کالم نگاری

آخری امید

احمد سعید 

✍️ کالم نگار: احمد سعید 

اشتہار / Advertisement

اس وقت جب ہم قومی منظر نامے پر نظر ڈالتے ہیں، تو جو صورتحال نظر آتی ہے۔ وہ خاصی مایوس کن اور تشویش ناک ہے۔ ملک میں اقتدار کی باریاں لینے والی دو بڑی پارٹیاں اس وقت کرپشن، بد عنوانی اور بیڈ گورننس کی وجہ سے زیرِ احتساب ہیں۔ احتساب کا ادارہ اس کے احتساب کا انداز اور طریقِ کار بجائے خود ایک عجیب و غریب اور پیچیدہ عنوان ہے، لیکن بات قومی قیادت کی ہو رہی ہے۔ دونوں بڑی پارٹیاں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سر سے پاؤں تک کرپشن اور بد عنوانی کی دلدل میں دھنس چکی ہیں اور نظربظاہر ان کی ملکی قیادت و رہنمائی کا دور اختتام پذیر ہے، لیکن بہر حال ایک حقیقت کو نظر انداز کرنا بھی مشکل ہے اور وہ یہ کہ یہ پاکستان ہے۔ یہاں سب کچھ ممکن ہے۔ یہاں کوئی بھی انہونی ہو سکتی ہے۔ بادشاہ گر اور مقتدر اندر بھی موجودہیں اور باہر سے بھی حکمرانوں کی در آمد ہماری قومی تاریخ کی نمایاں حقیقت ہے، لیکن اس وقت جو صورت حال ہے، اس کے مطابق دونوں بڑی پارٹیاں اقتدار کے اس مقابلے سے آوٹ ہو چکی ہیں۔ تیسری بڑی اور ملک گیر پارٹی تحریک انصاف اس وقت اقتدار میں ہے اور پاکستان جیسے پیچیدہ ملک پر حکمرانی کے گر سیکھ رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ بھی یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کہ اس جماعت میں بھی وہ سارے موقع پرست عیار و چالاک ، گھاٹ گھاٹ کا پانی پئے ہوئے مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں اقتدار و اختیار کے مزے لوٹنے والے بدعنوان اور کرپشن زدہ لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اور صرف اس وجہ سے احتساب کے عتاب اور حساب سے بچے ہوئے ہیں کہ مقتدر پارٹی کی پناہ میں ہیں۔
تحریکِ انصاف کو قوم نے بھاری اور مکمل مینڈیٹ نہیں دیا۔ صرف کے پی کے کی حد تک اس کو صوبائی نمائندگی حاصل ہے۔ پنجاب میں بھی نہایت کمزور عددی اکثریت پر ان کی حکومت قائم ہے۔ بلوچستان اور سندھ میں تو ان کی نمائندگی برائے نام ہے۔ مرکز میں بھی ان کی حکومت ق لیگ ، مینگل گروپ اور ایم کیوایم کی حمایت سے قائم ہے۔ اس وقت بھی مینگل گروپ اپنے مطالبات اور خواہشات کی عدم تکمیل پر تقریباً حکومت کی حمایت چھوڑ چکی ہے۔ ق لیگ کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں اور ان کو خوش اور راضی کرنے کے لیے حکومتی سیٹ اَپ میں گنجائش پیدا کی جا رہی ہے، لیکن دونوں صورتوں میں چوہدری صاحبان خطر ناک ہیں۔ اگر ایڈ جسٹ ہوتے ہیں، تو تحریک انصاف کے لیے دردِ سر ، پریشانیوں کے باعث اور گڈ گورننس میں رکاوٹ بنیں گے اور باہر جانے کی صورت میں تحریکِ انصاف اقتدار و اختیار سے ہی محروم ہو سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کی شمولیت بھی تحریک انصاف کے لیے خطرناک، باعثِ بدنامی اور تمام دعووں اور نعروں کے لیے سم قاتل ہے۔ اگر ان کے یہ تمام نا جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے،تو بہرحال سودا بازی، لین دین اور چالبازی میں تو ایم کیو ایم ایک تابندہ اور درخشاں تاریخ رکھتی ہے۔
اس وقت اقتدار تحریکِ انصاف کے لیے ایک چچھوندر کی طرح ہے، جو گلے میں پھنس چکی ہے۔ نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں۔ پوری ٹیم نئے افراد پر مشتمل ہے۔ حکومت کا تجربہ نہیں۔ اب حکومت میں تو کنٹینر کے نعرے نہیں لگائے جا سکتے اور نہ بے بنیاد دعوے کیے جا سکتے ہیں۔ قومی خزانہ خالی ہے اور جانے والوں نے خالی کیا ہے۔ کرپشن عام ہے۔ ہر ادارے میں کروڑوں نہیں اربوں کے سکینڈلز ہیں۔ واپڈا اگر خسارے میں ہے، لوڈ شیڈنگ ہے، تو واپڈا اور اس کے تمام کرتا دھرتا اور ذمہ داران خود اس میں ملوث ہیں۔ ایف بی آر اگر ریوینیو ہدف پورا نہیں کرتا،تو اس میں خود یہ ادارہ اور اس کے ملازمین ملوث ہیں۔ اسی طرح سٹیل مل، ریلوے اور پی آئی اے تمام ادارے خود اپنے ذمہ داروں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہیں، لیکن عمران خان کی حکمت عملی یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ان اداروں میں کرپشن اور بدعنوانی ختم کرکے اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں۔ وہ اس بھاری پتھر کو اٹھانے کی ہمت چھوڑ بیٹھے۔ اور غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے در در اور ملک ملک کاسۂ گدائی لے کر گھوم رہے ہیں۔ کوئی اگر ایک ارب ڈالر جھولی میں ڈال دے، تو عمران خان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ دبئی میں منی لانڈرنگ کے دو سو ارب ڈالر کا بڑا چرچا تھا۔ وہ پس منظر میں چلا گیا۔ سوئس بینکوں میں پڑے اربوں ڈالروں کو واپس لانے کا بڑا شو ر شرابا تھا۔ وہ بات بھی فراموش ہو گئی۔ صرف چائینہ کے ساتھ جو تجارتی عدم توازن موجود ہے، اگر ان میں صلاحیت اور جرأ ت ہوتی، تو اس عدم توازن کو ختم کرکے درآمدی خسارہ ختم کیا جا سکتا تھا۔ اگر سی پیک کے بہت بڑے قومی مفادات اور قومی خود مختاری سے جڑے مسئلے کو قوم کے سامنے تفصیل کے ساتھ منظر عام پر لایا جاتا تو بھی بہتر تھا۔ سوالات یہ ہیں کہ گوادر بندرگاہ کو کن شرائط پر چائینہ کی تحویل میں دیا گیا ہے؟ اس بندرگاہ کے استعمال سے چائینہ کو کتنا فائدہ ہے اور ہمارا مفا د کس قدر ہے؟ آپ خود کہتے ہیں کہ بین الاقوامی تعلقا ت باہمی مفادات کے تحت تشکیل پاتے ہیں۔ اگر ایسا ہے، تو آپ چائینہ کے ساتھ یہ حساب کتاب کیوں نہیں کرتے کہ سی پیک چائینہ کے لیے مختصر اور آسان راستے کے ذریعے کتنی بچت ہوگی؟ تو کیا اسی بچت اور فائدے کے تناسب سے ہمارا حصہ اس میں ہونا چاہیے یا نہیں؟ آپ کے پیشرو پرویز مشرف، نواز اور زرداری نے امریکی دباو میں آکر اپنی زمین، اپنی فضائیں اور اپنے تمام وسائل اس کی گود میں ڈال کر برادرِ اسلامی ملک افغانستان کے خلاف ننگی جارحیت میں اس کا ساتھ دیا اور معاوضے میں کیا پایا؟ صرف ڈو مور کا مطالبہ، ہر وقت ڈو مور کا مطالبہ بلکہ حکم۔ اب آپ ایک اور عالمی طاقت چائینہ کو اپنے ملک میں طویل راستہ، بندرگاہ اور دیگر وسائل صرف دو تین ارب ڈالر کے عوض فروخت کر رہے ہیں۔ قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند۔
ملک میں اس وقت امن و امان، بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ، بدنظمی اور بدانتظامی کی جو کیفیت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت عملاً ملک میں موجود نہیں۔ صرف اخباری ہیڈ لائینز، الیکٹرانک میڈیا اور حکومتی ایوانوں میں موجود ہے۔ اس وجہ سے اس کی ناکامی اور نااہلی ثابت ہونے میں کوئی شک ہے نہ ریب۔ یہ بھان متی کا کنبہ منتشر ہونے والا ہے اور کاٹھ کی یہ ہنڈیا بیچ چوراہے ٹوٹنے والی ہے۔ چھے ماہ کے دورانئے میں اس پارٹی نے قوم کو عملاًمایوس اور دل شکستہ کر دیا ہے۔ قوم کو بند گلی میں پہنچا دیا ہے۔ جہاں سے واپسی کا راستہ صرف یہ ہے کہ قوم کو ایک بار پھر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا موقع دیا جائے۔ علاقائی اور مقامی پارٹیوں کو چھوڑ کر قوم کو ایک مخلص اور با صلاحیت قومی قیاد ت کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی پورا کرسکتی ہے۔ جماعت اسلامی ایک ملک گیر قومی پارٹی ہے۔ اسلامی جذبے سے سرشار نوجوانوں کی ایک بڑی اکثریت اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی سے اس کا دامن پاک ہے۔ پاکستان میں اگر ایک منظم ، وِژنری اور ملک و قوم کے ساتھ مخلص جماعت کا کوئی تصور کیا جاسکتا ہے، تو اس معیار پر صرف اور صر ف جماعت اسلامی ہی پورا اترتی ہے۔ اس وقت جماعت اسلامی الخدمت کے نام سے جو رفاہی، فلاحی، خیراتی اور خدمتِ خلق کا نیٹ ورک چلا رہی ہے۔ وہ اس کی قیادت کے لیے ایک اعزاز بھی ہے اورقابلِ فخر بھی۔ اس جماعت نے ہر مرحلے ہر قومی سانحے اور ہر قومی ابتلا و آزمائش میں قوم کی خدمت کرکے اپنی اہلیت و صلاحیت ثابت کردی ہے۔ اس جماعت کے افراد ایک قومی اثاثہ ہیں۔ اس جماعت نے پورے 71 سال میں اس قوم سے کچھ لیا نہیں، بلکہ ہمیشہ دیا ہے۔
پاکستان اپنی جغرافیائی محلِ و قوع، بائیس کروڑ آبادی، آٹھ لاکھ فوج، ایٹمی طاقت، معدنی وسائل اور خزانوں سے مالامال وسیع و عریض زرعی رقبے اور ہر قسم کے وسائل رکھنے والا ملک ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ایک ایسی مسلمان ایمانی جذبے سے سرشار قوم آباد ہے جس نے اپنی جدو جہد، محنت اور قربانیوں سے یہ ملک حاصل کیا ہے۔ ہمارے دشمن، ہماری آبادی اور خصوصاً نوجوان نسل پر مشتمل آبادی اور اس میں پوشیدہ صلاحیتوں سے خوف زدہ اور ہراساں ہے۔ ان تمام باطل طاغوتی قوتوں کی یہ خواہش کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ ان کے تمام اقدامات سے یہ دشمنی، سازشیں، حربے اور چالیں نمایاں اور عیاں ہیں کہ اس قوم کو منتشر و متفرق رکھا جائے۔ مذہبی فرقہ واریت ہو، لسانی، نسلی،جغرافیائی اور تہذیبی و ثقافتی تقسیم کو وہ اپنے حربوں سے پروان چڑھا رہی ہیں۔ نوجوانوں مین فحاشی و عریانی اور مغربی تہذیب و ثقافت کے ذریعے گمراہ کررہی ہے۔ اپنے تربیت یافتہ نام نہاد مسلمان ایجنٹوں کو اقتدار و اختیار کے ذریعے مسلم عوام پر مسلط رکھنے کی پیہم سازشیں کررہی ہیں۔ ایسے میں برادرانِ وطن کے لیے کیا یہ ضروری نہیں کہ دشمن کی سازشوں کو سمجھیں، اپنے دین اور عقیدے پر اتحاد و اتفاق کے ذریعے ان سازشوں کو ناکام بنائیں اور اس مملکتِ خداداد کی حفاظت کریں، جو ہماری اور ہماری آئندہ نسلوں کی آخری پناہ گاہ ہے۔ ہمارا دشمن اتنا کینہ پرور ، سفاک، بے رحم اور انسانیت کے اعلیٰ اقدار سے اتنا ناآشنا ہے کہ اگر ہم صرف نام کے مسلمان بھی بن جائیں، تو وہ ہمارا مسلم نام بھی برداشت نہیں کرتا۔ بوسنیا، چیچنیا، میانمار، عراق و افغانستان میں ہم اس کا یہ انسانیت کش کردار دیکھ چکے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اس دشمن سے بچنے کے لیے اپنے تمام اوزار و ہتھیار اور وسائل یکجا کرنے ہوں گے۔ اتحاد و اتفاق کے ذریعے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔