
کوروناوباکی تیسری لہرکی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ نظامِ زندگی ایک مرتبہ پھر ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ کار و بار توکسی نہ کسی شکل میں جاری و ساری ہے۔ کوئی آن لائن کر رہا ہے، تو کوئی ایسے ہی محوِ کاروبار ہے۔ کھیل کھیلے جا رہے ہیں، جہاں خوشی کے موقع پر ایک دوسرے سے بغل گیر ہونا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ وائرس توصرف تعلیمی اداروں پر اثر انداز ہو رہا ہے؟ کیوں کہ یہاں کوروناکا”شدید خطرہ“ جو ہے۔
قارئین، یہ دوسراسال جاری ہے۔ ہم تعلیمی میدان میں روزبروززوال پذیرہورہے ہیں۔ بچے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اُن میں اکثریت توان حالات پر خوش اورمطمئن ہے، جب کہ کچھ حساس طلبہ و طالبات ان حالات سے تنگ آچکے ہیں۔ جو بھی ہو بچوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔
اگر دیکھا جائے، تو نفسانی موت سے اس دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے اور جسم کو دفنا دیا جاتا ہے، لیکن تعلیمی موت کے نتیجے میں زندہ جنازے اُٹھائے جاتے ہیں اور خمیازہ قوم کو مستقبل کی شکل میں اُٹھاناپڑتا ہے۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم، ملک، نسل، خاندان یا علاقہ ترقی نہیں کرسکتا۔ تاریخ پر نظر دوڑائی جائے، تو دنیا میں جتنی اقوام یا علاقے غلام رہے ہیں، اُن کے ہاں تعلیم کو یکسر پسِ پشت ڈالاگیاتھا۔
ہمارے آبا و اجداد کے زمانے میں حکمرانوں نے عمارات، تفریحی مقامات اور دوسری تعمیرات پرتوخصوصی توجہ دی تھی جب کہ تعلیم کویکسر نظراندازکرکے عوام کو جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا تھا۔ اُس زمانے کے ہمارے بڑے بزرگ دو تین جماعتوں سے آگے تعلیم حاصل نہیں کر پائے تھے۔ ریاستِ دیر کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں تعلیم کے شوقین کو ریاست بدر کیا جاتا تھا۔ دوسری طرف ریاستِ سوات میں تعلیم کی مد میں بڑے اقدامات کیے گئے تھے۔ آج نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ آج سوات تعلیم کی مد میں بڑے بڑے ضلعوں کے مدِمقابل ہے۔
قارئین کرام! کورونا وباکی وجہ سے پہلے ہی ہمارا ایک قیمتی سال ضائع ہوچکا ہے۔ چند ہفتے تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد اب دوبارہ بندہوچکے ہیں، جس کے نتیجے میں نوجوان نسل کا جو تعلیمی نقصان ہونے جا رہا ہے اس کا اِزالہ شائد ہی ممکن ہو۔
خدارا! ان حالات میں تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے دور رس اقدامات اُٹھائے جائیں، تاکہ ہمارے بچے زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوسکیں۔ ایک مفید شہری بن کے اپنی زندگی گزارسکیں۔ ان حالات پرقابوپانے اور حکومت کا سہولت کار بننے کے لیے ہمیں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ اپنے بچوں کوخصوصاًاوراَڑوس پڑوس کے بچوں کو عموماً تعلیمی ماحول مہیا کیا جائے۔ اُن کی راہنمائی کی جائے۔ مسجدوں، بازاروں اور دوسرے عوامی مقامات پر”تعلیم سب کے لیے“ کاپیغام دیا جائے اور سب سے بڑھ کریہ کہ جوکوئی اس وباکی حالت میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ رہے ہیں، اُن کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
آخر میں اہلِ دانش سے یہ گزارش کروں گا کہ وہ اس قومی المیے کاصحیح ادراک کریں، تاکہ نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ پورے ملک و قوم کو ان گھمبیرحالات سے نکالا جاسکے۔
جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالا ہم سب کا حامی و ناصر ہو، آمین!