کالم نگاری

بابائے پختو

روح الامین نایاب

✍️ کالم نگار: روح الامین نایاب

اشتہار / Advertisement

روح الامین نایابؔ
ایک چھوٹے قد کا انسان جو اپنے قد سے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دے رہا ہے، اُس کے چھوٹے سے سینے میں سمندر جیسا بڑا دل ہے جس کے فیض سے ہر چھوٹا بڑا فیضیاب ہو رہا ہے۔ اُس کی سادہ اور چھوٹی سی رہائش گاہ ”پختون کوٹ“ کے دروازے مہمانوں کے لیے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔ وہ خندہ پیشانی سے ملتا ہے، کھانا کھلاتا ہے، چائے پلاتا ہے، گپ شپ لگاتا ہے، خود ہنستا ہے، دوسروں کو ہنساتا ہے، اس طرح پورا ٹبر مہمان نوازی میں لگا رہتا ہے۔
وہ غریب آباد کا رہنے والا ہے۔ غریب آباد جو ایک عرصے سے تہکال بالا کے سنگ اور پشاور یونیورسٹی کی آغوش میں آباد چلا آرہا ہے۔ اُس وقت مال دار اربابوں کے تہکال بالا کے مقابلے میں یہ واقعی غیر آباد تھا، لیکن اب اس غریب آباد میں ایسے ایسے گن پیدا ہوگئے ہیں، ایسے ایسے ہسپتال جنم لے چکے ہیں کہ اب یہ آباد تو ہے لیکن غریب نہیں۔ اب اس غریب آباد کے نام میں وہ غربت نہیں رہی اب یہ غریب آباد نہیں بلکہ عجیب آباد بن چکا ہے۔ اب اس غریب آباد میں ایک رعب اور دبدبہ پایا جاتا ہے۔
وہاں رہنے والا اس چھوٹے قد کا آدمی ہر طرف چھایا ہوا ہے۔ وہ بیک وقت شاعر ہے اور نثر نگار بھی۔ پشتو میں سفرنامے لکھ رہا ہے، تو جنازوں کی روداد بھی لکھ رہا ہے۔ وہ پشتو میں شاعری کرتا ہے، تو مشاعرے بھی منعقد کراتا ہے۔ شکر ہے وہ جنازوں کے احوال لکھتا ہے، جنازے نکال نہیں رہا۔ شخصیات پر تو لکھتا ہے، لیکن آدھی کتاب اپنی شخصیت سے بھر لیتا ہے۔ تو جناب یہ حضرت ”سید صابر شاہ صابرؔ“ ہیں جس نے بابائے پشتو وزیر محمد گل خان لوئے افغان پر 160 صفحات کی کتاب لکھ کر اُس میں 53 اپنے لیے مخصوص کرلیے۔ چلیے، کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا تو بہتر ہوتا ہے اور یہاں تو بہت کچھ ہوا ہے۔ کیوں کہ یہ کتاب صابر شاہ صاحب نے 1997ء میں مکمل کی تھی، لیکن تنگ دستی کے باعث شائع نہ ہوسکی۔ پھر جولائی 1998ء میں یونیورسٹی بک ایجنسی نے شائع کرادی اور اس طرح صابر شاہ صاحب کے کندھوں سے ایک بھاری بوجھ اُتر گیا۔
لیکن دل پر ایک اور بھاری بوجھ لیے در در بھٹکتا رہا۔ اُسے بابائے پشتو کی داستانِ حیات اب بھی نامکمل محسوس ہو رہی تھی۔ آنکھیں بے چین اور دل بے قرار تھا۔ اس بے چینی نے اُسے چلتے چلتے افغانستان پہنچا دیا اور ”شہدائے صالحین“ کے تاریخی قبرستان میں اُسے افغانستان کے چھے صوبوں کے والی اور تمام افغانستان کے وزیرِ داخلہ کے وزیر محمد گل خان کے خاکی قبر کے سرہانے کھڑا کر دیا۔ یہ کابل کی ایک سرد شام تھی، جب صابر شاہ صابرؔ اس عاشقِ پشتو خوشحال خان ثانی کی قبر سے لپٹ لپٹ کر رو رہے تھے۔ دل کا بوجھ ہلکا کررہے تھے اور دوسری جانب یہ سوچ کر ہلکان ہو رہے تھے کہ آج پشتون نسل اپنے اس اتل کی زندگی کے احوال سے بے خبر غیر اقوام کے ہیروز کے سبق یاد کررہی ہے۔ اسے تاریخ کا جبر کہا جائے یا پشتون قوم کا المیہ کہ ہماری قوم کی تاریخی شان و شوکت مٹائی جارہی ہے۔ تاریخی سرمایہ کو کچلا جارہا ہے اور ہمیں تاریخ سے الگ کیا جارہا ہے۔
لیکن بابائے پشتو وزیر محمد گل خان کی داستان اب بھی نامکمل تھی اور ہمارے دوست صابر شاہ صابرؔ صاحب بے قرار تھے کہ کس طرح اس داستانِ حیات کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے؟ وہ جستجو میں لگے رہے۔ اُس کی لگن اور خلوص کو دیکھ کر قسمت نے بھی ساتھ دیا اور ایک دن بیٹھے بٹھائے اُسے میسج پر وزیر محمد گل خان کے نواسے کے بیٹے کا پیغام ملا۔ احتشام مومند نامی یہ نوجوان باہر ملک میں مقیم تھا۔ اس نے سید صابر شاہ صابرؔکا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس کے بابا ”لوئے افغان“ پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اب وہ اس کتاب کی تلاش میں ہے۔ پھر ہوتے ہوتے احتشام مومند کے ذریعے وہ وزیر محمد گل خان کے پورے خاندان سے ملا۔ پھر اُن کے تعاون سے سب نے اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن چھاپنے کا فیصلہ کیا جس میں وزیر محمد گل خان کے بارے میں نئی معلومات کے اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سے عام پشتون کی نئی نسل کو بابائے پشتون کے کارناموں سے آگاہی ہوجائے گی۔
بقولِ سید صابر شاہ صابرؔ اس دوسرے ایڈیشن میں شبیر احمد مومند اور نذیر احمد جان کی اضافی معلومات نے کتاب کی اہمیت، حیثیت اور اِفادیت اور بڑھا دی ہے۔ کیوں کہ شیر احمد خان مومند کوئی اور نہیں وزیر محمد گل خان کا داماد ہے، جو وزیر بابا کی صرف ایک بیٹی آمینہ بی بی کا شوہر تھا جب کہ نذیر احمد خان آمینہ بی بی کی بیٹی کا شوہر تھا، تو اس حوالے سے یہ دونوں قدرمند اور قابلِ احترام بزرگ ہیں۔ اس لیے میں نے جو معلومات ان دونوں سے لی ہیں وہ معتبر اور قابل اعتماد ہیں۔
سید صابر شاہ صابرؔ ہر وقت پشتو زبان کے حوالے سے پشتون تاریخ ساز شخصیتوں کے حوالے سے سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ بقولِ پریشان داؤد زی، اگر ہمارے دوست صابر شاہ سو عیب بھی رکھتے ہوں، لیکن میری نظر میں اس کی ایک خوبی تمام عیبوں پر بھاری ہے کہ اس نے اپنی زبان اور ادب کی خدمت کے لیے کمر کس لی ہے۔ وہ پختون راہنماؤں پر سیمینار منعقد کررہا ہے۔ ان کے کارناموں کے دن منا رہا ہے۔ صابر شاہ نے اب تک اتنا کچھ کیا ہے کہ بہت سے سرکاری اداروں اور پختونوں کے کسی سیاسی گروپ یا تنظیم نے بہت سے وسائل اور ذرائع ہونے کے باوجود نہیں کیا ہوگا۔
اس حوالے سے یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ صابر شاہ صابرؔ 1994ء سے اب تک مسلسل پشتون راہنماؤں پر سیمینار منعقد کر رہا ہے۔ وزیر محمد گل خان سے لے کر احمد شاہ بابا، پٹہ خزانہ اور نصر اللہ خان نصر تک اب تک اس پہلوان نے 42 سیمینار منعقد کروائے ہیں۔ اُس میں اب بھی 4 مارچ کو ایمل خان بابا پر ایک شان دار سیمینار بھی شامل ہے، جو صابر شاہ صابر کی کوششوں سے منعقد ہوچکا ہے۔ اس کی کامیابی کا سہرا بھی باچا جی کے سر ہے۔ علاوہ ازیں نئی اچھی خبر یہ ہے کہ افغانستان میں وزیر محمد گل خان کے نام سے پشتو اکیڈمی کی داغ بیل ڈالی جارہی ہے۔ افغانستان میں اس کے ڈائریکٹر جنرل نذیر احمد خان مومند ہوں گے جو وزیر بابا کی نواسی کے شوہر ہیں۔ جب کہ خیبر پختونخوا میں اس کے کرتا دھرتا صابر شاہ صابر صاحب ہوں گے۔
بابائے پختو وزیر محمد گل خان مومند 1885ء صوبہ ننگر ھار کے ایک گاؤں فاتح کلی میں پیدا ہوئے۔ حسن خیل مومند قبیلے کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔ والد عبدالرحیم خان اپنے وقت کے اہم سیاسی راہنما تھے۔ وہ خود بہت سے سرکاری عہدوں پر کام کرچکے تھے۔ اُس نے بیٹے کو مروجہ تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔ اُس کی ہر طریقہ سے پرورش کی۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر محمد گل خان اپنی وطن دوستی، ایمان داری اور خلوص و محنت کے بل بوتے پر پورے افغانستان کے وزیرِ داخلہ کے عہدے تک پہنچ گئے۔ نیز وہ پورے افغانستان کے تمام صوبوں کے گورنر رہ چکے ہیں۔ عدل و انصاف اور مساوات کے علمبردار تھے۔ وہ ایک عوامی آدمی تھے اور عوام کے بہت قریب تھے۔
افغانستان کی مشہور ادبی شخصیت اُستاد دیختین وزیر محمد گل خان کے بارے میں کہتے ہیں کہ افغانستان میں ادبی پشتو کو مَیں، جیبی، اُلفت، خادم اور بینوا نے پروان چھڑایا اور تربیت کی۔ لیکن سیاسی پشتو کو بلا شبہ محمد گل خان مومند نے ترقی دی اور یہ کام بہت مشکل اور بھاری تھا۔ وہ ہمارے سر پر سایہ کی طرح تھے۔ اگر وزیر محمد گل خان کا زور اور تعاون نہ ہوتا، تو ہم کسی بھی طرح اتنا کام نہیں کرسکتے تھے۔ مشکل کام میں ہم اُن کی طرف ہی رجوع کرتے اور وہ ہمارے مسائل حل کرتے۔ یہ اُنہی کی کوششیں تھیں کہ 1962ء میں ایک بڑے جرگے کے اجلاس میں پشتو زبان کو افغانستان کی ملی زبان قرار دیا گیا۔
وزیر صاحب جب قندھار میں گورنر تھے، تو انہوں نے پختون قلم کاروں، ادیبوں کو بلایا اور اُن سے صلاح و مشورہ کے بعد تین نومبر 1932ء کو ”پختو ادبی انجمن“ کے نام سے ایک علمی و ادبی ادارے کی بنیاد ڈالی۔
افغانستان کے زیریں پختونخوا میں 70، 80 فیصد پختون رہتے ہیں۔ اس کے باوجود پشتو زبان یہاں کی تعلیمی زبان رہی نہ دفتری۔ خصوصاً کابل میں دو فیصد لوگ بھی پشتو زبان نہیں بولتے تھے، نہ وہاں کے اخباروں اور رسالوں میں پشتو زبان کی کوئی حیثیت اور جگہ ہی تھی۔
یہ محمد گل خان ہی تھے جس نے پشتو زبان کو جاری رکھنے اور ترقی دینے کے لیے زبردست تحریک چلائی۔ اس کی کوششوں اور جد و جہد سے وہ وقت بھی آیا کہ دری زبان والے بھی پشتو زبان میں درخواستیں لکھا کرتے تھے۔ یوں افغانستان میں پشتو زبان لکھنا ہر کسی کی مجبوری بن گئی۔ وہ رسالے اور اخبارات جن میں پشتو زبان کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اب سارے کے سارے پشتو میں تبدیل ہوگئے تھے۔ ریڈیو میں بھی پشتو کو زیادہ وقت دیا جانے لگا۔ اس طرح پشتو زبان کو ترقی دینے کے لیے ”پشتو اکیڈمی کابل“ کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس لیے تو پختونوں نے محمد گل خان کو ”بابائے پختو“ جیسے بڑے خطاب سے نوازا۔ یہ بلا شبہ اُس اتل کا حق بنتا تھا۔
1955ء میں اعلا حضرت محمد ظاہر شاہ کی طرف سے ایک بہت بڑے جرگے کی تشکیل ہوگئی۔ جرگے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی نائب صدارت محمد گل خان مومند کے حوالے کی گئی۔ یہ اعزاز بھی وزیر صاحب کے دیگر اعزازات کے علاوہ وہ بھاری اعزاز تھا جس نے وزیر صاحب کی عزت و برکت میں اضافہ کیا۔
ایک دفعہ وزیر محمد گل خان ملاقات کے لیے اعلا حضرت محمد ظاہر شاہ سے ملنے کے لیے چلے گئے۔ بادشاہ فارسی زبان میں بات کررہا تھا جب کہ وزیر صاحب پشتو میں جواب دے رہے تھے۔ آخرِکار بادشاہ کو کہنا پڑا کہ میں پشتو سمجھتا ہوں لیکن اس میں بات چیت کرنے سے مجبور ہوں۔ جواباً وزیر صاحب نے کہا کہ یہی حال میرا ہے۔ مَیں فارسی سمجھتا ہوں لیکن اس میں بات چیت نہیں کرسکتا۔ شاہ ظاہر شاہ تھوڑی دیر وزیر صاحب کو حیرانی سے تکتے رہے لیکن خاموش رہے۔
وزیر محمد گل خان افغانستان کے سیاسی راہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی شخصیت تھے۔ اُس نے پشتو نثر اور نظم دونوں میں طبع آزمائی کی ہے۔ اُس نے پشتو گرائمر پر بھی ایک ضخیم کتاب لکھی ہے، جو پشتو ادب اور پشتو زبان پر احسانِ عظیم ہے۔ اُس نے نادر شاہ کے ساتھ مل کر افغانستان سے برطانوی پٹھو بچہ سقہ کی بادشاہت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نادر شاہ اور اُس کے تمام بھائی وزیر محمد گل خان کی بہت عزت کرتے تھے۔
160 صفحات کی اس کتاب میں سید صابر شاہ صابرؔ نے وزیر محمد گل خان کی شخصیت کا احاطہ کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ یہ ایک تحقیقی مقالہ بھی ہے اور تاریخی دستاویز بھی۔ ایک ایسی تاریخی دستاویز جس سے آنے والی نسلیں یقینا مستفید ہوں گی۔
کتاب میں وزیر محمد گل خان کے اہم سیاسی اور ادبی کارنامے بیان کیے گئے ہیں۔ جگہ جگہ دلچسپ واقعات نے کتاب کی اہمیت اور خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے۔ آخری صفحات میں خوبصورت یادگاری تصاویر نے کتاب کی خوبصورتی کو دو چند کردیا ہے۔ میرے خیال میں ہر پشتون کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ ہر پشتون کا فرض ہے کہ وہ اپنی تاریخ اور تاریخ ساز شخصیات سے آگاہی حاصل کرے۔ اس چھوٹی سی کتاب میں صابر شاہ نے وزیر محمد گل خان کے بارے میں دلچسپ تاریخی معلومات سے قارئین کو مستفید کیا ہے، جو کہ بلا شبہ لائقِ تحسین اقدام ہے۔
مَیں سید صابر شاہ صابرؔ کو اس تاریخی کارنامے پر مبارک باد دیتا ہوں اور توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنے قلمی جہاد کو جاری و ساری رکھیں گے اور پشتون قوم اور پشتو زبان کی خدمت کو اپنی منزل مقصود جانیں گے۔ اللہ تعالا ہم سب کواپنی نعمتوں سے نوازے، آمین!

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔