَیں تاریخ کے طالب علموں سے درخواست کروں گا کہ وہ اُوٹ پٹانگ مجھ جیسے “Mediocre” کالم نگاروں یا فیس بکی لکھاریوں پر اپنا وقت ضائع نہ کریں،بلکہ مستند مورخین اور محققین سے رہنمائی حاصل کریں۔
یہ تحریر شاید آپ پڑھیں یا نہ پڑھیں، مگر میں کل سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر ایک پوسٹ پر بعض حضرات کے تبصرے پڑھ کر بہت پریشان ہوگیا کہ ہمارے نوجوان اپنی تاریخ سے دل چسپی تو رکھتے ہیں، مگر سنی سنائی باتوں پر اور کچھ اُوٹ پٹانگ اخباری کالموں سے متاثر ہوکر متعصب ہوجاتے ہیں۔ مذکورہ تبصرہ تو خاصامضحکہ خیز تھا، جس میں سیدو غوث کے بارے میں مغلوں کے “Payroll” پر ہونے کا بھونڈا الزام لگایا گیا تھا۔ حالاں کہ سیدو بابا کو جب عروج حاصل تھا، تو مغلوں کا نام مٹنے والاتھا اور انگریز پورے برصغیر پر چھا رہے تھے۔
موجودہ پختونخوا پر سکھوں کا سورج بھی غروب ہونے والا تھا۔ البتہ حضرت پیر بابا کے بارے میں اس قسم کے تصورات پھیل رہے تھے۔ اُن کے اور سیدو بابا کے درمیان کم از کم تین صدیوں کا فاصلہ ہے، تو سیدو بابا اور مغلوں کے درمیان کسی قسم کا رشتہ ناممکن ہے۔
کتابیں، مضامین اور کالم تو ہر کوئی لکھے گا، مگر صحیح، غیر جانب دار اور مسلمہ محققین اور اساتذہ ہی آپ کی رہنمائی کرسکیں گے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں