
محمد جمیل جمیل کا چوخیل ایک ہمہ جہت اور کل وقتی ادیب ہے۔ اُس کا قلم جتنا ادب کا متلاشی ہے، اُتنا ہی تیز رفتار بھی ہے۔ وہ ادب کے ہر صنف پر لکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ اگر ایک جانب نظم و نثر میں طبع آزمائی کررہا ہے، تو دوسری جانب افسانوں کے میدان میں شاہ سواری کررہا ہے۔ تحقیق کے مشکل زینوں پر بھی چڑھنے کی کوشش کررہا ہے۔ اُس کی موجودہ قلمی کاوش ہے ”اوس دی یادونہ افسانے خکاری“ یعنی ”اب تمہاری یادیں افسانے دکھائی دیتی ہیں۔
یہ ایک تحقیقی کتاب ہے۔ 417صفحات پر مشتمل ایک ضخیم ادبی فن پارہ ہے جس میں پختونوں کے پرانے تہذیب و تمدن کے حوالے سے پوری تفصیلی صورت حال درج ہے۔ پختونوں کے پرانے رسم و رواج، رہائشی طور طریقے، گھروں کی صورتِ حال، مشترکہ خاندانی رہائشی سسٹم کے فوائد اور نقصانات، گھروں میں روز مرہ استعمال کی عام چیزیں، بچوں کے کھیل کود اور مشاغل، اُس وقت کے ذائقہ دار پھل، میوے، گاؤں کے اہم پیشے، زمین داری کے طور طریقے، پرانی زمین داری کے اوزار، کھیت کھلیانوں کے مشترکہ اجتماعی و امدادی بہبود کے پیشے، اُس وقت کے سکول اور کالج کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں، اُس وقت گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کے مزے، عیدیں منانے کی خوشیاں اور کھیل کود، شادی بیاہ کی پرانی رسموں اور رواجوں کی کہانیاں، حجرے اور مسجد کے روایتی طور طریقے اور مذہبی تہواروں کا احوال اس میں درج ہے۔ غرض یہ کتاب پختونوں کے حوالے سے ان کے پرانے تہذیب و تمدن کے پورے سماجی ڈھانچے کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ اپنے وجود اور بیانئے میں ایک طرح سے پورا تحقیقی انسائیکلو پیڈیا ہے۔
اس بارے میں چیئرمین پختو سانگہ ملاکنڈ یونیورسٹی ڈاکٹر علی خیل دریاب صاحب کچھ یوں فرماتے ہیں: ”اس کتاب کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ مصنف نے شعوری طور پر پشتون کلچر اور فوکلور کا وہ سرمایہ اور اثاثہ گم ہونے سے بچالیا ہے جو پختون قوم کے ماضی کے اجتماعی معاشرتی نظام کا خاصہ ہے۔ اس لیے میں اسے پختونوں کے لیے عموماً اور علاقائی باشندوں کے لیے خصوصاً فولکوری رنگینیوں، اجتماعی سرگرمیوں، کلچر کے ذخیروں، اور عوامی سماج کے لیے ایک خزانہ گردانتا ہوں۔“
محترم محمد جمیل جمیل کاچو خیل کی اس کتاب سے پہلے مختلف موضوعات پر اُردو اور پشتو میں نو عدد مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ اُن سب فن پاروں میں ایک بات مشترک ہے، وہ نظموں اور نثر کے مختلف منفی تحریروں میں سماجی تلخیوں اور مسائل پر بار بار قلم اٹھا چکے ہیں۔ سماجی بے انصافیوں اور معاشرتی ناسور کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔ پختونوں کی معاشرتی اور سماجی تباہی کا رونا رو چکے ہیں۔ وہ اپنی غزلوں اور نظموں میں وقت کے زہر اور وقت کے جبر کی نشان دہی کرچکے ہیں۔ اُس نے اپنے افسانوں میں بے نام نوحوں، سلگتی روحوں اور برزخی معاشرے کے سلگتے مسائل کا ذکر بہت دکھی دل اور زخمی جگر سے کیا ہے۔ وہ بعض اوقات لہو میں قلم ڈبو کر لکھنے والا ادبی فن کار لگتا ہے جس کی بعض تحریریں شاہکار لگتی ہیں۔
کتاب کے بارے میں تھانہ ملاکنڈ کے شہباز محمد صاحب یوں رقم طراز ہیں کہ ”مصنف کی یہ کتاب فولکور اور تہذیب کے لحاظ سے ایک ایسا خزانہ ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی بھی اس علاقے کے تہذیب و تمدن اور علاقائی بود و باش کے بارے میں تاریخ مرتب کرنے کی کوشش کرے گا، وہ مجبوراً اس کتاب سے فائدہ اٹھائے گا۔“
کتاب کا مصنف محمد جمیل جمیل کاچو خیل، تھانہ کے ایک تاریخی گاؤں الہ ڈنڈ کے ایک معزز خاندان کا حصہ ہے۔ اس کے باوجود سادگی کا پیکر ہے۔ وہ فقیرانہ اور عاجزانہ طرزِ زندگی گزارنے کا عادی ہے۔ اُس میں خاندانی غرور کا شائبہ ہے نہ ادبی غرور اور تکبر کا شکار ہی ہیں۔ مہمانوں کی قدر و منزلت اور مہمان نوازی کی عادت اس خاندانی خان کی فطرت میں کھوٹ کھوٹ کر بھری ہوئی ہے۔
کتاب کو پڑھتے ہوئے قاری ماضی کی حسین یادوں میں کھو جاتا ہے۔ وہ ماضی کی اس یادگار داستان میں اپنے آپ کو اس کا ایک افسانوی کردار سمجھنے لگتا ہے۔ وہ گرمیوں کی تپتی دوپہروں کو ندی نالوں کے کنارے دوستوں کے ساتھ کھیل کود اور جھیلوں میں خود کو چھلانگ لگاکر نہاتے ہوئے پاتا ہے۔ کبھی سردیوں کی لمبی راتوں میں دادی اماں سے لمبی کہانیاں سنتے ہوئے محسوس کرتا ہے۔ حجروں میں بیٹھ کر گپیں لگانا، ستار اور مٹکے کے ساتھ ٹپے گانا اور سننا،مکئی کے بھٹوں کو توڑ کر تراڑ ڈالنا، رات گئے آنکھ مچولی کھیلنا، ان سب کو سوچتے ہوئے انسان ماضی کی یادوں کے پنجے میں جکڑ جاتا ہے۔
محمد جمیل کاچوخیل نے بہت محنت سے تمام یادوں کو جمع کیا ہے۔ کھیلوں کو کھیلنے رسم و رواج، مذہبی تہواروں کو نبھانے کے عملی طریقہئ کار اور کردار نگاروں کے کردار پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ کسی قسم کی کمی اور تشنگی محسوس نہیں ہوتی۔ کتاب کو ایسے دلچسپ پیرائے میں لکھا گیا ہے کہ ایک بار شروع کرکے ختم کیے بغیر کوئی قاری رہ نہیں سکتا۔
کتاب کے آخری باب میں گاؤں محلے کی عام زندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ روزمرہ زندگی میں کیا مسائل پیش آتے تھے اور وقت اور ماحول کے لحاظ سے مسائل کا سامنا کیسے کیا جاتا تھا؟ اُس وقت کے امراض اور گھریلو علاج معالجہ پر بھی بحث کی گئی ہے۔ اس طرح غلط رسم و رواج، توہم پرستی، مذہبی غلط بیانی کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔
الہ ڈنڈ ایک تاریخی گاؤں ہے جو تھانہ ملاکنڈ ایجنسی میں واقع ہے۔ تھانہ پرانے زمانے سے سوات اور چکدرہ ملاکنڈ کا درمیانی سرحدی حد بندی قرار دی جاتی ہے۔ الہ ڈنڈ گاؤں کی تاریخی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ یہاں پختون یوسف زئیوں کے پہلے بادشاہ ملک احمد کا مزار ہے۔ الہ ڈنڈ اُس کے پختون ریاست کا ایک طرح سے صدر مقام تھا۔
محمد جمیل کاچو خیل اس بات پر بھی افسردہ نظر آتے ہیں کہ پشتو زبان کا قاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ پشتو زبان کی کتابوں سے دکانیں بھری پڑی ہیں۔ خاص کر پشتو نثر پڑھنے سے عام قاری بے زاری کا اظہار کررہا ہے۔ اس کی وجہ ایک تو کاچوخیل صاحب ان قلم کاروں پر ڈالتے ہیں جو اپنی قابلیت جتانے کے لیے سقیل اور مشکل پشتو لکھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ کچھ انگریزی سکولوں نے کمی پوری کردی اور رہی سہی کثر نئے پشتو املا نے پوری کردی۔ دراصل نئے پشتو املا سے پشتو کی کمر توڑی جا رہی ہے۔ پشتو زبان کی ہیئت، کیفیت، ماہیت اور معنویت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا پشتو کتاب کو کوئی سمجھتا نہیں، تو پڑھے گا کون اور خریدے گا کون؟
جمیل کاچو خیل صاحب اسے پشتو زبان کا ایک المیہ قرار دے رہے ہیں اور یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ پشتو زبان ایسی لکھی جائے جو چند شاعروں اور ادیبوں کے علاوہ عام پختون قاری کو بھی سمجھ آئے، ورنہ یہ زبان صرف بولی رہ جائے گی اور تحریر کے دائرے سے نکل جائے گی۔
یہ کتاب ہر پختون کے لیے پڑھنا لازمی ہے کہ وہ اپنی ماضی سے وابستہ رہے۔ یہ ایک تاریخ ہے۔ یہ ایک تحقیق ہے۔ ایک قوم کے ماضی کے تمام اثرات، نشانات، کھیل کود، زمین داری کے آلات، اُس کے نام اور استعمال کے طریقے، پرانے رسوم رواج، تاریخی روایات، زندگی کے طور طریقے، لباس، تہواریں، قصے داستانیں، گھریلو اشیا، امراض اور گھریلو ٹوٹکے، کھانے اور کھلونے غرض ہر اثاثہ اور سرمایہ جو گم ہونے، بھولنے بلکہ مٹنے کے قریب تھا، محمد جمیل کاچوخیل نے اُسے محفوظ کردیا۔
ایک پرانے تہذیب و تمدن کو زندہ کردیا۔ پرانے فولکور میں قلم کے ذریعے جان ڈال دی۔ اللہ تعالا جمیل کاچوخیل کی اس محنت میں برکت ڈالے، آمین!
مَیں اُسے اس تاریخی اور تحقیقی کاوش پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں اور ہر پختون سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو خرید کر پڑھے۔ مفت کتاب پڑھنے کی عادت ترک کردیں، تاکہ پشتو زبان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔ ایک خوبصورت ضخیم کتاب پر اور پختونوں کے ماضی کی تاریخ و تحقیق پر پانچ سو روپے دینا کوئی گھاٹے کا سودا نہیں۔ یہ ہر گھر کی ضرورت ہے اور ہر لائبریری کی زینت ہے۔
اللہ تعالا محمد جمیل جمیل کاچوخیل کا زور قلم اور زیادہ کرے اور اُسے پشتو، اُردو ادب میں مزید اضافہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔