کالم نگاری

ختم نبوت (آخری حصہ)

روح الامین نایاب

✍️ کالم نگار: روح الامین نایاب

اشتہار / Advertisement

جھوٹا نبی مرزا غلام احمد وقتاً فوقتاً عجیب و غریب دعوے کرتا رہتا تھا۔ اُس کے بارے میں تفصیل سے لکھتے ہوئے بریالے صاحب مرزا کا سارا کچا چھٹا کھول دیتے ہیں۔ ’’مرحلہ وار دعوؤں، ولی، مجدد، مہدی، محدث، مسیح موعود اور آخر میں نبوت کے اعلان کے وقت مرزا کے تین شہروں قادیان، امرت سر اور لاہور سے مکمل رابطہ اور آنا جانا رہتا تھا۔ 1908 ء میں وفات کے وقت مرزا کی عمر 67 سال تھی جب کہ 80 سال زندگی گزارنے کی پیشین گوئی بھی غلط ثابت ہوئی۔ قادیان میں اپنے قبرستان کو بہشتی کا نام دیا اور اپنے خاندان کی عورتوں کو پیغمبرِ اقدس کی امہاۃ المومنین کا لقب دے دیا تھا۔ اپنے مسلک کے اقوال اور کہانیوں کو حدیث کے اسلوب میں (فلاں نے فلاں سے روایت کی ہے) قصے کہانیاں گھڑ لی گئیں اور اپنے مریدوں کو صحابی کہنا شروع کیا۔‘‘
عبدالکریم بریالے اپنی کتاب ’’ختمِ نبوت‘‘ میں جگہ جگہ انگریز سرکار کا مذہبی تفرقہ بازی کے حوالوں سے ذکر کرتے ہیں کہ دراصل اپنے سیاسی تسلط اور اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ہندوستان کے اندر مذہبی جذبات کو بھڑکاتے رہتے تھے۔ وہ اس سلسلے میں حقائق کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اُس وقت کے مشہور علمائے کرام کی خدمات کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’عثمانیہ سلطنت کمزور ہوچکی تھی اس لیے سنی اور شیعہ مسلمانوں کے اندر نئے مذاہب اور متنبیوں کو تحفظ دینے کے لیے یورپ کے قابضین اپنی تہذیب کو مسلط کرچکے تھے۔ بیسویں صدی کی ابتدا تک ان کے تخلیق کردہ مسالک کے پنپنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔ سیاسی بیداری اور مذہبی مراکز سے علما نے ان کا بھر پور مقابلہ کیا اور انہیں خارج از اسلام قرار دیا۔ سیاسی تحریکوں میں علی گڑھ، دیوبند اور ندوہ کے علما نے علیحدہ علیحدہ دفاع کیا۔ سیاسی جدوجہد کے ساتھ علمی میدان میں بھی علما کا کردار بھر پور رہا۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا جہانوی نے تفاسیر لکھیں۔ محمود الحسن اور ابوالکلام آزاد سیاسی میدان میں اُتر آئے۔ ہندو مسلم تضاد کی حالت میں انگریز دشمن کی ریشہ دوانیوں اور ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے سیاسی فعالیت اور اشاعتِ تبلیغ کی ایک طویل جدوجہد کا آغاز ہوجاتا ہے۔‘‘
جی ہاں، طویل جدوجہد جو برصغیر کے مسلمانوں نے جھوٹے نبی اور ختم نبوت کے لیے جاری رکھی۔ حتیٰ کہ 1947ء کے بعد پاکستان میں بھی یہ جدوجہد مختلف مراحل طے کرتی رہی، لیکن عجیب المیہ یہ ہوا کہ پاکستان کی نئی کابینہ میں جناح صاحب نے وزارت خارجہ کا قلمدان ظفر اللہ خان قادیانی کو سپرد کیا۔ غرض جو انتظامی ڈھانچا ہمیں ورثے میں ملا تھا، اس میں قادیانی زیادہ اثر انداز تھے۔ مرزا غلام احمد کے پوتے ایم ایم احمد اور عزیز احمد کے علاوہ 103 افسروں میں فوج اور انتظامیہ میں ان کی کثیر تعداد موجود تھی۔ میجر جنرل آدم خان قادیانی تھے۔ لیاقت علی خان وزیراعظم کی شہادت سے پہلے قادیانی، مسلم لیگ میں ظفر اللہ کے ذریعے گھس چکے تھے۔ جمعیت علمائے پاکستان اور احرار پارٹی نے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مظاہرے کیے۔ ختمِ نبوت کو آئین میں شامل کرنے اور سر ظفر اللہ کو وزیرِ خارجہ کے عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
قارئین کرام! عبدالکریم بریالے نے پاکستان بننے کے بعد قادیانوں کے خلاف جدوجہد اور ختمِ نبوت کے حق میں مختلف اوقات میں تحریکیں چلانے کی پوری تاریخ باقاعدہ سلسلہ وار مرتب کی ہے۔ بریالے صاحب نے بہت محنت کی ہے۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد کیا ہوا؟ کراچی، ملتان، لاہور میں قادیوں کے خلاف کیسے جلسے جلوس ہوئے؟ غرض 1952ء سے لے کر جون 1953ء تک کتنے بدامنی اور شورش کے واقعات ہوئے؟ ملتان، لاہور میں گولیاں چلیں، بے گناہ لوگ شہید ہوئے۔ پنجاب میں دولتانہ حکومت نے عام لوگوں پر کتنے مظالم ڈھائے اور پھر آخرِکار 1974ء میں بھٹو صاحب کی حکومت میں آئین کے ترمیم شدہ قانون کے ذریعے احمدیوں کو ہمیشہ کے لیے ’’اقلیت‘‘ قرار دیا گیا۔ یہ کیسے ہوا اور کیوں کر ہوا؟ اس کے علاوہ اس کتاب میں عبدالکریم بریالے نے بہت سی سازشوں اور خفیہ فیصلوں سے پردے اٹھائے ہیں۔ وہ واقعی بریالے ہیں۔ انہوں نے کسی کا لحاظ نہیں رکھا، بلکہ پوری تفصیل سے اور مکمل غیر جانب دارانہ انداز سے ختمِ نبوت کے معاملے میں تاریخی حقائق بیان کیے ہیں۔ اس بارے میں عبدالکریم بریالے کے قلم نے جرأت اور بہادری کے ایسے معرکے سر کیے ہیں کہ اس سے پہلے کسی نے ایسی ہمت اور جرأت نہیں کی ہے۔ وہ معرکے سر کرنا اتنا آسان نہ تھا۔ بڑے بڑے جھوٹوں اور جغادریوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بریالے نے سچ کا سفر ایسے اندازِ دلربائی سے طے کیا ہے کہ اور کچھ ہو یا نہ ہو، کوئی خفا ہو یا خوش ہو، لیکن بریالے صاحب اپنے پیارے پیغمبر حضرت محمدؐ کے آگے ضرور سر خرو رہے ہیں۔ مَیں اُس کو اس خوبصورت علمی، تاریخی اور معلوماتی کتاب لکھنے پر مبارک باد دیتا ہوں اور ساتھ شکریہ ادا کرتاہوں کہ انہوں نے اپنے مبارک ہاتھوں سے ہمیں یہ علمی سوغات بہ طور تحفہ عنایت کی۔
دعا ہے کہ عبدالکریم بریالے کا زورِ قلم اور زیادہ ہو، آمین!

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔