کالم نگاری

ملا اور ملائیت

ساجد علی ابوتلتان

✍️ کالم نگار: ساجد علی ابوتلتان

اشتہار / Advertisement

دنیا میں ہر مذہب کے ماننے والے اپنے روحانی پیشواؤں کے نام رکھتے ہیں۔ اس لیے دین اسلام میں دیگر تمام روحانی ناموں کی طرح ’’ملا‘‘ بھی مروج ہے جس کے تناظر میں تجزیہ ملاحظہ کیا جائے۔
لفظ ملا بلحاظ لغت نہایت اِملا کرنے والے عالم فاضل کو کہتے ہیں، جس کاکام نماز پڑھانا اور مسجد میں رہ کر بچوں کو پڑھانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدرسی، معلمی اور پڑھانے کو ملاگری سے منسوب کیا گیا ہے۔ محمدالدین فوق نے تاریخِ اقوام کشمیر میں تاریخِ حسن کے مصنف کے حوالے سے ملاؤں کی چار اقسام لکھی ہیں:’’ ایک ملائے مسجد جو امامت کراتے، لڑکے پڑھاتے او مساجد کی آمدنیوں پر گزارہ کرتے ہیں۔ دوسرے گورکن، تیسرے غسال جو میت کو نہلاتے ہیں۔ چوتھے ایسے لوگ بھی ہیں، جو زمین داری کرتے ہیں۔‘‘
پہلی قسم اعلیٰ پائے کے علما اور قاضیوں پر مشتمل ہے، جو اپنے وقتوں میں دِین اسلام کے علمبردار رہ چکے ہیں اور جن کے علمی کارنامے اور قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فتاویٰ اسلامیہ کی تدوین و تکمیل اور اشاعتِ علوم دینیہ میں حصہ لینے کی وجہ سے مولوی، قاضی، مفتی اور اَخون، ملاؤں کی پہلی قسم میں آتے ہیں۔ دوسری قسم گورکن ہے جن کے کام کے بارے میں مجھے معلوم نہیں ہے۔ البتہ سننے میں آیا ہے کہ میت کو نہلانے کاکام اس قسم کے ملا کے ذمہ تھا۔ جنہیں لوگ غاسل کہتے تھے، جو کہ اب ختم ہوگیا ہے۔ بڑے بزرگ کہتے تھے کہ اس کام کے لیے انہیں اُجرت میں غلہ دیا جاتا تھا۔ غلہ اوڈی سے پیمانہ کرکے دیا جاتا تھا۔ اس قسم کے ملاؤں کو ’’زیڑ سادر‘‘ پیلی چادر والے ملا کہتے تھے۔ یہ بھی روایت ہے کہ بعض ان میں سے کھلیان میں غلہ ناپتے تھے، جسے لگن یا اوڈی سے پیمانہ کرتے تھے، جنہیں لو گ ’’اڑہ مار‘‘ کہتے تھے۔
چوتھی قسم وہ ہے جو زمینداری سے وابستہ ہے۔ ہمارے ہاں کے اکثر صاحبزادگان، قاضیان، اخون زادگان اور میاں گان وغیرہ اس قبیل میں آتے ہیں۔ برہ اور کوزہ درشخیلہ کے صاحبزادگان، خریڑئی چم کے فاروقیان اور رونیال کے قاضیان وغیرہ اس کی مثال ہیں۔ البتہ سادات ایک الگ گوت ہے۔ اس بحث سے یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ مولویت، ملاگری اور مولویوں کا پیشہ نسبی نہیں بلکہ حسبی ہے۔ اگرچہ ہمارے ہاں ایک روایت مشہور ہے کہ گوجر قوم میں مہذب شخص یا خاندان کو صاحبزادہ یا صاحبزادگان کہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی طبقے اور گوت کا شخص علومِ اسلامیہ کے حصول اور اپنی خداداد صلاحیت کی بنا پر یہ منصب حاصل کر سکتا ہے۔ جس طرح قاضی کوئی ذات یا گوت نہیں بلکہ ایک عہدے کا نام ہے، اسی طرح پیر اور پیرزادہ بھی کسی خاص فرقہ یا قوم کا نام نہیں ہے۔ حاصلِ مطلب یہ کہ اخوند یا ملا بھی کسی خاص قوم کا نام نہیں ہے۔ میک موہن بھی ملاؤں کی چار اقسام بتا تے ہیں۔
الف:۔ گاؤں کا ملا جو سادہ زندگی گزارتا ہے۔
ب:۔ پیش امام جس کی نسبت ایک خاص مسجد سے کی جاتی ہے۔
ج:۔ علاج معالجے کے لیے کسی مشہور زیارت کا مجاور۔
د:۔ کرامات رکھنے والے بزرگ جن کے ہزاروں مرید ہوتے ہیں۔
میک موہن کہتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کا زیادہ تر تعلق کسی مذہبی نسل یا ذات سے ہو بلکہ ان کا اثر اُن کے کام کی وجہ سے بڑھتا ہے۔ اس طبقے کے بعض بہت زیادہ کامیاب لوگ عام لوگوں کی صفوں سے نکلے ہیں۔ ملاؤں کے لئے لفظ مولوی بمعنی پابندِ شریعت اور مولانا بہ لغت ہمارا آقا اور بطورِ اعزازی لقب بھی مستعمل ہے۔ لفظ علامہ بھی جو لغت کے اعتبار سے نہایت عالم فاضل عورت کوکہتے ہیں اور بحالتِ اردو مذکر دانا اور فاضل آدمی کو، اس زمرے میں آتا ہے۔
ملا سے متعلق خیرالحکیم حکیم زئی ایک روایت عینی شاہد ہوکر نقل کرتے ہیں کہ ایک بار سندھی، بلوچ اور پشتون فرنٹ کا اجلاس ممتاز بھٹو ہاؤس کراچی میں ہو رہا تھا۔ جہاں میزبان نے مولانا عبیداللہ بھٹو صدر جمعیت علمائے سندھ سے دریافت کیاکہ ملا کا مطلب کیا ہے؟ مولانا نے فوراً جواب دیا، دراصل لفظ لا ما بگڑ کر ملا بن گیا ہے، حالاں کہ لاما تبت کے بدھ پیشواؤں کا لقب ہے جس کا اصل دلائے لاما ہے۔ اس طرح اگر ہم پیر، شاہ، بابا، اَخون، صاحب، میاں، صوفی وشیخ (جو کہ یہ بھی کسی نہ کسی طرح ملا سے متعلق ہیں) کی تشریح کریں، تو ہم اصل موضوع سے ہٹ جائیں گے۔
لفظ ملا اُن عظیم شخصیات کے ناموں کا سابقہ رہا ہے، جنھوں نے اپنی ذہانت اور علمی استعداد کی بنا پر نام پیدا کیا۔ جیسا کہ ابوالحسن ملقب ’’ملا دوپیازہ‘‘ دربارِ اکبر کا خوش طبع ظریف شخص تھا۔ اکبر ہی کے وزیراعظم ابوالفضل اور عالمگیر کے اُستاد ’’ملا جیون جو نپوری‘‘ اور حضرت مجدد الف ثانی سرہندی کے ہم درس عبدالحکیم سیالکوٹی یہ سب لوگ ملا ہی کہلاتے تھے۔ نواب سعداللہ خان وزیر شاہجہان بھی جب تک وزارت پر نہ پہنچا تھا، ملا ہی کہلاتا تھا۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں مختلف تحریکوں کے سرگرم رکن بھی ملا ہی تھے۔ سوریوں کے زمانے میں مہدویت تحریک کے سید محمد، اکبر کے دین الٰہی کے مخالف مجدد الف ثانی، روخانی تحریک کے ملا ارزانی، امیر امان اللہ خان (کابل) کے نظامنامے کے مخالف نجم الدین بموسوم گوڈ ملا، انگریزوں کے مخالف ہڈی ملا، ملامستان (سرتور فقیر)، مانکی ملا اور طالبان کے ملا عمر مختلف تحریکوں کی سرکردہ شخصیات تھے۔ ملا وجہی، مولانا الطاف حسین ، مولو ی عبدالحق اور مولانا عبدالقادر خان وغیرہ جیسی عظیم شخصیات شعر و ادب سے وابستہ تھے۔ اس طرح مولانائے روم، شیخ سعدی، سید جماالدین افغانی، مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی وغیرہ جیسے عالمی شہرت یافتہ ہستیوں کی خدمات کی ایک دنیا قائل ہے۔
پشتونوں میں بھی ملاؤں کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ کیوں کہ ان میں روحانی پیشوا یا امام کی پیروی کرنا لازم تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پیر روخان، اخوند درویزہ، پیر بابا اور صاحب سوات جیسی شخصیات ان کی سرزمین پر بہت زیادہ مشہور ہوئے تھے۔ موجودہ زمانے میں بھی یہاں علما کی قدردانی کم نہیں ہوئی، جس کی مثال یہاں مذہبی تحریکوں کی کامیابی اور الیکشن میں مذہبی سیاسی پارٹیوں کی زیادہ سے زیادہ سیٹیں لینا ہے۔ اس لیے یہ شعر ان پر صادق آتا ہے کہ
افغانیوں کی غیرت کا ہے یہی علاج
ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
الغرض، ملا کا معاشرے پر اس قدر اثر ہے کہ بے شمار کہاوتیں اور ضرب الامثال ان سے منسوب ہیں۔ مثلاً: ’’دو ملاؤں میں مرغی حرام‘‘، ’’ملا کی دوڑ مسجد تک‘‘ اور ’’ملا کی ماری حلال‘‘ وغیرہ۔ لیکن ان سب کے باوجود ہم ملا کے مثبت کردار کو فراموش نہیں کرسکتے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم کسی ایک شخص کی غلطی کو سب کی غلطی گردانتے ہیں۔ خاص کر بعض شعرا جو ملا اور ملائیت کے خلاف ہاتھ دھوکر پیچھے پڑے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بعض افراد ملا کو تحقیر سے ملہ، ملانہ یا مُولانا کہتے ہیں۔ اس ضمن میں محمد الدین فوق فرماتے ہیں:
’’ انقلاب روزگار کی بدولت آج مُلا کا لفظ ہر کس و ناکس کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس غریب کا تلفظ بھی بگاڑ کر مُلا سے ملہ کردیا گیا ہے۔‘‘
عجیب اتفاق ہے کہ ملہ، پنڈتوں کی ایک قوم کو بھی کہتے ہیں۔ مثلاً پنڈت جگت نرائن ملہ ، جب کہThe Principles of Mohomaden LAW 1887 کے مصنف سر دینشاہ فرونجی نے بھی اپنے نام کا لاحقہ ملا لکھا ہے، جو اپنے زمانے کے مشہور غیر مسلم قانون دان تھے۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔